سقراط کے پیروکار کا قتل

سقراط اپنے دور کے نوجوانوں کو سچ اور حق کا سبق دیتا تھا۔


Zaheer Akhter Bedari May 01, 2017
[email protected]

LAS VEGAS: مردان یونیورسٹی میں پاکستان کی تاریخ کا بدترین وحشیانہ کھیل کھیلا گیا، ایک 23 سالہ نوجوان مشال کو پہلے گولی ماری گئی اور ڈنڈوں، لاتوں، گھونسوں سے مار مار کر قتل کردیا گیا۔ اسی پر وحشیوں کے انتقام کی آگ ٹھنڈی نہ ہوئی، مشال کو دوسری منزل سے نیچے پھینک دیا گیا۔ یہ کارنامہ ذہنی معذور جہلا نے انجام نہیں دیا بلکہ اعلیٰ تعلیم یافتہ نوجوانوں نے انجام دیا اور اپنے اس کارنامے پر بھنگڑا ڈالتے رہے۔

مشال کا قصور کیا تھا، وہ یونیورسٹی کی کارکردگی پر بے دھڑک تنقید کرتا تھا اور سچ بولنے کا گنہگار تھا۔ 23 سالہ نوجوان جو صحافی بننے کی خواہش رکھتا تھا' ملک اور ساری دنیا کے میڈیا کی پہلی سرخی بن گیا۔ مشال سقراط اور گلیلو کا پیروکار تھا۔ سقراط اور گلیلو نے بھی سچ بولنے کا جرم کیا تھا جس کی سزا انھیں موت کی شکل میں دی گئی۔ یہ تاریخ انسانی کی ایسی بربریت تھی جس نے انسانیت کا چہرہ مسخ کردیا تھا۔ کلیسائی کے عقیدے کے مطابق سورج زمین کے گرد گھومتا تھا۔

گلیلو نے تحقیق اور مطالعے کے بعد کہا ''سورج زمین کے گرد نہیں گھومتا بلکہ زمین سورج کے گرد گھومتی ہے۔'' گلیلو کا یہ سچ کلیسائی کے عقائد کے خلاف تھا' سو انھوں نے گلیلو کو سزائے موت سنادی۔ گلیلو کو سزائے موت سنانے کا کام کسی مشتعل ہجوم نے نہیں کیا بلکہ اس وقت کے مروجہ قانون اور انصاف کے اداروں نے کیا۔

مردان یونیورسٹی میں اعلیٰ تعلیم یافتہ جہلا کے ہجوم نے مشال کو سزائے موت سنائی اور خود ہی اس سزا پر اس وحشیانہ انداز میں عملدرآمد کردیا کہ دیکھنے اور سننے والے دل پکڑ کر رہ گئے۔ پچھلے دنوں امام کعبہ ایک سیاسی مذہبی جماعت کے جشن صد سالہ میں شرکت کے لیے پاکستان تشریف لائے تھے۔ امام صاحب نے فرمایا تھا کہ اسلام امن اور آشتی کا مذہب ہے۔ مردان یونیورسٹی کے مجاہدین نے مشال کو مذہب کے نام پر بہیمانہ بلکہ وحشیانہ طریقے سے قتل کرکے امام کعبہ کے ارشادات کی اس طرح نفی کی کہ دنیا انگشت بدنداں رہ گئی۔

سقراط اپنے دور کے نوجوانوں کو سچ اور حق کا سبق دیتا تھا، سقراط کی سچائی چونکہ اس دور کے عقائد سے متصادم تھی لہٰذا جھوٹ کے علمبرداروں کو سقراط کا سچ پسند نہ آیا ان جہلا نے سقراط کے ہاتھوں میں زہر کا پیالہ تھما دیا اور حکم دیا کہ وہ اس زہر کو پی لے۔ سقراط تو زہر پی کر دنیائے سچ کا شہید بن گیا لیکن جن افراد نے انھیں سزائے موت سنائی وہ آج تک سچ کے شہر پر کف افسوس مل رہے ہیں۔

دہشت گردی اس وقت ایک عالمی مسئلہ بن گئی ہے اور بدقسمتی سے اس بربریت کو بھی مذہب کا لبادہ اوڑھا دیا گیا ہے۔ دنیا کا ہر مذہب قابل احترام اس لیے ہے کہ مذہب انسان کی ضرورت بن گیا ہے ۔اسلام تو بقول امام کعبہ امن و آشتی کا مذہب ہے پھر وہ لوگ کون ہیں جو مذہب کے تقدس کو پامال کر رہے ہیں۔ ہر قوم کی درس گاہیں حیوان کو انسان بنانے کا فریضہ انجام دیتی ہیں لیکن یہ کیسا نظام ہے کہ ہماری درس گاہیں انسانوں کو حیوان بنا رہی ہیں۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس ظلم کا اصل ذمے دار کون ہے۔

وزیراعظم میاں محمد نواز شریف نے فرمایا ہے کہ ''قوم متحد ہوکر مشال کے قتل کی مذمت کرے'' میاں صاحب کی دختر نیک اختر نے کہا ہے کہ ''ہجوم کا انصاف ذہنی پستی کی علامت ہے'' ۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ مشال کا بہیمانہ قتل کوئی اتفاقی واقعہ ہے یا اس ذہنیت کا تسلسل ہے جو درس گاہوں میں پروان چڑھ رہی ہے؟ اگر یہ اتفاقی المیہ نہیں ہے تو پھر اس کا علاج کیا ہے۔

پہلی بات تو یہ ہے کہ ہمارے پھس پھسے اور جانبدارانہ قانون میں اتنی جرأت نہیں کہ وہ قاتلوں کو قرار واقعی سزا دے، دوسری بات یہ ہے کہ قانون کی ناک سرعام کٹنے سے بچانے کے لیے کسی قسم کی سزا دی بھی گئی تو کیا اس قوم کے جرائم ختم ہوجائیں گے؟ دہشت گردی جو 9/11 کے واقعے سے شروع ہوئی تھی آج ساری دنیا میں پھیل گئی ہے، لیکن اس کی ابتدا کیسے ہوئی۔

روس کی افغانستان میں آمد کے بعد ہماری سرکار نے درس گاہوں ہی میں دہشتگردی کی کاشت شروع کی اور یہی طلبا آگے چل کر مختلف تنظیموں سے جڑ گئے اور یوں دہشتگردی نے عالمی ہونے کا احساس کر لیا۔ اس حوالے سے دلچسپ اور المناک حقیقت یہ ہے کہ دنیا پر حکمرانی کا خواب دیکھنے والی دہشتگردی خود اپنے ہم مذہبوں میں گندی گالی بن کر رہ گئی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اس دہشتگردی کے سب سے زیادہ شکار خود مسلمان ہو رہے ہیں۔

اب تک 60 ہزار سے زیادہ پاکستانی اور مسلمان مذہبی انتہا پسندی کا شکار ہو چکے ہیں، عراق، شام، یمن، افریقہ سمیت تقریباً سارے مسلم ملکوں میں دہشتگردی ایک موذی مرض کی طرح پھیلی ہوئی ہے اور معصوم مسلمان مرد عورت معصوم بچے اس کا شکار ہو رہے ہیں۔ دنیا میں تبلیغ مذہب کا سلسلہ صدیوں سے جاری ہے، جس کی مخالفت بھی ہوتی رہی ہے، لیکن یہ تبلیغ اندھی مخالف سے اس لیے بچی رہی کہ یہ ہمیشہ پرامن رہی، لیکن دہشتگردوں کی تبلیغ بے گناہ مسلمانوں کے خون میں لت پت ہے تو پھر اسے عوامی مقبولیت کیسے مل سکے گی۔

جس ہجوم نے مشال کو انتہائی بیدردی سے قتل کیا میں اس ہجوم کو گنہگار نہیں سمجھتا۔ گنہگار اور اصل مجرم وہ ہیں جو نوجوانوں کے ذہنوں میں انتہا پسندی کا زہر گھول رہے ہیں۔ ضیاء الحق نے بھٹو کو سزائے موت اس جرم میں دلوادی کہ وہ اعانت قتل کا مجرم ٹھہرایا گیا تھا۔ ضیاء الحق کو مرد مومن کہا جاتا تھا، اسی مردمومن نے محض اپنے اقتدار کو خطرے سے بچانے کے لیے بھٹو کو تختہ دار پر لٹکا دیا، اس مرد مومن کے اس اقدام سے یہ ثابت ہو جاتا ہے کہ قتل سے زیادہ سنگین جرم اعانت قتل ہوتا ہے۔

مردان یونیورسٹی کے طلبا نے بلاشبہ ایک بہیمانہ جرم کیا ہے لیکن یہ طلبا ہی مجرم نہیں بلکہ اصل مجرم وہ لوگ ہیں جو نوجوانوں کی برین واشنگ کر کے معصوم طلبا کو وحشی بنا رہے ہیں۔ کاش پس منظر میں رہنے والے اکابرین کو اندازہ ہوتا کہ ساری دنیا ہم سے کتنی نفرت کر رہی ہے، ہمیں جاہل قوم کہہ رہی ہے۔

مقبول خبریں