مزدور خوشحال تو ملک خوشحال

سرمایہ دارانہ نظام میں مزدوروں کو ان کے بہت سے بنیادی حقوق سے محروم کر دیا گیا ہے


Editorial May 02, 2017

گزشتہ روز پاکستان سمیت دنیا بھر میں یوم مئی مزدور کے حقوق کے تحفظ اور فلاح کا عہد کرتے ہوئے پورے جوش و خروش سے منایا گیا۔ اس موقع پر روز گار کے مسائل حل کرنے اور اس کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے مزدوروں نے ریلیاں نکالیں اور سیمینارز منعقد کیے۔

یوم مئی کے حوالے سے سابق صدر آصف علی زرداری نے حکومتی پالیسیوں کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ نجکاری کے نام پر ملازمین کو ملامتوں سے برطرف کرنے کی اجازت نہیں دیں گے' یوم مئی منانے کا مقصد یہ عہد دہرانا ہے کہ مزدوروں کے وقار کا تحفظ کریں گے اور انھیں باعزت روز گار کی فراہمی یقینی بنائیں گے۔

پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے وزیراعلیٰ ہاؤس کراچی میں یوم مزدور کی مناسبت سے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مزدوروں کی فلاح پیپلز پارٹی کی ہمیشہ ترجیح رہی' پی پی پی کے گزشتہ دور حکومت میں سرکاری اداروں کے 12فیصد حصص محنت کشوں کے نام کرنے کی حکمت عملی اپنائی گئی لیکن موجودہ حکومت نے اسے بند کر دیا۔ وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے کہا کہ محنت کشوں نے ملکی ترقی میں اہم کردار ادا کیا ہے' صنعتوں کا پہیہ محنت کش طبقے کے زور بازو سے ہی چلتا ہے۔

یوم مئی ان مزدوروں کی یاد میں منایا جاتا ہے جو 1886ء میں شکاگو میں محنت کشوں کے اوقات کار مقرر کرانے اور ان کے حقوق کے حصول کی خاطر احتجاج کرتے ہوئے پولیس کی گولی کا نشانہ بن گئے تھے۔ اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ ہر دور میں سرمایہ دار طبقے نے مزدور کا استحصال کیا جو آج بھی جاری ہے' خون پسینہ مزدور کا بہتا اور صلہ آجر کو دولت میں اضافے کی صورت میں ملتا ہے اور مزدور بھرپور محنت کے باوجود روز مرہ کی ضروریات بمشکل پوری کر پاتا ہے۔

سرمایہ دار طبقے کے ہاتھوں مزدور کے اس استحصال کو روکنے کے لیے کمیونسٹ نظام نے انقلابی اقدامات کیے اور سرمایہ دار طبقے کو بھی محنت کرنے پر مجبور کر دیا۔ کمیونسٹ نظام کے بڑھتے ہوئے سیلاب کو روکنے کے لیے سرمایہ داری نظام بھی اپنی بقا کے لیے مزدور کو ان کے حقوق دینے پر مجبور ہو گیا' اوقات کار کی حد 8گھنٹے پر عملدرآمد شروع ہو گیا ' طبی اور دیگر سہولتیں مہیا کی گئیں۔

افغانستان میں روس کی پسپائی کے بعد کمیونسٹ نظام کی حدیں سکڑنا شروع ہوئیں تو میدان خالی پا کر سرمایہ دارانہ نظام نے مزدور کا استحصال شروع کر دیا اور مزدوروں کو دی گئی بہت سی مراعات میں کمی کرنا یا انھیں واپس لینا شروع کر دیا۔ آج بھی بہت سے ممالک میں مزدوروں سے 8گھنٹے سے زائد مشقت لی جاتی ہے۔

پاکستان میں کمیونسٹ نظام کی طرح مزدوروں کو حقوق دیے گئے' فیکٹریوں میں اگرچہ معمولی سطح پر صحت کی سہولتیں فراہم کی گئیں لیکن اب سرمایہ دارانہ نظام میں مزدوروں کو ان کے بہت سے بنیادی حقوق سے محروم کر دیا گیا ہے' ایک جانب علاج اور دوائیں مہنگی ہوتی چلی جا رہی ہیں تو دوسری جانب فیکٹریوں میں صحت کی سہولتیں ناپید ہوتی چلی جا رہی ہیں۔ سرکاری اور غیر سرکاری اداروں میں مزدوروں' ہنرمندوں اور اعلیٰ افسران کی تنخواہوں اور مراعات میں بلند اور واضح تفاوت کے باعث نچلے طبقے میں بے چینی پائی جاتی ہے۔ متعدد نجی اداروں میں مزدوروں کو حکومت کے مقرر کردہ معیار سے بھی کم تنخواہیں دی جاتی ہیں اور بعض اداروں میں تو کئی کئی ماہ تنخواہیں نہیں ملتیں۔

دوسری جانب افسوسناک امر یہ ہے کہ اس سرمایہ دارانہ نظام میں ہونے والے اس استحصال کے خلاف مزدور کی کہیں شنوائی بھی نہیں ہوتی۔ قوانین ہونے کے باوجود ان پر عملدرآمد نہیں کیا جاتا۔ ڈیلی ویجز کا نظام مزدوروں کے استحصال کی ایک شکل ہے' حیرت انگیز امر یہ ہے کہ بعض سرکاری اداروں میں بھی ورکروں کو ملازمت کا تحفظ دینے کے بجائے انھیں مخصوص نشستوں پر ڈیلی ویجز یا کنٹریکٹ پر بھرتی کیا جاتا ہے اور ہر وقت ملازمت سے برطرفی کی تلوار ورکر کے سر پر لٹکتی رہتی ہے۔ جب سرکاری اداروں کا یہ حال ہے تو نجی اداروں میں کیا صورت حال ہو گی اس کا اندازہ لگانا قطعی مشکل نہیں۔

حکومت کے اس استحصالی ہتھکنڈے کو دیکھتے ہوئے نجی ادارے بھی اسی ڈگر پر چل نکلے ہیں اور ورکر کو کنٹریکٹ پر بھرتی کر کے اسے متعدد مراعات اور بہتر تنخواہ کے حق سے محروم کر دیتے ہیں۔ حکمران ہر سال یوم مئی پر مزدوروں کے استحصال کے خاتمے اور ان کے حقوق کے تحفظ کا وعدہ کرتے ہیں مگر ان کے یہ وعدے صرف الفاظ تک محدود رہتے اور انھیں عملی جامہ پہنانے کی نوبت نہیں آتی۔ حکومت مزدوروں کے حقوق کے تحفظ اور ان کی بہتری کے لیے انقلابی اقدامات اٹھائے کیونکہ اس ملک کا مزدور اور محنت کش خوشحال ہو گا تو ملک خوشحال ہو گا۔