مشترکہ مفادات کونسل میں اہم فیصلے

ترقیاتی کاموں میں کرپشن کے ناسور نے سر اٹھایا۔یہی ملک کا سب سے بڑا مسئلہ ہے


Editorial May 04, 2017
فوٹو؛ پی آئی ڈی

ISLAMABAD: وزیر اعظم محمد نواز شریف نے کہا ہے کہ ماضی میں ترقیاتی منصوبے کبھی بروقت مکمل نہیں کیے گئے اور لاگت میں اضافہ معمول بن گیا لہٰذا آیندہ تمام منصوبوں کو منظور شدہ لاگت اور نظام الاوقات کے اندر نہایت شفافیت کے ساتھ مکمل کیا جائے۔ انھوں نے ان خیالات کا اظہار منگل کو مشترکہ مفادات کونسل کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا۔ اجلاس میں چاروں صوبوں کے وزرائے اعلیٰ، پٹرولیم، پانی و بجلی، خزانہ ، سیفران، مذہبی امور، سمندر پار پاکستانیوں، دفاعی پیداوار، موسمیاتی تبدیلی، منصوبہ بندی و ترقی کے وفاقی وزراء نے شرکت کی تاہم بین الصوبائی رابطہ کے وزیر ریاض پیرزادہ استعفیٰ دینے کے سبب شریک نہیں ہوئے۔ سیکریٹری بین الصوبائی رابطہ نے گزشتہ اجلاس میں کیے گئے فیصلوں پر عملدرآمد کے بارے میں آگاہ کیا۔

وزیراعظم نے ترقیاتی منصوبوں کی بروقت اور طے شدہ شیڈول کے مطابق تکمیل کی جس ضرورت پر زور دیا ہے اس پر ملکی معیشت کی شفافیت کا انحصار ہے، ملکی تاریخ میں منصوبوں پر آنے والی لاگت میں نوکر شاہانہ تساہل ، عدم شفافیت، جوابدہی کے فقدان اور بدعنوانیوں کے باعث کروڑوں کے منصوبے اربوں کے خسارے میں ڈھلتے رہے اور کھربوں کی لاگت کے منصوبوں کے تعمیراتی معیار میں گھپلوں اور کرپشن کی ان گنت کہانیوں سے وزارتوں کے دبستان کھولے جاتے رہے ہیں۔

آج ملک میں کرپشن ''ٹاک آف دی کنٹری''ہے، عدلیہ فعالیت کے ریکارڈ قائم کرچکی ہے، ملک احتساب کلچر سے آشنا ہونے لگا ہے، زمینی خداؤں کی ٹانگیں لرز رہی ہیں، اسی طرح مشترکہ مفادات کونسل کا اپنا آئینی مقام ہے جو ان تمام ایشوز کا بہترین اور موثر ترین فورم ہے جہاں صوبائی سربراہان حکومت وزیراعظم اور سینئر حکام کی موجودگی میں اپنے دل کی بھڑاس نکال سکتے ہیں، مشاورت سے قومی مفادات کے تحفظ کو یقینی بنایا جا سکتا ہے جہاں تلخ بحثیں بھی انجام کار اتفاق رائے پر منتج ہوجاتی ہیں ، یہ امر خوش آیند ہے کہ مشترکہ مفادات کونسل نے کچھی کینال کی تعمیر میں بدعنوانی میں ملوث تمام حکام کو عبرتناک سزا دینے کا فیصلہ کیا ہے۔

اجلاس میں وفاقی حکومت اور صوبائی حکومتوں کی طرف سے50، 50فیصد حصہ کی بنیاد پر 177.661 ارب کی مجموعی لاگت سے سیلاب سے بچاؤ کے قومی منصوبے کے چوتھے مرحلے کے لیے سرمائے کی فراہمی کی منظوری دی گئی۔ ایل این جی کی درآمد کے ایجنڈا آئٹم پر یہ فیصلہ کیا گیا کہ اس حوالے سے سمری آرا طلب کرنے کے لیے صوبوں کو بھیجی جائے گی اور اسے آیندہ اجلاس میں پیش کیا جائے گا، سی سی آئی نے چھٹی مردم اور خانہ شماری پر اطمینان کا اظہار کیا۔ وزارت خزانہ نے یقین دلایا کہ مردم شماری انتہائی شفافیت کے ساتھ مقررہ مدت کے اندر مکمل کی جائے گی۔

وفاقی وزیر پانی و بجلی نے اجلاس کو بتایا کہ واپڈا اور حکومت پنجاب کے درمیان خالص ہائیڈل منافع کے تصفیہ کے حوالے سے امور طے کرلیے گئے ہیں جس میں واپڈا نے حکومت پنجاب کے حق میں 38.12 ارب روپے مالیت کا پرامیسری نوٹ جاری کیا ہے جب کہ خالص ہائیڈل منافع واجبات کی وصولی کے لیے نیپرا کے پاس دائر کرنے کے لیے ٹیرف پٹیشن زیر غور ہے، سی سی آئی نے بجلی کی پیداوار ، ترسیل اور تقسیم ایکٹ 1997ء کے قواعد میں ترمیم کی بھی منظوری دی ہے۔ اجلاس کا ایجنڈا 12 نکات پر مشتمل تھا جس میں نیشنل واٹر پالیسی، بزرگ شہریوں کے لیے مراعات، گیس پیدا کرنے والے علاقوں کو گیس کی فراہمی جیسے معاملات شامل تھے، اجلاس میں نئی قومی پانی پالیسی میں ملک میں پانی کی تقسیم سمیت 2025ء تک کے پانی سے متعلقہ دیگر معاملات کا جائزہ لیا گیا۔

اجلاس میں ایل این جی کی درآمد کے لیے صوبوں سے اگلے اجلاس میں تجاویز طلب کی گئیں۔ مشترکہ مفادات کونسل کے اجلاس کے دوران وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے ایل این جی پالیسی کی منظوری اور صوبوں میں گیس کی فراہمی کا معاملہ اٹھایا۔ آن لائن کے مطابق وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے کہا 1200کیوسک پانی کراچی کا حق ہے اور کراچی میں پانی کی سخت کمی ہے، انھوں نے کہا ملک بھر میں پانی کے ذخائر کے حوالے سے بہتر پالیسی بنائی جائے تاکہ صوبوں کو پانی کی کمی کا سامنا نہ ہو۔

اجلاس میں کراچی میں کے فور واٹر منصوبہ پر عملدرآمد کے حوالے سے بھی غور و خوض کیا گیا۔ پٹ فیڈر اور کیرتھر کینال کو پانی کی فراہمی کے معاملے کا بھی جائزہ لیا گیا۔ وزیراعلیٰ بلوچستان ثناء اللہ زہری نے بلوچستان میں لوڈشیڈنگ کا معاملہ اٹھایا ۔ وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا نے بجلی کے خالص منافع، گیس کی فراہمی اور قدرتی گیس کی رائلٹی کے معاملات اٹھائے ۔ وزیراعظم نوازشریف نے تمام وزرائے اعلیٰ کے تحفظات سننے کے بعد یقین دہانی کرائی کہ کسی صوبے کے ساتھ زیادتی نہیں ہوگی اور تمام صوبوں کو ان کے مختص کوٹے کے مطابق حق دیا جائے گا۔

جمہوریت اسی لیے حکومت کو تنگ گلی سے بچاتی ہے کہ اس میں ارباب اختیار کو اس حقیقت کا ادراک ہوتا ہے کہ سارے کام اور باہمی بحث و تمحیص ملک وقوم کے مفاد میں ہیں، کوئی ذاتی جھگڑا نہیں۔ اجلاسوں میں صوبے اپنا کیس پیش کرتے ہیں، گذشتہ دنوں گیس ایشو پر سندھ ، وفاق ٹکراؤ کی ضرورت نہ تھی ، مشترکہ کونسل کس مرض کا علاج تھی ، اس کے اجلاس میں سنگین ترین مسائل کا حل نکالا جا سکتا ہے اور میڈیا پر سرکس لگانے کی ضرورت نہیں ہوتی۔ افسر شاہی کا خاموش احتساب ہوسکتا ہے، مجرمانہ غفلت پکڑی جا سکتی ہے، ملک اربوں کے خسارے اور کرپشن کی بدنامی سے بچ سکتا ہے، اس لیے مشترکہ مفادات کونسل کے سیکریٹریٹ کی اہمیت مسلم ہے، اس کی خود مختار حیثیت اور مستقل بجٹ کی منظوری کی سفارشات توجہ کی مستحق ہیں۔ کرپشن کے باب سیاہ میںکک بیک، کمیشن ، مالیاتی گٹھ جوڑ جیسی متنوع اصطلاحات نے جنم ہی اس لیے لیا کہ قوم کو مستقبل کی صورت گری ، زمینی حقائق اور معیشت سے متعلق ہمہ گیر مشترکہ مفادات کی نگرانی پر مامور اداروں سے کوئی مدد نہ مل سکی، با اثر لوگ اور صاحب ثروت خاندان ملکی خزانہ چاٹ گئے۔

ان کا احتساب اب مشترکہ کونسل میں ہونا چاہیے، اس کی فیصلہ جاتی طاقت وفاق اور صوبوں کے مابین خیر سگالی کو بڑھاوا دے ، اشتراک عمل کے ساتھ ساتھ قومی یکجہتی کی ضرورتوں سے کسی درجہ پر صرف نظر نہ ہو۔ وفاق اور صوبوں کے مابین ترقیاتی منصوبوں کے لیے فنڈز کے اجرا اور دیگر قومی اہمیت کے ایشوز کے تصفیہ کے لیے مشترکہ مفادات کونسل کی اہمیت دو چند ہوگئی ہے، جس میں گذشتہ چند سالوں میں بجٹ میں مختص شدہ رقوم اور وسائل کی تقسیم ، محاصل ، بجلی، پانی کی تقسیم ، ٹیکس پول، منصوبوں میں پائی جانے والی رکاوٹوں اور بین الصوبائی شکایات پر کھل کر بحث ہوتی رہی ، یاد رکھنے کی ضرورت ہے کہ صوبوں کے عوام کے مفادات، ان کی امنگوں اور اقتصادی ضروریات کا خیال رکھنے کی حکومتی پالیسیوں کا فقدان ہی اداروں میں زوال کا سبب بنا اور ترقیاتی کاموں میں کرپشن کے ناسور نے سر اٹھایا۔یہی ملک کا سب سے بڑا مسئلہ ہے۔