بھارت میں بڑھتی ہوئی انتہا پسندی اور جنونیت

ملک کے مختلف حصوں میں گائے کا گوشت کھانے کے الزام میں کئی مسلمانوں کو قتل کیا گیا ہے


Zaheer Akhter Bedari May 04, 2017
[email protected]

بھارت کا سیکولر ازم جہاں بھارت کی یکجہتی کا ضامن بنا ہوا تھا وہیں اس خطے میں فرقہ وارانہ جنون کے خلاف بھی ایک آہنی دیوار کا کام دے رہا تھا لیکن اس بدقسمتی کو کیا کہیے کہ سیکولر بھارت مذہبی جنون میں بدلتا جا رہا ہے۔ ویسے تو کانگریسی حکومت کے دور ہی میں مذہبی جنون کے واقعات رونما ہونے لگے تھے جس کا سب سے بڑا شاہکار بابری مسجد کا انہدام تھا لیکن جب سے بھارتی جنتا پارٹی برسر اقتدار آئی ہے یہ جنون اس لیے سر چڑھ کر بولنے لگا ہے کہ بی جے پی بھارت میں ہندوتوا کو لاگو کرنے پر اصرار کر رہی ہے۔

اس ریاستی پالیسی کی وجہ سے مذہبی انتہا پسند طاقتیں بے لگام ہو رہی ہیں۔ بھارت میں پاکستانی فنکاروں کے خلاف نفرت کے مسلسل مظاہروں کے بعد اب گاؤ ماتا کے تحفظ کے نام پر مسلمانوں کے ساتھ مظالم کا سلسلہ جاری ہے۔ ملک کے مختلف حصوں میں گائے کا گوشت کھانے کے الزام میں کئی مسلمانوں کو قتل کیا گیا ہے حتیٰ کہ ان لوگوں کو بھی نہیں بخشا گیا جو ٹرکوں میں جانور مویشی منڈی لے جا رہے تھے اب یہ سلسلہ اس قدر دراز ہوگیا ہے کہ بھارت کا کوئی علاقہ اس وبا سے بچا ہوا نہیں ہے۔

کہا جاتا ہے فن اورفنکار کی کوئی سرحد نہیں ہوتی لیکن جب فرقہ واریت کا زہر پھیل جاتا ہے تو ملکوں کے درمیان ہی نہیں بلکہ صوبوں شہروں اورگاؤں کے درمیان بھی سرحدیں کھڑی کردی جاتی ہیں۔ اب بھارت میں یہی ہو رہا ہے۔ گجرات کے مسلمان کش فسادات کے ہیرو نریندر مودی کو ہندوستان کے عوام نے وزیر اعظم منتخب کرکے خود اپنے لیے دوسروں سے زیادہ مصیبتیں کھڑی کرلی ہیں۔ حیرت ہے کہ بھارت کے عوام نے گجراتی مسلمانوں کے قاتل مودی کو وزیراعظم بناکر دنیا کوکیا پیغام دیا ہے کیا دنیا بھارت میں بڑھتے ہوئے اس ٹرینڈ کو پسند کرے گی؟

اتر پردیش بھارت کی وہ ریاست ہے جہاں سب سے زیادہ مسلمان رہتے ہیں، سابقہ حکومتوں کے دوران اترپردیش اسمبلی میں بڑی تعداد میں مسلم نمایندے موجود تھے لیکن حالیہ انتخابات میں بی جے پی نے اس پانچ کروڑ مسلم آبادی کی ریاست میں ایک مسلمان کو بھی اپنا نمایندہ نامزد نہیں کیا۔ اتر پردیش کی ریاستی اسمبلی میں پانچ کروڑ مسلمانوں کی نمایندگی نہ ہونے سے جہاں فرقہ وارانہ زیادتیوں کا کلچر ابھرتا ہے وہیں خود حکمران جماعت کی تنگ نظری لوگوں کو یہ سوچنے پر مجبور کردیتی ہے کہ بھارت اب ایک سیکولر ملک نہیں رہا بلکہ ایک ہندو ریاست بن رہا ہے۔

اس مذہبی تفریق کا سلسلہ جاری ہی تھا کہ بھارت کی اتر پردیش اسمبلی میں ایک ایسا بل منظورکیا گیا، جس کے مطابق اتر پردیش میں عید میلادالنبی اور جمعۃ الوداع سمیت مسلمانوں کے پندرہ تہواروں کی چھٹیاں منسوخ کردی گئیں، اگرچہ اس حوالے سے عظیم شخصیات کے یوم پیدائش پر تعلیمی اداروں میں ایک گھنٹے کی ہفتہ وار نشست کا اہتمام کیا جا رہا ہے لیکن مسلمانوں کی پندرہ چھٹیوں کی منسوخی سے اقلیتوں میں جو تشویش اور خدشات پیدا ہوں گے، اس کا ازالہ کس طرح کیا جائے گا؟ برصغیر میں صوفیائے کرام کا کردار ہمیشہ سیکولر رہا ہے، ان کے ماننے والوں میں ہر مذہب سے تعلق رکھنے والے شامل ہیں صوفیا برصغیر میں مذہبی یکجہتی رواداری اور برداشت کے امین رہے ہیں ۔ بھارت میں صوفیا کے مزاروں پر ہر مذہب کے ماننے والے اپنے معاشی دکھ لے کر جاتے ہیں بیماریوں وغیرہ سے نجات کے لیے بھی ہر مذہب کے ماننے والے صوفیا کا دروازہ ہی کھٹکھٹاتے ہیں کیا ان صوفیا کے یوم پیدائش پر کی جانے والی چھٹی منسوخ کرنے سے انتہا پسند مسلم طاقتوں کو کیا پیغام ملے گا؟

اترپردیش میں یوگی ناتھ کو وزیر اعلیٰ بنایا گیا ہے، جن کے بارے میں خیال ہے کہ ان کا تعلق ہندو انتہا پسند طبقات سے ہے اترپردیش میں یوپی جیسے تہذیب وتمدن کے علاقے ہیں۔ ایسی ریاست میں اصولاً ایک غیر متعصب اور اعلیٰ تعلیم یافتہ وزیر اعلیٰ کا تقرر ہونا چاہیے تھا، لیکن یوگی ناتھ اپنے حلیے ہی سے اک کٹر ہندو نظر آتے ہیں۔کیا اس طرز فکر کا اتر پردیش جیسی مہذب ریاست میں وزیر اعلیٰ عوام کے لیے قابل قبول ہوسکتا ہے؟

مسلم انتہا پسندی آج جس مقام پر کھڑی ہے وہاں وہ اپنے پرائے کی تمیز کھو بیٹھی ہے۔ آج اس انتہا پسندی کا سب سے زیادہ شکار خود مسلمان ہورہے ہیں۔ یہ سلسلہ جو مذہبی انتہا پسندی سے مذہبی دہشت گردی تک پھیلا ہوا ہے اس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ ہمارے حکمران طبقات اپنے سیاسی مفادات کے حصول اور تحفظ کے لیے مذہبی انتہا پسندوں کو نہ صرف تحفظ فراہم کرتے رہے بلکہ ان سے سیاسی مفادات بھی حاصل کرتے رہے۔ اس نظریاتی بددیانتی کی وجہ سے آج پوری دنیا میں مذہبی انتہا پسندی دہشت گردی کی شکل میں ایک خطرناک وبا کی طرح پھیلی ہوئی ہے۔

بھارت کا حکمران طبقہ اس لیے مطمئن ہے کہ ابھی بھارت اس انتہا پسندی سے بچا ہوا ہے جو مسلمانوں کا مقدر بن گئی ہے لیکن اگر بھارت کا حکمران طبقہ دہشت گردوں کے حوالے سے مسلم حکمرانوں کے نقش قدم پر چلتا رہا تو وہ دن دور نہیں ہو جب بھارت کا ہر علاقہ ہر شہر بموں کے دھماکوں، ادھڑی ہوئی لاشوں سے اٹا ہوا ہوگا۔ کیا اس مقام تک پہنچنے سے بچا جاسکتا ہے؟ اس سوال کا جواب بھارت کے ڈیڑھ ارب اور دنیا کے 7 ارب انسان بھارتی حکمرانوں سے مانگ رہے ہیں۔

مقبول خبریں