کچھ نہ سمجھے خدا کرے کوئی

کرۂ ارض پر بسنے والے اربوں انسان صدیوں سے ایک مخصوص سماجی اور اقتصادی پیٹرن پر چل رہے ہیں


Zaheer Akhter Bedari May 05, 2017
[email protected]

کرۂ ارض پر بسنے والے اربوں انسان صدیوں سے ایک مخصوص سماجی اور اقتصادی پیٹرن پر چل رہے ہیں، سماجی اونچ نیچ، اقتصادی عدم مساوات، عقائدی رنگا رنگی، مذہب و ملت، رنگ، نسل، زبان کے حوالے سے تعصبات اور نفرتیں، جنگیں، ہتھیاروں کی تیاری اور تجارت، غرض کرۂ ارض پر بسنے والا انسان بے شمار مسائل کی زنجیروں میں بندھی زندگی کے دن پورے کرتا ہے اور راہی ملک عدم بن جاتا ہے۔

ان مسائل کا احساس جن اہل علم اور اہل دانش کو ہے وہ خود بھی اس تقسیم کا شکار ہیں۔ ذرا یمن، شام، عراق اور افریقی ممالک پر نظر ڈالیے، ان ملکوں کے بے گناہ اور معصوم عوام کیسے کیسے عذابوں سے گزر رہے ہیں، خود اپنے ملک پاکستان اور پڑوسی ملکوں افغانستان اور بھارت پر نظر ڈالیے، دہشت گردی، مذہبی انتہاپسندی کے دلدل میں گردن گردن تک پھنسے ہوئے ہیں، نسلوں سے رہنے والے ملکوں کو چھوڑ کر مغربی ملکوں کی طرف بھاگ رہے ہیں، معصوم بچے اور خواتین ہمراہ ہیں۔ کشتیوں میں بھیڑ بھاڑ کی وجہ سے کشتیاں ڈوب رہی ہیں، ایک موت سے بچنے کے لیے نکلنے والے دوسری اس سے زیادہ بھیانک موت کا شکار ہو رہے ہیں۔

بھارت میں مذہبی انتہاپسندی تیزی سے بڑھ رہی ہے، کشمیر میں آگ اور خون کی ہولی کھیلی جا رہی ہے۔ فلسطین میں قتل و غارت کا سلسلہ جاری ہے۔ شمالی کوریا اور امریکا ایک دوسرے سے برسرپیکار ہیں۔ امریکی صدر فرما رہے ہیں شمالی کوریا کے جوہری اور بیلسٹک میزائل پروگرام کے تناظر میں بہت بڑا تنازع شروع ہوسکتا ہے، جو ایک بڑی جنگ کی طرف جا سکتا ہے۔ چینی صدر کہہ رہے ہیں جزیرہ نما کوریا میں صورتحال قابو سے باہر ہوسکتی ہے۔ امریکا چین پر زور دے رہا ہے کہ وہ شمالی کوریا کو خط میں جوہری تجربات سے باز رکھے۔ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ہم مذاکرات چاہتے ہیں لیکن ہمارے پاس عسکری آپریشن کا آپشن بھی موجود ہے۔

میں سوچ رہا ہوں شمالی اور جنوبی کوریا کیوں دو حصوں میں تقسیم ہوگئے۔ میں سوچ رہا ہوں جرمنی کو دو حصوں میں کیوں بانٹا گیا، میں سوچ رہا ہوں 1947 میں متحدہ ہندوستان دو ملکوں میں کیوں تقسیم ہوگیا۔ میں سوچ رہا ہوں 1947 میں 22 لاکھ انسان کس جرم میں قتل کردیے گئے، میں سوچ رہا ہوں کشمیر میں 70 ہزار سے زیادہ کشمیری کس جرم میں جان سے گئے، میں سوچ رہا ہوں فلسطین میں اب تک لاکھوں فلسطینی کیوں مارے گئے، میں سوچ رہا ہوں پہلی اور دوسری عالمی جنگیں کیوں لڑی گئیں ان جنگوں میں کروڑوں افراد کیوں مارے گئے، میں سوچ رہا ہوں مسجدوں، امام بارگاہوں میں بم دھماکے کیوں ہوتے ہیں، ان جگہوں پر عبادت کے لیے آنے والوں کے جسموں کے چیتھڑے کیوں اڑ جاتے ہیں، میرے ذہن میں یہ سوال کیوں ابھرتا ہے کہ کم عمر نوجوان پیٹ سے خودکش جیکٹ باندھ کر خود کے اور دوسروں کے جسموں کے ٹکڑے کیوں کر رہے ہیں؟

ترقی یافتہ ملکوں میں ہتھیاروں کی صنعت میں کھربوں ڈالر کیوں لگائے جا رہے ہیں۔ ہر ملک کا دفاعی بجٹ اربوں ڈالر تک کیوں پہنچ رہا ہے، ہر ملک لاکھوں افراد پر مشتمل فوجیں رکھنا کیوں ضروری سمجھتا ہے۔ کرۂ ارض پر جغرافیائی لکیریں کھینچ کر سیکڑوں ملک کیوں بنا دیے گئے ہیں، اگر اس کا مقصد انسانوں کی شناخت ہے تو پھر ان جغرافیائی لکیروں کے تحفظ کے لیے جنگیں کیوں لڑی جاتی ہیں، ہر ملک میں ہزاروں مسجدیں، ہزاروں مندر، ہزاروں گرجا گھر موجود ہیں، جہاں عبادت کی جاتی ہے، ان عبادت گاہوں کو نفرتوں کے پرچار کے لیے کیوں استعمال کیا جاتا ہے۔ رنگ نسل زبان قومیت کے نام پر ایک انسان دوسرے انسان سے نفرت کیوں کرتا ہے۔ قومی مفادات کیا ہیں ان میں تضادات کی وجہ کیا ہے؟

اس تقسیم کے علاوہ ایک اور طبقاتی تقسیم موجود ہے ایک طرف 80 فیصد سے زیادہ انسان ہیں جو دو وقت کی روٹی کے لیے سارا دن خون پسینہ ایک کرتے ہیں، دوسری طرف دو فیصد وہ انسان ہیں جو قوموں کی 80 فیصد دولت پر قبضہ کیے بیٹھے ہیں، جن کا ہر روز، روز عید، ہر شب، شب برات ہے، ایسا کیوں ہے۔ کہا جاتا ہے یہ سب تقدیر کے کھیل ہیں۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ 80 فیصد انسانوں کی قسمت میں بھوک بیماری بے روزگاری کیوں ہے؟ خدا اپنی مخلوق کے ساتھ ایسا ظلم نہیں کرسکتا۔ یہ سارا کھیل ان انسانوں کا ہے جو غریبوں کی محنت کی کمائی پر سانپ بن کر بیٹھے ہیں، غریب طبقات کو قابو میں رکھنے کے لیے قسمت کا چکر چلا رہے ہیں۔

دنیا سے غربت دور کرنے کے لیے امیر ملک غریب ملکوں کو اربوں ڈالر کی امداد دے رہے ہیں لیکن یہ اربوں کی امداد راستے ہی میں گم ہوجاتی ہے غریب اور غریب امیر اور امیر ہو رہا ہے۔ کہا جاتا ہے دنیا کی دولت کا 80 فیصد حصہ دو فیصد اشرافیہ کے ہاتھوں میں مرکوز ہے جب 80 فیصد دولت صرف دو فیصد اشرافیہ کے ہاتھوں میں جمع ہوجائے گی تو 80 فیصد انسان تو غریب ہی رہیں گے۔

آئے دن ہمارے اخباروں میں بھوک سے تنگ آئے ہوئے لوگوں کی انفرادی اور اجتماعی خودکشیوں کی خبریں چھپتی ہیں۔ اگر یہ ناانصافیاں ہیں تو ان کا حل کیا ہے۔ انسانی فطرت ہے کہ وہ اپنی ایک ایک پائی کی حفاظت کرتا ہے اقتدار اختیارات کو ان مظالم کے جاری رکھنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ کیا دنیا کے ہزاروں معاشی ماہرین دانشور ادیب شاعر مفکر فلسفی ان مسائل ان ناانصافیوں پر غور کرتے ہیں۔ اگر کرتے ہیں تو ایک ایسا نظام وضع کیوں نہیں کرتے جو ان تمام برائیوں اور مظالم کو ختم کرسکے؟

مقبول خبریں