مقبوضہ کشمیر شہدا کی یاد میں مکمل ہڑتال تصفیہ کشمیرتک امن نہیں ہو سکتا علی گیلانی

21جنوری1990کوبھارتی فوجیوں نےسرینگرکےعلاقے گائوکدل میں پرامن مظاہرین پرفائرنگ کرکےبچوں سمیت 52 شہری شہیدکردیےتھے.


APP January 22, 2013
کشمیری قوم اپنے حق خودارادیت کے بارے میں بہت زیادہ حساس ہیں، مسئلہ حل ہونے تک مطمئن نہیں ہوں گے،بزرگ رہنما. فوٹو: اے ایف پی فائل

مقبوضہ کشمیرمیں سرینگرکے علاقے گائوکدل میںشہداء کی یادمیں مکمل ہڑتال ہوئی۔

کشمیر میڈیا سروس کے مطابق1990 میں 21جنوری کو بھارتی فوجیوںنے سرینگرکے علاقے گائو کدل میں پر امن مظاہرین پر بلااشتعال فائرنگ کرکے بچوں سمیت 52بے گناہ شہریوں کو شہید کر دیا تھا۔گائوکدل ، مائسمہ ، بڈشاہ چوک اور بسنت باغ سمیت شہر کے مختلف علاقوںمیںتمام دکانیں اور تجارتی مراکز بند رہے۔ ادھر بزرگ کشمیری حریت رہنما سید علی گیلانی نے کہاہے کہ مسئلہ کشمیر کو کشمیری عوام کی خواہشات کے مطابق حل کیے بغیر جنوبی ایشیا میں پائیدار امن اور استحکام قائم نہیں ہوسکتا ۔



کشمیر میڈیاسروس کے مطابق سید علی گیلانی نے کنٹرول لائن پر فائرنگ کے واقعات کی وجہ سے پیدا ہونے والی پاک بھارت کشیدگی میں کمی پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہاکہ جب تک بھارت اور پاکستان کشمیر کے دیرینہ مسئلے کا پائیدار حل تلاش نہیں کرتے دونوں ہمسایہ جوہری طاقتوں کے درمیان تباہ کن جنگ کا خطرہ ہمیشہ برقرار رہے گا۔ بزرگ رہنما نے کہاکہ کشمیری قوم اپنے حق خودارادیت کے بارے میں بہت زیادہ حساس ہیں اور جب تک ان کی خواہشات کے مطابق مسئلہ کشمیر کوحل نہیں کیا جاتا وہ مطمئن نہیںہونگے۔