بورژوا سیاست میں دوستی اور دشمنی
پاناما لیکس کے حوالے سے سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد ایک بار پھر ’’گو نواز گو‘‘ کے نعرے گونج رہے ہیں
پاناما لیکس کے حوالے سے سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد ایک بار پھر ''گو نواز گو'' کے نعرے گونج رہے ہیں لیکن اس بار ان نعروں میں 2014ء جیسی طاقت بھی نظر نہیں آ رہی کیونکہ نواز شریف کا جادو اس قدر پر اثر اور بامعنی ہے کہ اس قسم کے نعرے اب اپنی اہمیت کھو بیٹھے ہیں۔
دوسری طرف ابھی تک اپوزیشن کا کوئی ایسا متحدہ محاذ وجود میں نہیں اس کا جو تحریک کی شکل اختیار کر سکے، اس کی وجہ یہ ہے کہ اپوزیشن میں شامل جماعتوں کے سیاسی اور جماعتی مفادات متضاد ہیں۔ جماعت اسلامی عوامی مسائل کے حوالے سے جو دھرنا تحریک چلا رہی ہے، بلاشبہ عوامی مسائل کی سیاست قابل ستائش ہوتی ہے لیکن اصل مسئلہ یہ ہے کہ حکومت نے پچھلے چار سال میں بجلی کی لوڈشیڈنگ کے حوالے سے کوئی ایسی منصوبہ بندی کی ہی نہیں کہ 2018ء تک بجلی کی لوڈشیڈنگ کا مکمل خاتمہ ہو سکے۔
اگرچہ حکومت اب بھی یہی دعوے کر رہی ہے کہ 2018ء تک بجلی کی لوڈشیڈنگ ختم کر دی جائے گی لیکن باخبر حلقے لکھ رہے ہیں کہ 2018ء تک لوڈشیڈنگ کا مکمل خاتمہ ممکن نہیں، لیکن حکومت اب اپنے وعدوں کے حوالے سے ایک ایسی جگہ پہنچ گئی ہے کہ اگر 2018ء تک بجلی کی لوڈ شیڈنگ کا خاتمہ نہ کیا گیا تو 2018ء کے الیکشن میں موجودہ حکومت یعنی (ن) لیگ کو سخت عوامی ردعمل کا سامنا کرنا پڑے گا۔
اس تناظر میں اگر ہم جماعت اسلامی کی ''کے الیکٹرک'' کے خلاف دھرنا تحریک پر نظر ڈالیں تو اندازہ ہوتا ہے کہ یہ تحریک صرف عوامی حمایت حاصل کرنے کی تحریک ہے۔ اس حوالے سے دوسری اہم بات یہ ہے کہ جماعت اسلامی پاناما لیکس کے حوالے سے میڈیا میں حکومت پر تنقید کرتی نظر تو آ رہی ہے لیکن یہ ایشو اب تک جماعت کا مرکزی ایشو نہیں بن سکا ہے۔ یہی حال دوسری مذہبی جماعتوں کا ہے۔
مولانا فضل الرحمٰن تو کھلے عام حکومت کے اتحادی ہیں لہٰذا جے یو آئی کا حکومت کے خلاف کسی سیاسی اتحاد میں شامل ہونے کا دور دور تک کوئی امکان نہیں۔ مسلم لیگ (ق) کے چوہدری برادران پاناما لیکس کے حوالے سے زوردار بیانات دے رہے ہیں لیکن ان کی سیاسی طاقت ''ہر چند کہیں کہ ہے، نہیں ہے'' سے زیادہ اہمیت نہیں رکھتی۔ سیاسی مطلع پر اب اپوزیشن میں صرف دو جماعتیں ایسی نظر آتی ہیں جو کسی حد تک سیاسی ہلچل پیدا کر سکتی ہیں، ان میں ایک عمران خان کی تحریک انصاف ہے، دوسری پیپلز پارٹی ہے۔
ہمارے خان بابا کی سیاست بھی طرفہ تماشا بنی ہوئی ہے، وہ جب اتحاد کا تقاضا ہوتا ہے نفاق کی طرف چلے جاتے ہیں۔ اس وقت بھلے برے پیپلز پارٹی ہی ایک ایسی جماعت ہے جو کم از کم سندھ کے حوالے سے عوام کو کسی حد تک متحرک کر سکتی ہے لیکن خان صاحب نے غیر ضروری طور پر پی پی سے پنگا لے کر اپنے خلاف ایک اور محاذ کھول لیا۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر خان اس موقع پر پیپلز پارٹی کے خلاف سنگ باری نہ کرتے تو اس سے ان کا کیا نقصان ہوتا؟
خان صاحب کا موقف یہ ہے کہ مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی ایک ہی سکے کے دو رخ ہیں لہٰذا پیپلز پارٹی سے حکومت کے خلاف کسی تحریک میں شمولیت کی امید حماقت کے سوا کچھ نہیں۔ بجا، درست لیکن خان صاحب اگر بورژوا سیاست کے اسرار و رموز سے واقف ہوتے تو پھر وہ اس حقیقت سے واقف ہوتے کہ اس سیاست میں سیاسی پالیسیاں سیاسی مفادات کے تابع ہوتی ہیں، اصول اخلاقی قدریں اس سیاست میں حماقت کا درجہ رکھتی ہیں۔ پیپلز پارٹی کی اولین ترجیح 2008ء سے 2013ء تک کی جانے والی سیاست کا ازالہ کرنا ہے اور وہ حالات حاضرہ میں حکومت مخالف سیاست ہی سے ممکن ہے۔
عوام کو متحرک کرنے والی پارٹیوں میں متحدہ بھی شامل ہے اگرچہ کہ مہربانوں نے اس کا تیا پانچہ کر دیا ہے لیکن اس گئی گزری حالت میں بھی وہ بڑا مجمع اکٹھا کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ سندھ حکومت سے متحدہ مایوس ہے، وہ اپنے سروائیول کے لیے مسلم لیگ (ن) کی طرف دیکھ رہی ہے۔ سندھ میں تحریک انصاف کا نہ تنظیمی ڈھانچہ موجود ہے نہ اسٹریٹ پاور ہے، ایسی صورت میں ایک ساتھ سب سے پنگا لینے کا مطلب اپنے آپ کو سیاسی تنہائی کا شکار کرنے کے علاوہ اور کیا ہو سکتا ہے؟
اس میں کوئی شک نہیں کہ آج بھی دیگر سیاسی جماعتوں کے مقابلے میں خان صاحب بڑے مجمعے اکٹھا کر سکتے ہیں لیکن خان صاحب کا بڑے سے بڑا ہجوم دو تین لاکھ عوام کا ہو سکتا ہے۔ کیا اس ملک کی 20 کروڑ کی آبادی میں دو تین لاکھ عوام کوئی بڑی طاقت بن سکتے ہیں؟ بورژوا سیاست میں ہر سیاسی جماعت کا اولین مقصد حصول اقتدار ہوتا ہے اور اس سیاست میں حصول اقتدار کے لیے انتخابات سے گزرنا پڑتا ہے اور انتخابی سیاست میں مرکزی کردار پنجاب ادا کرتا ہے اس حقیقت سے میاں برادران پوری طرح واقف ہیں اسی لیے وہ پنجاب میں انوکھا داؤ لگا کر مطمئن بیٹھے ہیں۔
خان صاحب سندھ میں بھی پسپا ہو رہے ہیں ار پنجاب میں بھی اپنے قدم نہیں جما سکے ہیں۔ خان صاحب اداروں کی مضبوطی کے لیے وزیر اعظم بننا چاہتے ہیں اور وزیر اعظم بننے کے لیے یا تو انتخابی مرحلے سے گزرنا پڑتا ہے یا پھر 1977ء جیسے حالات پیدا کر کے ''بڑوں کی دعاؤں'' کے ساتھ آگے بڑھنا پڑتا ہے۔ بدقسمتی سے عمران خان دونوں محاذوں پر بہت کمزور دکھائی دیتے ہیں۔