شام میں امن کے دھندلے اشارے

شام کی خانہ جنگی کے نتیجہ میں ہزاروں لاکھوں افراد ہلاک و بے گھر ہو چکے ہیں


Editorial May 08, 2017
۔ فوٹو: فائل

غیر ملکی میڈیا کے حوالے سے ملکی میڈیا کی اطلاعات کے مطابق شام کے مغربی علاقوں میں باغیوں اور سرکاری فوج کے درمیان طویل عرصہ سے جاری جنگ کو ختم کرنے پر اتفاق ہوا ہے اور اس پر اگلے روز سے عمل درآمد بھی شروع ہو گیا ہے۔ یہ جنگ بندی روس کی کوششوں کے نتیجے میں عمل میں آئی ہے تاہم یہ اطلاعات بھی ہیں کہ شام کے شہر حما میں لڑائی اب بھی جاری ہے۔

واضح رہے شام کی خانہ جنگی کے نتیجہ میں ہزاروں لاکھوں افراد ہلاک و بے گھر ہو چکے ہیں جب کہ ملک کے جنگ زدہ علاقوں سے نکل کر پناہ کی تلاش میں جانے والے متعدد خاندان اپنے بال بچوں سمیت محفوظ مقامات کی تلاش میں سمندر میں ڈوب جانے کے باعث لقمہ اجل بن چکے ہیں۔

اطلاعات کے مطابق جنگ بندی کی تجویز روسی صدر پیوٹن نے اپنے شامی ہم منصب بشارالاسد کو دی جو انھوں نے قبول کر لی۔ اس سلسلے میں ترکی اور ایران نے بھی روسی تجویز کا ساتھ دیا تاہم صدر بشارالاسد کے سیاسی مخالفین نے اس تجویز کو مسترد کر دیا ہے لیکن شامی حکومت نے اس تجویز کی حمایت کی ہے' شام میں حقوق انسانی کی نگرانی کرنے والی ایک تنظیم کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ جنگ بندی پر عمل درآمد ابھی شروع ہوا ہے مگر یہ کہنا مشکل ہے کہ کب تک یہ جاری رہ سکے گا۔

یاد رہے یہ خانہ جنگی گزشتہ چھ سال سے جاری ہے جس میں اب روس اور ایران کی حمایت سے شامی صدر بشارالاسد کا پلہ بھاری نظر آنے لگا ہے لیکن ہمیں یہ یاد رکھنا چاہیے کہ شام کی اس داخلی لڑائی میں دنیا بھر کی طاقتیں کسی نہ کسی انداز سے ملوث ہیں اور بعض مغربی طاقتیں علاقہ میں امن قائم ہوتے نہیں دیکھنا چاہتیں کیونکہ ان کے عزائم مختلف ہیں اور وہ اس علاقے میں اپنی اپنی بالادستی کی جنگ لڑ رہے ہیں۔

ادھر شام میں برسرپیکار گروپوں کو یہ حقیقت بھی سمجھنی چاہیے کہ امن کی ضرورت انھیں ہے، کسی اور کو نہیں' اگر وہ اپنے تعصبات اور فرقہ وارانہ نظریات کے بل پر بے لچک رویے کے حامل رہے تو اس خطے میں جنگ ختم نہیں ہو سکتی اور اس کا خمیازہ شامی عوام ہی بھگتیں گے' اگر شام کی سرکاری اور باغی فوجوں کے درمیان کسی قسم کی جنگ بندی ہوئی ہے تو یہ خوش آئند ہے لیکن شام کی پیچیدہ صورتحال کو دیکھا جائے تو صورت حال مایوس کن ہی نظر آتی ہے۔

ماضی میں بھی کئی بار کسی ایک شہر یا قصبے میں برسرپیکار گروپوں نے عارضی نوعیت کی جنگ بندی کی لیکن کچھ عرصے کے بعد لڑائی دوبارہ شروع ہو گئی' شام میں حقیقی معنوں میں امن اس وقت ہی قائم ہو سکتا ہے جب امریکا' مغربی یورپ' سعودی عرب اور اس کے اتحادی عرب ممالک اس معاملے پر روس اور ایران کے ساتھ کسی معاہدے پر پہنچتے ہیں، لہٰذا ابھی صرف یہی کہا جا سکتا ہے کہ شام میں امن کے اشارے تو مل رہے ہیں لیکن یہ واضح نہیں بلکہ دھندلے اشارے ہیں۔