سیاسی تحریکوں کے اصل محرکات
پانامہ کے خلاف عمران خان کافی اودھم مچا چکے ہیں لیکن اس کا کوئی نتیجہ برآمد نہ ہو سکا
پچھلے کالم میں ہم نے حکومت کے خلاف ممکنہ اتحاد کے حوالے سے عمران خان کی منفی سیاست کا ذکر کیا تھا۔ آج ہم 1977ء کی سیاسی تحریک کے حوالے سے موجودہ صورتحال کا جائزہ لینے کی کوشش کریں گے۔ اس حوالے سے سب سے اہم نکتہ یہ ہے کہ 1977ء کی تحریک بنیادی طور پر پنجاب کی کچھ نشستوں پر پیپلز پارٹی کی دھاندلی کے خلاف تھی اور آج جس تحریک کا غلغلہ ہو رہا ہے اس کا مرکزی مسئلہ پانامہ اسکینڈل ہے جس میں نواز فیملی ملوث پائی جا رہی ہے۔
پانامہ کے خلاف عمران خان کافی اودھم مچا چکے ہیں لیکن اس کا کوئی نتیجہ برآمد نہ ہو سکا اس کے بعد یہ مسئلہ سپریم کورٹ گیا جہاں طویل شنوائی کے بعد جج صاحبان نے فیصلہ محفوظ کر لیا جس کا بڑی شدت سے انتظار ہوتا رہا۔ اس دوران خیالی گھوڑے دوڑائے جاتے رہے لیکن عدالت عظمیٰ جو بھی فیصلہ کرے گی، فریقین اسے ماننے کی حامی بھرتے رہے آخر کار فیصلہ سنا دیا گیا۔ اور ایک جے آئی ٹی بنانے کا حکم دیا گیا جو وزیر اعظم سمیت اس کیس میں ملوث شریف فیملی کے افراد سے پانامہ کے حوالے سے تحقیق کرے گی۔ لیکن اپوزیشن نے متفقہ طور پر یہ موقف اختیار کیا ہے کہ گریڈ 17-18 کے افسران پر مشتمل جے آئی ٹی وزیر اعظم کے ماتحت افراد پر مشتمل ہوگی ماتحت افراد وزیر اعظم سے تحقیق نہیں کر سکتے۔
فی الوقت یہ مسئلہ پیچیدہ پراسس سے گزر رہا ہے۔ 1977ء میں بھٹو کے خلاف جو متحدہ محاذ بنا تھا اس میں ایسے قدآور سیاسی رہنما شامل تھے جو تحریک کے مضمرات کو نہ سمجھ سکے تھے لیکن بھٹو کو اقتدار سے ہٹانے کے ایک نکتے پر متفق ضرور تھے۔ اس میں نہ کوئی ابہام تھا نہ اختلاف لیکن اس تحریک کے پیچھے دو محرکات ایسے تھے جو اس تحریک کی کامیابی میں مرکزی کردار ادا کرتے رہے۔
پہلا محرک یہ تھا کہ عوام بھٹو صاحب کے مزدور کسان راج، روٹی کپڑا، مکان کے نعروں کی بے معنویت سے ناراض تھے۔ انھیں اس بات کا صدمہ تھا کہ پی پی پی کو جن لوگوں نے منشور دیا اور اس منشور کے حوالے ہی سے پارٹی عوام میں مقبول ہوئی، ان مڈل کلاس کے دوستوں کو پارٹی چھوڑنے پر مجبور کر کے بھٹو نے پارٹی وزیروں، جاگیرداروں کے حوالے کر دی۔ اس حوالے سے 1977ء کی تحریک کا دوسرا اہم محرک امریکا بہادرکی بھٹو سے ناراضگی تھا۔
امریکا پاکستان کے ایٹمی پروگرام کو رول بیک کروانا چاہتا تھا اور بھٹو اس کے لیے تیار نہ تھے۔ اس حوالے سے امریکا نے اس تحریک کی اس طرح مالی حمایت شروع کی کہ پاکستان میں ڈالروں کا سیلاب آ گیا۔ کراچی میں سیکڑوں بسیں کرائے پر لی گئیں جو مضافاتی بستیوں سے خواتین و حضرات کو دیہاڑی پر صدر اور دوسرے مراکز تک لاتی تھیں اور مظاہرے کے بعد انھیں گھر پہنچاتی تھیں۔ ان دو محرکات کے علاوہ ایک تیسرا بڑا محرک یہ تھا کہ سیاسی خاص طور پر مذہبی جماعتوں کے کارکن جلاؤ گھیراؤ کی ایسی منظم مہم پر جتے ہوئے تھے کہ اس پرتشدد تحریک کی وجہ سے کراچی مکمل طور پر بند ہو گیا تھا اور تقریباً یہی حال دوسرے بڑے شہروں کا تھا۔
قانون نافذ کرنے والے ادارے سڑکوں پر موجود تھے لیکن اس پرتشدد تحریک کو روکنے کے بجائے یہ ادارے ہجوم کے آگے آگے چلتے تھے۔ اس تحریک کا تیسرا اور بڑا محرک جرائم پیشہ افراد کی اس تحریک میں شمولیت تھا۔ لوٹ مار خاص طور پر بینکوں پر حملے اور لوٹ مار کی وجہ سے سارا کراچی شہر جلاؤ گھیراؤ کی زد میں تھا اور سیاسی تحریکوں کی کامیابی کے لیے جلاؤ گھیراؤ اور عوام کا جانی نقصان جلتی پر تیل کا کام کرتا ہے۔ یہ وہ محرکات تھے جنھوں نے اس تحریک کو آگے بڑھایا سارا ملک اس کی لپیٹ میں آ گیا۔
1977ء کی اس تحریک کے حوالے سے سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ اس کے مقابلے میں آج سیاسی جماعتوں میں وہ اتحاد سرے سے موجود نہیں جو تحریک کا ایک اہم جز تھا۔ اس کے برخلاف آج تقریباً تمام جماعتیں ایک پراسرار مفاد پرستانہ سیاست کی اسیر دکھائی دیتی ہیں۔ ہر ایک کی اپنی ڈفلی اپنا راگ نظر آتا ہے۔ بعض جماعتیں پانامہ لیکس کے ایشو کو کرپشن کے خاتمے کے حوالے سے دیکھنے کے بجائے عوام میں اپنی جماعتوں اور اپنی قیادت کو مقبول بنانے کے تناظر میں سرگرداں دکھائی دیتی ہیں۔
اگرچہ وہ نام کرپشن کے خاتمے کا ہی لے رہی ہیں 1977ء کی تحریک کے مقابلے میں یہ ایک ایسی کمزوری ہے جو بامعنی اتحاد کی راہ میں رکاوٹ بنی ہوئی ہے۔ 1977ء کی تحریک کی قیادت اپنی تمام تر کمزوریوں کے باوجود قدآور اور سینئر رہنماؤں پر مشتمل تھی جب کہ آج کی ''تحریک'' میں یا تو نئے چہرے ہیں یا بدنام زمانہ زعما ہیں جن کی مقبولیت کا انحصار سرمائے کے بھرپور استعمال پر ہے نہ کہ عوام کی حقیقی حمایت پر ہے۔
1977ء ، 2014ء اور 2017ء کی زیر تشکیل تحریک ایک فرد یا خاندان کے خلاف رہی ہیں۔ ان میں اہم قومی مسائل کا کوئی ذکر ہی نہیں ملتا۔ ہمارے اہم قومی مسائل میں زرعی اصلاحات ہیں۔ انتخابی اصلاحات ہیں، کھربوں کی کرپشن ہے، چھوٹے صوبوں کی حق تلفیاں ہیں، دہشت گردی ہے بے لگام جرائم ہیں، مہنگائی ہے، بے روزگاری ہے۔ بلاشبہ کرپشن بھی ایک بہت بڑا مسئلہ ہے لیکن عوام جن مسائل سے براہ راست متاثر ہو رہے ہیں اور جو مسائل ملک کے مستقبل کے لیے خطرہ بن گئے ہیں جب تک انھیں تحریک میں سرفہرست نہ رکھا جائے اور ان کے حوالوں سے عوام کو متحرک نہ کیا جائے 1977ء کی تحریک نہیں بن سکتی نہ کوئی تحریک بامعنی بن سکتی ہے۔