پاک افغان سرحد کو محفوظ بنایا جائے

پاکستان اور افغانستان کے حکام کے درمیان رابطہ وقت کی اہم ترین ضرورت ہے


Editorial/editorial May 09, 2017
۔ فوٹو؛ فائل

پاک افغان فوجی حکام کے درمیان تیسری فلیگ میٹنگ میں سرحد کی جغرافیائی حدود کے تعین پر اتفاق کیا گیا ہے۔ فلیگ میٹنگ میں پاکستانی وفد کی قیادت کمانڈر نارتھ سیکٹر بریگیڈیئر ندیم سہیل اور کرنل عثمان نے کی جب کہ افغانستان کی جانب سے کرنل شریف شریک ہوئے۔ اس موقع پر دونوں ملکوں کی جیولوجیکل سروے ٹیمیں بھی موجود تھیں۔اخباری اطلاعات کے مطابق اجلاس2گھنٹے تک جاری رہا ۔اس اجلاس میں چمن کے دیہات کلی لقمان اور کلی جہانگیر کا ارضیاتی سروے کرانے پر اتفاق کیا گیاہے۔

سروے میں گوگل اور ارضیاتی نقشوں سے بھی مدد لینے کا فیصلہ کیا گیاہے، جیولوجیکل سروے کے حکام نے بعد میں سرحد کا معائنہ بھی کیا اور اپنی رپورٹ مرتب کی، یہ مشترکہ جیولوجیکل سروے رپورٹ اسلام آباد اور کابل بھجوائی جائے گی۔ رپورٹ کے بعد ہی پاک افغان سرحد کو کھولا جائے گا۔ سیکیورٹی ذرایع کے مطابق افغان فورسز کے نقشوں میں فرق پایا گیا جنھیں دور کیا جائے گا۔ ادھر پاک افغان سرحد تیسرے روز بھی بند رہی، سرحدی دیہات سے شہریوں کی بڑے پیمانے پر نقل مکانی کا سلسلہ دن بھر جاری رہا جب کہ باب دوستی پر ہر قسم کی تجارتی سرگرمیاں، نیٹو سپلائی، افغان ٹرانزٹ ٹریڈ اورپیدل آمد ورفت بند رہی، مال بردارگاڑیوں ، کنٹینرز کو شہرکی جانب موڑدیا گیا، سیکیورٹی فورسز الرٹ رہیں جب کہ چمن کی فضائی نگرانی بھی کی جاتی رہی۔

پاکستان اور افغانستان کے حکام کے درمیان رابطہ وقت کی اہم ترین ضرورت ہے' ارضیائی سروے کے نتیجے میںسرحد کی نشاندہی کے حوالے سے کنفیوژن ختم ہو جائے گی' اصولی طور پر سرحدی حدود کے حوالے سے دونوں ملکوں کی بارڈر سیکیورٹی فورسز کے درمیان ابہام نہیں ہونا چاہیے' اگر ابہام نہیں ہو گا تو ناخوشگوار صورت حال پیدا ہونے کے امکانات ختم ہو جائیں گے۔ چمن کے دیہات میں مردم شماری کے ایشو پر جو کچھ ہوا' یہ اس ابہام کا نتیجہ تھا' بہر حال حالات و واقعات کا جائزہ لیا جائے تو یہ واضح ہوتا ہے کہ افغان بارڈر پولیس نے حدود سے تجاوز کیا ہے۔

پاکستانی حکام نے واضح طور پر کہا ہے کہ 30اپریل کو افغان بارڈر پولیس کے مقامی کمانڈر سے میٹنگ کی گئی تھی' جس میں افغان حکام نے کہا کہ ہمیں تین چار روز دے دیں' پھر اپنا کام دوبارہ شروع کر لیجیے گا' پاکستانی حکام نے افغان بارڈر پولیس کو دوبارہ 4مئی کو بتایا کہ کل سے مردم شماری کا کام دوبارہ شروع کیا جا رہا ہے لیکن افغان بارڈر پولیس کے اہلکار 4 اور 5مئی کی درمیانی شب پاکستان حصے میں داخل ہو گئے' یوں اس تنازع کی ابتدا کی گئی' اگر افغان بارڈر پولیس اپنی حدود میں رہتی تو یہ تنازعہ شروع نہ ہوتا۔ ویسے بھی اگر افغان بارڈر پولیس یہ سمجھتی تھی کہ چمن کے جن دیہات میں مردم شماری ہو رہی ہے 'وہ ان کی حدود میں ہے تو اس حوالے سے جب انھیں پاکستان نے آگاہ کیا تھا تو افغان سیکیورٹی فورسز کا فرض تھا کہ وہ اس صورت حال کے حوالے سے اپنے اعلیٰ حکام کو آگاہ کرتے جو آگے کابل میں وزارت خارجہ تک پہنچتی۔

کابل حکومت اس حوالے سے قاعدے اور قانون کے مطابق پاکستان سے بات کرتے لیکن اس کے بجائے افغان سیکیورٹی فورسز نے سرحدی حدود کی خلاف ورزی کی۔ اس واقعے سے پہلے بھی افغانستان کی سرحدی فورسز ڈیورنڈ لائن پر تجاوز کرتی چلی آ رہی ہے۔یہ روش دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات خراب کرنے کا باعث بن رہی ہے۔ افغان حکومت کو اس حوالے سے ایک واضح اور دو ٹوک پالیسی اختیار کرنی چاہیے۔ پاکستان اگر صبر و تحمل کا مظاہرہ کر رہا ہے تو اس کا یہ مطلب نہیں لیا جانا چاہیے کہ شاید افغان فورسز کو کھل کھیلنے کی اجازت دے دی گئی۔ پاکستانی سیکیورٹی فورسز نے چمن میں جو جوابی کارروائی کی ہے وہ حق بجانب ہے۔ پاکستان کو باب دوستی بھی اسی وقت کھولنا چاہیے جب افغان حکومت اپنے رویے پر ندامت کا اظہار کرے۔

اس واقعے کے بعد پاکستان اور افغانستان دونوں کو ڈیورنڈ لائن کے ایشو پر بات چیت کرنی چاہیے۔ اس مسئلے کو آسان یا عارضی نہیں سمجھنا چاہیے۔ پاکستان نے تو ماضی میں اس حوالے سے غفلت یا مصلحت اندیشی کا مظاہرہ کیا ہے۔ اس کا خمیازہ پاکستان کے شہری بھگت رہے ہیں۔ لاکھوں افغان مہاجرین پاکستان میں رہ رہے ہیں۔ پاکستان کو اب اس حوالے سے بھی ایک سخت موقف اختیار کرنے کی ضرورت ہے۔ افغان حکومت کو اپنے شہریوں کی واپسی کے انتظامات کرنے چاہئیں۔ اسی طرح ڈیورنڈ لائن پر بارڈر کراسنگز کو سخت قوانین کے تحت لانا چاہیے تاکہ بلاروک ٹوک آمدورفت کو بند کیا جا سکے۔ اس حوالے سے واضح اور سخت موقف اختیار کیا جانا چاہیے تاکہ پاکستان اپنی سرحدوں کو محفوظ بنا سکے۔