گرمی میں بجلی کی طویل تر لوڈشیڈنگ سے شہری بے حال

پورے ملک میں بجلی کی لوڈشیڈنگ پر عوام سراپا احتجاج ہیں اور دوسری جانب اس عوامی مسئلے پر بھی سیاست چمکائی جارہی ہے


Editorial May 09, 2017
۔ فوٹو: فائل

شدید گرمی کے موسم میں اتوار کو تعطیل کے باوجود بجلی کی بار بار لوڈشیڈنگ کی گئی۔ بجلی فراہم کرنے والے اداروں کا موقف ہے کہ بجلی کی پیداوار میں کمی اور ڈیمانڈ میں اضافے کے باعث شارٹ فال 7 ہزار میگاواٹ ہو گیا ہے جس کی وجہ سے لوڈشیڈنگ کے دورانیہ میں اضافہ کیا گیا ہے۔ لیکن یہ عذر لنگ تو عرصہ دراز سے سنائی دے رہا ہے، سوال یہ ہے کہ آخر کب تک بجلی کی پیداوار میں کمی کا بہانہ کیا جائے گا اور یہ کمی پورا کرنے کی کوئی واضح کوشش اب تک کیوں دکھائی نہیں دے رہی؟ جب کہ حکومتی سطح پر اب بھی دعوے برقرار ہیں کہ اگلے سال تک لوڈشیڈنگ میں کمی آجائے گی۔

پورے ملک میں بجلی کی لوڈشیڈنگ پر عوام سراپا احتجاج ہیں اور دوسری جانب اس عوامی مسئلے پر بھی سیاست چمکائی جارہی ہے۔ اپوزیشن اس مسئلے کو حکومت کی مقبولیت کم کرنے کے لیے بطور کارڈ استعمال کررہی ہے تو حکومتی وزرا ان احتجاجوں کو ''چور مچائے شور'' کے مترادف قرار دے رہے ہیں۔ لیکن وزیراعلیٰ پنجاب کو اس حقیقت کی جانب بھی دھیان دینا ہوگا کہ لاہور کے شہری علاقوں میں 14 گھنٹے جب کہ دیہی علاقوں میں 18 گھنٹے کی بدترین لوڈشیدنگ نے شہریوں کا جینا محال کردیا ہے۔

کراچی سمیت سندھ کے دیگر شہروں میں جن کے بارے میں بجلی محکموں کا دعوی ہے کہ صارفین بل ادا نہیں کرتے، اوسطاً 6 سے 16 گھنٹے کی لوڈشیڈنگ ہورہی ہے، بلوچستان و خیبرپختونخوا میں بھی بجلی کی صورتحال سے عوام سخت برہم ہیں۔ لوڈشیڈنگ کی شدت دوپہر اور رات کے اوقات زیادہ ہوتی ہے۔ ایک عالمی ادارے کی رپورٹ کے مطابق ملک بھر میں 9 ہزارمیگاواٹ کی طلب ہے جب کہ پیدا وار15 ہزار میگاواٹ ہے، رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ 2050ء میں ملکی آبادی میں بے تحاشا اضافہ کے باعث بجلی کی طلب 49 ہزار میگاواٹ سے بھی تجاوز کرسکتی ہے۔

لہٰذا پیدا شدہ شارٹ فال کی کمی پوری کرنے کے لیے حکومت نے بھکی پاور پلانٹ کا افتتاح کیا تاکہ 300 میگاواٹ بجلی اس سے مہیا ہوسکے، جب کہ ماہرین کے حوالہ سے کہا گیا ہے کہ ملکی توانائی کی ضروریات کی تکمیل کے لیے حکومت کو جی ڈی پی میں سالانہ 5 اعشاریہ 5 فی صد جب کہ پیداواری مد میں 3اعشاریہ7 فی صد سرمایہ کاری کی ضرورت ہوگی تب کہیں جاکر ملک میں بجلی کے بحران میں کمی لائی جا سکتی ہے۔ صائب ہوگا کہ عوام کو بلاتعطل بجلی کی فراہمی یقینی بنانے کے لیے اقدامات کیے جائیں۔