عمانویل میکرون فرانس کے نئے صدر منتخب
میکرون کی کامیابی کے بعد یورو کی قدر میں اضافہ ہوا
آن مارش پارٹی کے 39 سالہ عمانویل میکرون فرانس کے نئے صدر منتخب ہو گئے' میکرون 66فیصد ووٹ لے کر کامیاب ہوئے جب کہ ان کی مخالف فرنٹ کی امیدوار میرین لی پین نے 34فیصد ووٹ حاصل کیے۔
صدارتی انتخابات میں نتیجے کا اعلان ہونے کے بعد میکرون کے حامیوں نے جیت کی خوشی میں جشن منایا۔ حیرت انگیز امر یہ ہے کہ صدارتی انتخابات میں گزشتہ دو انتخابات کے مقابلے میں ٹرن آؤٹ کم رہا۔ فرانس میں ہونے والے صدارتی انتخابات کے دوران دائیں اور بائیں بازو کی تقسیم واضح نظر آئی' میرین لی پین جن کا تعلق دائیں بازو سے ہے انھوں نے انتخابی مہم کے دوران ''سب سے پہلے فرانس'' کا نعرہ بلند کیا اور غیرملکی پناہ گزین پروگرام کے خلاف آواز اٹھائی' اس طرح انھوں نے دائیں بازو کے لوگوں کی ہمدردیاں جیتنے کے لیے قوم پرستی کے ایجنڈے کو ہوا دی۔
عمانویل میکرون نے اس کے برعکس رویہ اختیار کیا' ان کی جیت سے واضح ہوتا ہے کہ فرانسیسی عوام کی اکثریت نے انتہا پسندانہ نظریات کو مسترد کرتے ہوئے آزادانہ پالیسیوں کی حمایت کی ۔ سخت گیر نظریات کی حامل میرین لی پین نے یورپی اتحاد سے باہر آنے کا اعلان کیا تھا جس پر یورپی یونین کی جانب سے اس بات کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا تھا کہ اگر لی پین انتخابات جیت جاتی ہیں تو وہ یورپی یونین سے علیحدگی اختیار کرنے کا اعلان کر دیں گی جس سے یہ اتحاد کمزور پڑ جائے گا۔ میکرون کی کامیابی کے بعد یورپی یونین میں شامل ممالک نے سکھ کا سانس لیا کہ اس طرح یونین کے مزید تقسیم ہونے کا خطرہ ٹل گیا۔
عنقریب جرمنی اور برطانیہ میں بھی انتخابات ہونے والے ہیں لہٰذا ان دو ممالک کی نظریں خصوصی طور پر فرانس کے صدارتی انتخابات پر تھیں' برطانیہ پہلے ہی یورپی یونین سے علیحدگی کی راہ پر گامزن ہے۔ یورپی یونین نے بھی میکرون کی کامیابی پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے انھیں مبارکباد پیش کی' یورپی کمیشن کے صدر نے کہا کہ انھیں خوشی ہے کہ فرانسیسی شہریوں نے اپنے مستقبل کے لیے یورپی اتحاد کا انتخاب کیا۔ میکرون کی کامیابی کے بعد یورو کی قدر میں اضافہ ہوا اور ڈالر کے مقابلے میں یورو گزشتہ سات ماہ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا۔
نئے صدر عمانویل میکرون کو بہت سے چیلنجز کا سامنا کرنا پڑے گا خاص طور پر لیبر لاز میں نرمی کرنے کی کوشش پر دائیں بازو کی جانب سے شدید مخالفت کا خطرہ درپیش ہے' اس کے علاوہ بڑھتی ہوئی بیروز گاری بھی نئے خطرے کے طور پر سامنے آ رہی ہے۔ بعض تجزیہ نگاروں کے مطابق نئے صدر کو ملکی معاشی نظام بہتر بنانے کے لیے ریاستی اخراجات میں کمی' کاروباری طبقے کو تحفظ دینے کے لیے اقدامات' پسماندہ علاقوں میں تعلیمی معیار کی بہتری اور لیبر لاز میں نرمی کے محاذ پر لڑنا پڑے گا۔