بھارت کو اینٹ کا جواب پتھر سے دیں

پاکستان کو اگر واقعی احتجاج ریکارڈ کرانا ہے تو ٹھوس قدم اٹھائیں اور اینٹ کا جواب پتھر سے دیں۔


Saleem Khaliq May 09, 2017
بھارت ہمیں ہر شعبے میں تنہا کرنے کی کوشش کر رہا ہے چاہے وہ کھیل یا کچھ اور ہو۔ فوٹو؛ فائل

KARACHI: ''بچوں! یہ آزادی بڑی جدوجہد کے بعد ملی ہے، اس کی قدر کرو''

بچپن میں ہر سال 14 اگست کے دن ہم کرکٹ کا ایک نمائشی میچ رکھتے تھے، میرے دادا قائد اعظم کے جیسی کیپ پہن کر اس میں بطور مہمان خصوصی شریک ہوتے اور اپنے خطاب میں اکثر اسی قسم کی باتیں کرتے، اس وقت ہماری اصل دلچسپی میچ کے بعد ملنے والی ٹرافیز میں ہوتی تھی اس لیے تقریر پر زیادہ توجہ نہیں دیتے تھے، بعد میں بڑے ہوئے تو آہستہ آہستہ قائد اعظم کے ساتھ جدوجہد آزادی میں شریک رہنے والے اپنے دادا کی باتیں سمجھ میں آنے لگے، پھر جب کئی بار کرکٹ میچز کی کوریج کیلیے بھارت جانے کا موقع ملا توبخوبی اندازہ ہو گیا کہ پاکستان بنانے کا فیصلہ بالکل درست تھا، وہاں مسلمانوں کی اکثریت تیسرے درجے کی شہری ہے اور اسے بنیادی حقوق تک حاصل نہیں، اب آپ شاہ رخ خان،عامر خان اور سلمان خان کی مثالیں دینا نہ شروع کر دیجیے گا، سب جانتے ہیں کہ انھیں بھی کتنی مشکلات درپیش ہوتی ہیں۔

ہم سب کرکٹ کے شوقین اور چاہتے ہیں کہ دونوں ممالک کھیلیں لیکن جو ملک آپ کا پانی تک روک دے وہ کیسے چاہے گا کہ میچز کھیل کر پیسہ کمانے کا موقع دے، انتہا پسندی پہلے بھی تھی جو نریندر مودی کے آنے سے مزید بڑھ گئی اور اب سونو نگم جیسے گلوکار بھی سرعام مسلمانوں کے مذہبی جذبات سے کھیلتے ہیں، ماضی کی طرح ہر واقعے کا الزام پاکستان پر ہی ڈالا جا رہا ہے، مزید ایسی باتیں کیں تو یہ کرکٹ کے بجائے سیاسی کالم بن جائے گا ، مگر کہنے کا مقصد یہ ہے کہ اتنے خراب حالات میں آپ کیسے سمجھ سکتے ہیں کہ بھارت آپ سے کرکٹ کھیلے گا مگر بدقسمتی سے ہمارے بورڈ حکام نجانے کس مٹی کے بنے ہوئے ہیں کہ انھیں یہ سادہ سی بات سمجھ نہیں آئی۔

نجم سیٹھی اگر بگ تھری کی مخالفت کرتے تو آج پاکستان کیا دنیا بھر میں ہیرو کہلاتے مگر وہ بھی ہوا کا رخ دیکھ کر بھارت کی حمایت کر بیٹھے، بدلے میں وعدوں کی پٹاری بھر کر واپس آئے جو سب ہوا میں تحلیل ہو گئے، اب شہریارخان نے اس غلطی کا ازالہ کیا اور بگ تھری کو ختم کرانے میں اہم کردار ادا کیا، بورڈ نے بھارت کو خط لکھ کر زرتلافی کا مطالبہ توکردیا مگر میں وضاحت کرنا ضروری سمجھتا ہوں کہ یہ کوئی قانونی نوٹس نہیں محض ایک ای میل ہے۔

بھارت تو اب اس بات سے بھی مکر رہا ہے کہ اس نے کوئی ایم او یو سائن کیا تھا، پی سی بی کو یقیناً اس کی وضاحت کرنا چاہیے، اگر یہ بات سچ ہے تو کیا اتنے عرصے سے قوم کو بے وقوف بنایا جا رہا تھا ؟اگر کوئی معاہدہ سائن ہوا ہے تو اسے سامنے لایا جائے ، پی سی بی کے خط پر بھارت یقیناً یہی جواز تراشے گا کہ ہماری حکومت اجازت نہیں دے رہی، آئی سی سی کی تنازعات حل کرنے والی کمیٹی شاید ہی کچھ کر سکے۔

پاکستان کو اگر واقعی احتجاج ریکارڈ کرانا ہے تو ٹھوس قدم اٹھائیں اور اینٹ کا جواب پتھر سے دیں، کہیں کہ اگر بھارت نے نقصان کا ازالہ نہیں کیا تو ہم اس کے ساتھ آئی سی سی ایونٹس میں بھی نہیں کھیلیں گے، پھر ہوش ٹھکانے نہ آئیں تو کہیے گا، ان کی حکومت چیمپئنز ٹرافی اورورلڈکپ وغیرہ میں کیوں کھیلنے سے نہیں روکتی، پیسہ اس کی وجہ ہے،آئی سی سی کو سب سے زیادہ آمدنی پاک بھارت میچ سے ہوتی ہے، نشریاتی ادارہ بھارتی ہے اس کی ساری سرمایہ کاری روایتی حریفوں کے مقابلوں پر منحصر ہوتی ہے، ٹکٹس کئی ماہ قبل فروخت ہو جاتے ہیں، ہر کوئی اس سے پیسہ کماتا ہے۔

لہذا آئی سی سی نہ بھارت کوئی بھی برداشت نہیں کر سکتا کہ ایونٹس میں روایتی حریف مقابل نہ ہوں، آپ اسے اتفاق نہ سمجھیں کہ ہر آئی سی سی ایونٹ میں پاک بھارت ٹیموں کا باہمی میچ ضرور ہوتا ہے، یہ کھیل کی خدمت نہیں پیسہ کمانے کیلیے رکھا جاتا ہے، باہمی سیریزاگر بھارت میں ہوتی تو شاید وہ کچھ سوچ بھی لیتا جیسا کہ چار برس قبل مختصر طرز کے میچز ہوئے اور اس نے اربوں روپے کمائے تھے، اب پاکستان اپنے ملک یا نیوٹرل وینیو پر کھیلنا چاہتا ہے جس سے بھارت کو کوئی فائدہ نہیں ہونے والا لہذا وہ کسی صورت نہیں کھیلے گا۔

میں نے تو جب سے ہوش سنبھالا بیشتر وقت دونوں ممالک میں کشیدگی ہی دیکھی ہے، چند ماہ اگر خیریت سے گذرے ہوں تو وہ الگ بات ہے، چیمپئنز ٹرافی میں تو اب وقت نہیں رہا، آئندہ ماہ ہی انعقاد ہونا ہے، اب پی سی بی بھی اعلیٰ حکام سے مشاورت کے بعد اعلان کر دے کہ ہماری حکومت بھی اجازت نہیں دے رہی، ہم اب آئی سی سی ایونٹس میں بھی بھارت سے نہیں کھیلیں گے، یقین مانیے پھر کونسل خود کرکٹ روابط بحال کرانے میں کردار ادا کرے گی اور ہمیشہ کی طرح یہ نہیں کہے گی کہ دو ممالک میں آپس کا معاملہ ہے، حکومت کے کہنے پر پاکستان اگر نہ کھیلے تو اس پر کوئی پابندی وغیرہ بھی عائد نہیں ہو سکے گی۔

ابھی زر تلافی کا خواب دیکھنا بھول جائیں اور عملی قدم اٹھائیں، اسی کے ساتھ مجھے نہیں یاد پڑتا کہ کوہلی، ٹنڈولکر، دھونی، بھارتی بورڈ چیف یا کسی اور نے باہمی سیریز کی بحالی کیلیے بیانات دیے ہوں، مگر ہمارے کرکٹرز باز نہیں آتے، انھیں بھی احتیاط کرنی چاہیے، جس معاملے میں نہیں بولنا اس پر چپ رہیں کیونکہ جتنے بھی مثبت بیانات دے دیں وہ کون سا آپ کو آئی پی ایل میں بلا لیں گے۔

بورڈ حکام بھی دوستی کے راگ الاپنا چھوڑ دیں اور یہ حقیقت تسلیم کر لیں کہ آئندہ کئی برس تک بھارت سے سیریز کا کوئی امکان نہیں ہے، اب تو وہ ہاکی و دیگر کھیلوں میں بھی ہم سے مقابلہ نہیں کر رہا، عوامی سطح پر بھی نفرت ممبئی حملوں کا الزام پاکستان پر تھوپنے کے بعد بڑھ گئی، زیادہ نہیں صرف ٹویٹر یا فیس بک پر کمنٹس دیکھ لیں بھارتی ہمارے بارے میں کیا سوچتے ہیں اس کا اندازہ ہو جائے گا،اختتام ایک واقعے کے ساتھ کرتا ہوں۔

قومی ترانہ جیسے ہی اسکرین پر آنے لگا، سب لوگ احتراماً نشست سے اٹھ کھڑے ہوئے، پھر جدوجہد کشمیر پر بننے والی ایک فلم کا ٹریلر چلا، ساتھ بیٹھے ایک صاحب نے تبصرہ کیا ''بھارت کا کشمیریوں پرظلم دیکھ کر میرا خون کھول اٹھتا ہے'' ایسے میں کسی من چلے نے جملہ کسا مگر ''بھارت کی فلم دیکھ کر کچھ نہیں ہوتا'' سینما میں چونکہ اندھیرے میں چہرے نظر نہیں آتے اس لیے کوئی بدمزگی نہیں ہوئی ایسے میں بھارتی فلم شروع ہو گئی، لوگ اس میں مگن ہو گئے، یہ واقعہ مجھے ایک دوست نے حال ہی میں سنایا،میں یہ سن کر سوچنے لگا کہ ہم حب الوطنی میں کسی طور پیچھے نہیں مگر افسوس عمل سے یہ ظاہر نہیں کرتے۔

بھارت ہمیں ہر شعبے میں تنہا کرنے کی کوشش کر رہا ہے چاہے وہ کھیل یا کچھ اور ہو، مگر ہم موثر جواب نہیں دے رہے، محض برا بھلا کہنے سے کچھ نہیں ہوگا، بھارتی فلموں کا بائیکاٹ کریں، شادی بیاہ میں بھی ان کا کلچر نہ اپنائیں،ٹی وی پر ان کے گانے نہ چلائیں، محض دل دل پاکستان گانے سے آپ پاکستانی نہیں ہو سکتے، عملی طور پر ثبوت دیں۔