چینی درآمدات کی قیمتیں کم بتا کر ٹیکس بچانے سے نمٹنے کا تجربہ کامیاب

کسٹمزمعلومات کے باقاعدہ تبادلے کی تیاریاں مکمل، چینی وفد معاملات فائنل کرنے 21 تاریخ کوپاکستان آئے گا


Ehtisham Mufti May 09, 2017
قیمتوں کی خودکارتصدیق اور چینی درآمدات پر3ارب ڈالرکی انڈرانوائسنگ اورمس ڈیکلریشن روکی جاسکے گی۔ فوٹو: فائل

پاکستان کسٹمز نے انڈرانوائسنگ سمیت دیگر بے قاعدگیوں پر قابو پانے کیلیے مئی2017 سے ہی درآمدی کنسائمنٹس کی اصل قیمت سے آگہی کیلیے چین کے ساتھ خود کار سسٹم کے ذریعے معلومات کے تبادلوں کا عمل شروع کرنے کی تیاریاں مکمل کرلی ہیں کیونکہ ملکی درآمدات کا ایک بڑا حصہ چین سے درآمد کیا جاتا ہے جس میں منظم مافیا کسٹمز ویلیوایشن میں غلط معلومات فراہم کرکے قومی خزانے کو ریونیو کی مد میں بھاری نقصان پہنچا رہا ہے۔

ممبرکسٹمز ایف بی آر محمد زاہدکھوکھر نے اس ضمن میں ''ایکسپریس'' کو بتایا کہ پاکستان کسٹمز نے ویلیوایشن ڈیٹا ایکس چینج کے اس سافٹ ویئر میں حال ہی میں چینی زبان کا انگریزی میں ترجمہ کرنے کی سہولت فراہم کردی ہے جس سے پاکستان کسٹمز کے افسران آسانی سے چین سے درآمد ہونے والی مختلف مصنوعات کی خریداری کی انوائس یا قیمت سے بخوبی آگاہ ہوسکیں گے، مزید برآں اس آن لائن سسٹم کے لیے کمپیوٹر کے آلات بھی حاصل کرلیے گئے ہیں جس کے بعد پاکستان اور چین کے کسٹمز حکام کی جانب سے مختلف نوعیت کی خریداری انوائس کی تصدیق کا کامیاب تجربہ بھی کر لیا گیا ہے۔

محمد زاہد کھوکھر نے بتایا کہ پاکستان نے اس آن لائن سسٹم کو عملی جامہ پہنانے کیلیے تمام تیاریاں مکمل کرلی ہیں تاہم اس خودکارسسٹم کومزید بہتر بناتے ہوئے اسے حتمی شکل دینے کیلیے چینی کسٹمز ڈپارٹمنٹ کے متعلقہ حکام 21 مئی کو پاکستان آ رہے ہیں۔ جس کے بعد توقع ہے کہ آن لائن سافٹ ویئر رواں ماہ سے ہی ویلیوایشن کی خود کار تصدیق کا عمل شروع کردے گا۔

واضح رہے کہ پاکستان اور چین کے درمیان 2007 میں آزاد تجارت کا معاہدہ طے پایا تھا جس کے بعد دونوں ممالک کے درآمدکنندگان وبرآمدکنندگان کوباہمی تجارت کے عمل میں متعدد اقسام کی پروڈکٹس پر کسٹمز ڈیوٹی اور دیگر ٹیکسوں سے استثنیٰ کی سہولت دی گئی البتہ اس ایف ٹی اے کے باعث پاکستان میں چینی پروڈکٹس کی درآمدات میں ہوش ربا اضافہ ہو گیا جس سے درآمدکنندگان کی جانب سے انڈر انوائسنگ جیسی بے قاعدگیوں کے واقعات بھی بڑھ گئے۔

علاوہ ازیں ایک رپورٹ کے مطابق چینی درآمدات پر 3 ارب ڈالر کی انڈر انوائسنگ اورمس ڈیکلریشن ہوتی ہے تاہم مجوزہ خودکار ویلیوایشن ڈیٹا ایکس چینج سسٹم کی وجہ سے انڈر انوائسنگ کا خاتمہ ممکن ہوگا۔

مقبول خبریں