سیاسی فنکاروں کی ایک جیسی اداکاری دیکھ کر تنگ آگئی ہوں لیلیٰ

سیاست میں قدم رکھنے کے بعد ملک کے غریب عوام کو بنیادی سہولیات فراہم کرنے کا مشن لے کرگھر سے نکلوں گی۔


Showbiz Reporter January 23, 2013
عوام بے روزگاری، بجلی ، گیس کی لوڈ شیڈنگ، مہنگائی، دہشت گردی اوردیگرمسائل کی وجہ سے ذہنی مریض بن چکے ہیں،لیلٰی۔ فوٹو : فائل

پاکستان فلم انڈسٹری کی معروف اداکارہ لیلیٰ نے کہا ہے کہ گزشتہ کئی برسوں سے سیاسی فنکاروں کی ایک جیسی اداکاری دیکھ کرتنگ آگئی ہوں اب سیاسی اداکارائوں کو ایکٹنگ سیکھانے کے لیے خود سیاسی ڈرامہ میں مرکزی کردارنبھائونگی۔

عملی طور پرسیاست میں قدم رکھنے کے بعد ملک کے غریب عوام کو بنیادی سہولیات فراہم کرنے کا مشن لے کرگھر سے نکلوں گی اورمجھے امید ہے کہ میرے ساتھ پاکستان کی خواتین، مرد ،بچے اور بزرگ بھی ہونگے۔ فلم اورٹی وی کے کچھ پراجیکٹس کا کام باقی ہے جونہی یہ کام مکمل ہوگا اس کے فوراً بعد شوبز کوخیرباد کہہ کرصرف سیاست میں حصہ لونگی۔ ان خیالات کااظہاراداکارہ لیلیٰ نے ''ایکسپریس'' کو خصوصی انٹرویو دیتے ہوئے کیا۔ انھوں نے کہا کہ غریب عوام بے روزگاری، بجلی ، گیس کی لوڈ شیڈنگ، مہنگائی، دہشت گردی اوردیگرمسائل کی وجہ سے ذہنی مریض بن چکے ہیں، غریب آدمی اپنے بچے کوتعلیم نہیں دلواسکتا، علاج غریب کی پہنچ سے دورہوچکا ہے، قائداعظم نے جس پاکستان کی بنیاد رکھی تھی آج ہم قائدکے پاکستان میں نہیں بلکہ ''مسائلستان'' میں زندگی بسر کررہے ہیں۔

جس کے خالق ہمارے سیاستدان، بیوروکریٹس اوردیگرطبقہ ہے۔ پاکستان کے قیام سے لے کر آج تک اس ملک کوصرف لوٹا گیا ہے، کرپشن کا بازار گرم ہے۔ کوئی پوچھنے والا نہیں، سڑکوں پرچلنے والے لوگ حادثوں کاشکارہورہے ہیں توکسی کوموبائل فون چھیننے والے موت کے گھاٹ اتاررہے ہیں مگر قانون دکھائی نہیں دیتا، انصاف کے لیے عدالتوں میں جائیں تو غریبوں کو انصاف نہیں ملتا۔ اسکولوں میں تعلیم کا معیارسب کے سامنے ہے۔ تعلیم کا دوہرامعیارہے مگرکوئی اس پرغورنہیں کرتا، صحت کے شعبے میں وسائل کے باوجود مسائل جوں کے توں ہیں۔

غریب لوگ مختلف امراض میں مبتلا ہوکرمر رہے ہیں مگرحکمران سب اچھا ہے کا آلاپ لگا رہے ہیں۔ پاکستان کی موجودہ صورتحال انتہائی تشویشناک ہوچکی ہے۔ملک پربیرونی قرضے اس قدر بڑھ چکے ہیں کہ ہر پاکستانی اس کامقروض ہوچکا ہے لیکن ہمارے سیاستدانوں کے بینک بیلنس ، جائیدادوں میں مسلسل اضافہ ہوتا چلاجا رہا ہے۔ پاکستان فلم انڈسٹری تباہی کے دہانے پرکھڑی ہے مگرہمارے حکمرانوںکے پاس اس کی بحالی کے لیے کوئی وقت ہی نہیں رہا۔ اس شعبے سے وابستہ ہزاروں، لاکھوں لوگ بے روزگارہوچکے ہیں اوربہت سے پریشانی وجہ سے مخلتف امراض میں مبتلا ہورہے ہیں مگرکوئی اس طرح نہیں دیکھتا۔

لوگوںکو انٹرٹین کرنے والے لوگ خود تماشا بنے ہوئے ہیں۔ لوگ ان کی طرف دیکھ کر آوازیں کستے ہیں۔ جو اب برداشت نہیں ہوتا۔ بجلی اورگیس کی لوڈ شیڈنگ نے ہماری انڈسٹری تباہ کردی ہے۔ وہاں پرایک طرف توپروڈکشن بند ہوچکی ہے اوردوسری جانب ملازمین کی بڑی تعداد کوکام نہ ہونے کی وجہ سے نوکریوں سے فارغ کردیا گیا ہے۔ لوگ بے روزگاری کی وجہ سے احتجاج کررہے ہیں ، دھرنا دے رہے ہیں ،مگرہمارے حکمرانوںکو کوئی فرق نہیں پڑتا۔ سیاسی فنکار جب ایک دوسرے کے کارناموں کی ''داستان'' بیان کرتے ہوئے قہقہے لگاتے ہیں تو اسے دیکھ کرہمارے معصوم لوگ ہنسنے لگتے ہیں۔

اب لوگوںکے پاس تفریح کے لیے سیاسی ٹاک شورہ گئے ہیں۔ میں بھی یہ سب کچھ دیکھ دیکھ کرتنگ آچکی ہوں اوراسی لیے میں نے باقاعدہ سیاست میں قدم رکھنے کا فیصلہ کرلیا ہے۔ میں سمجھتی ہوں کہ اب پاک وطن کو درست سمت میں لیجانے کے لیے ہرایک پاکستانی کوآگے آنا ہوگا۔ کرپٹ سیاستدانوںاورسسٹم کی تبدیلی کے لیے ہمیں سمجھداری سے کام لینا ہوگا۔ وگرنہ ہم ماضی کی طرح مستقبل میں بھی تماشابن کررہ جائے گا۔ انھوں نے مزید بتایاکہ میں نے ابھی تک کسی سیاسی جماعت کاحصہ بننے کا فیصلہ نہیں کیا لیکن میں سیاسی فنکاروںکو ٹف ٹائم دینے کا ٹھان چکی ہوں۔

میں سیاست میں شہرت ، دولت یا کوئی وزارت لینے کی غرض سے نہیں آنا چاہتی کیونکہ مجھے کسی چیزکالالچ نہیں ہے۔ میں صرف اورصرف اپنی قوم کی آواز بن کرسیاست کے میدان میں اترنا چاہتی ہوں۔ انھوں نے کہاکہ سیاست میں آنے کی حتمی تاریخ کا فی الحال اعلان نہیں کرسکتی کیونکہ میں اس وقت دو فلموںاورڈرامہ سیریلز کے پراجیکٹس میں مصروف ہوں اوراس کے علاوہ ایک فلم کی شوٹنگ کے لیے بھارت بھی جانا ہے۔

مقبول خبریں