فش ہاربر میں بھتہ خوری سمندری خوراک کی برآمدات خطرے میں پڑگئیں

ایسوسی ایشن کی جانب سے حکومت کو جمعرات تک کا الٹی میٹم، فش ہاربر اتھارٹی کے ایم ڈی نے آج اجلاس طلب کرلیا


Business Reporter January 23, 2013
بھتہ خوروں کی ڈیمانڈ ایک کروڑ تک ہوگئی، داخلی وخارجی راستوں پر سیاسی جماعتوں کے دفاتر قائم ہوگئے، برآمدکنندگان فوٹو: اے ایف پی/فائل

کراچی فش ہاربرمیں بھتہ خوری اور دھمکی آمیز خطوط کا رحجان بڑھنے کے نتیجے میں 34 کروڑ ڈالر مالیت کی سمندری خوراک کی برآمدات خطرے میں پڑگئی ہیں۔

سمندری خوراک کے 140 برآمدکنندگان نے فش ہاربر پربھتوں اور دھمکیوں کی شدت بڑھنے، حکومت اور متعلقہ ذمے دار اداروں کی عدم دلچسپی پر ہفتہ 26 جنوری سے سمندری خوراک کے55 سے زائد پلانٹس کو غیرمعینہ مدت تک بند کرنے کا فیصلہ کرلیا، سمندری خوراک کے ایک برآمدکنندہ نے بتایا کہ پاکستان فشریز ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن کی جانب سے حکومت کو جمعرات تک الٹی میٹم دیدیا گیا ہے جس پر بدھ کو کراچی فش ہاربر اتھارٹی کے ایم ڈی نے خصوصی ہنگامی اجلاس طلب کرلیا۔

مذکورہ اجلاس میں اگر سمندری خوراک کے برآمدکنندگان کو ٹھوس بنیادوں پر تحفظ فراہم نہیں کیا گیا تو غیرمعینہ مدت کے لیے ہڑتال پر جانے کا فیصلہ حتمی تصور ہوگا، برآمدکنندگان کا کہنا ہے کہ ان کے بیشتر پروسیسنگ پلانٹس کراچی فش ہاربر پر قائم ہیں لیکن ہاربر کے داخلی وخارجی راستوں پر مختلف سیاسی جماعتوں کے دفاتر قائم ہوگئے ہیں جن کی آڑ میں بھتہ خور اور جرائم پیشہ عناصر متحرک ہوگئے ہیں۔

 



برآمد کنندگان کا کہنا ہے کہ بھتہ خوروں کی کم از کم ڈیمانڈ40 لاکھ روپے اور زیادہ سے زیادہ ایک کروڑ روپے کی ہوتی ہے لیکن مطلوبہ بھتہ نہ دینے کی صورت میں ان ہی جرائم پیشہ عناصر کی جانب سے برآمدکنندگان کی فیکٹریوں کے اطراف میں فائرنگ کی جاتی ہے یا پھر موقع ملتے ہی جرائم پیشہ عناصر برآمدات کے لیے پروسیس شدہ سمندری خوراک کے کنٹینرز اغوا کرلیتے ہیں اور اب تک مقامی سی فوڈ انڈسٹری کا 8 تا10 لاکھ روپے مالیت کا مال اغوا کرلیا گیا ہے۔

 



سمندری خوراک کے برآمدکنندگان کا کہنا ہے کہ جرائم پیشہ عناصر کی ان منفی سرگرمیوں کے نتیجے میں نہ صرف سمندری خوراک کی تیاری متاثر ہورہی ہے بلکہ اس شعبے سے وابستہ ہزاروں افراد کی بے روزگاری کے خطرات پیدا ہوگئے ہیں، ان زمینی حقائق سے متعلق محکمہ پولیس، رینجرز حکام اورصوبائی وزیرفشریز زاہد بھرگڑی کو آگاہ کردیا گیا ہے لیکن بھتہ خوری کیخلاف کریک ڈائون نہیں کیا گیا ہے۔

برآمدکنندگان کا موقف ہے کہ فش ہاربر میں متحرک جرائم پیشہ عناصر انتہائی بااثر ہیں جن پر پولیس حکام بھی قابو پانے سے کترارہے ہیں، ایک برآمدکنندہ نے بتایا کہ فش ہاربر پر بھتہ خوری میں گذشتہ 20 یوم سے شدت آگئی ہے یہی وجہ ہے کہ پروسیسنگ فیکٹریوں اور پلانٹس کے مالکان کی اکثریت نے اپنی فیکٹریوں میں آمدورفت ترک کردی ہے۔