پاکستان اور ایران باہمی غلط فہمیاں دور کریں

پاکستان اور ایران کو سرحدی معاملات باہمی مذاکرات کے ذریعے طے کرنے چاہئیں


Editorial May 09, 2017
پاکستان اور ایران کو سرحدی معاملات باہمی مذاکرات کے ذریعے طے کرنے چاہئیں . فوٹو:فائل

پاکستان اور ایران کے درمیان برادرانہ تعلقات کسی سے ڈھکے چھپے نہیں رہے' ایران ان ممالک میں شامل ہے' جنہوں نے سب سے پہلے پاکستان کو تسلیم کیا۔ 65کی جنگ ہو یا 1971 کی جنگ ایران نے پاکستان کی ہمیشہ حمایت کی ہے لیکن 1979کے بعد اس خطے میں آنے والی سیاسی اور اسٹرٹیجک تبدیلیوں کے باعث پاک ایران تعلقات میں گرم جوشی میں کمی آنا شروع ہوئی لیکن پھر بھی صورتحال تلخی یا دھمکی تک نہیں پہنچی تھی۔

گزشتہ روز غیر ملکی میڈیا کے حوالے سے ملکی میڈیا میں ایرانی فوج کے سربراہ جنرل محمد حسین باقری کا بیان سامنے آیا ہے جسے نرم سے نرم الفاظ میں نامناسب اور غیردانشمندانہ قرار دیا جا سکتا ہے۔ میڈیا میں رپورٹ ہونے والے بیان کے مطابق انھوں نے کہا ہے کہ پاکستان کو اپنی سرزمین پر دہشت گردوں کے ٹھکانے ختم کرنے چاہئیں' اگر ایرانی سرزمین پر حملے کرنے والے جنگجوؤں کے خلاف موثر کارروائی نہ کی گئی تو ان پناہ گاہوں کو ایران سے نشانہ بنایا جا سکتا ہے' اگر حملے جاری رہے تو دہشت گردوں کی ان پناہ گاہوں کو تباہ کر دیا جائے گا۔ چاہے وہ کہیں بھی ہوں' جہاں بھی دہشت گرد موجود ہوں گے' ایرانی فوج وہاں حملہ کرے گی ۔

ایرانی فوج کے سربراہ کے الفاظ ایک طرح کی دھمکی کا تاثر لیے ہوئے ہیں جس کی ایران جیسے برادر ملک سے توقع نہیں کی جا سکتی' بہرحال اس حوالے سے حقیقی صورتحال تو آیندہ دنوں میں واضح ہو جائے گی کہ ایرانی فوج کے سربراہ نے حقیقت میں کیا کہا ہے تاہم وزیراعظم میاں نواز شریف کے مشیر برائے خارجہ امور سرتاج عزیز کا بیان خاصا مثبت اور حوصلہ افزا ہے۔ انھوں نے کہا ہے کہ پاکستان اور ایران کے درمیان سرحدی مسائل کے حل کے لیے ہاٹ لائن بحال کرنے جب کہ بارڈر کے بارے میں شکایت کے ازالے کے لیے کمیشن قائم کر دیا گیا ہے۔ نجی ٹی وی سے خصوصی گفتگو میں انھوں نے کہا ایران کی طرف سے دہشت گردوں کے تعاقب کے بیان آتے رہتے ہیں۔ ایران معلومات دے تو شدت پسندوں کے خلاف کارروائی کریں گے۔ خفیہ معلومات کے زیادہ سے زیادہ تبادلے کے لیے سیاسی و عسکری کمیٹیاں قائم کی جا رہی ہیں۔

پاکستان اور ایران مل کر شدت پسندی کے رحجان کا سدباب کریں گے۔ علاوہ ازیں ایران کے ''پریس ٹی وی '' کے مطابق ایرانی وزیرداخلہ عبدالرضا رحمانی فاضلی نے پاکستانی ہم منصب چوہدری نثار کو ٹیلی فون کیا اور پاک ایران سرحد پر سیکیورٹی کی صورتحال بہتر بنانے کا مطالبہ کیا اور کہا ایران میں دہشت گردوںکا داخلہ روکنے کے لیے اقداما ت کیے جائیں، انھوں نے کہا افغانیوں کی جانب سے براستہ پاکستان منشیات کی اسمگلنگ اور غیر قانونی کراسنگ بھی کی جا رہی ہے۔ ایرانی سرحدی محافظوں کی ہلاکت کے واقعہ سے دونوں ممالک کے درمیان خوشگوار تعلقات متاثر ہونے کا خدشہ نہیں ہے۔ ایرانی وزیر داخلہ نے چوہدری نثار کو تہران کے دورے کی دعوت بھی دی اورکہاکہ ہم جتنی جلد ی ممکن ہو سکے سیکیورٹی واقتصادی اور سرحدی امور پر تعاون کے حوالے سے ایک کانفرنس منعقد کرنے کے لیے تیار ہیں۔

پاکستان اور ایران کو سرحدی معاملات باہمی مذاکرات کے ذریعے طے کرنے چاہئیں اور یہ کوئی ایسا مسئلہ بھی نہیں ہے کہ حل نہ کیا جا سکے۔ جہاں تک دہشت گردی کا تعلق ہے تو پاکستان نہ صرف دہشت گردی کا شکار ہے بلکہ دہشت گردوں کے خلاف باقاعدہ جنگ لڑ رہا ہے' ایرانی حکومت کو بھی یقیناً اس حقیقت کا ادراک ہو گا کہ پاکستان کے صوبے بلوچستان میں غیرملکی طاقتیں خصوصاً بھارت کیا کررہی ہیں' بھارت کے جاسوس کلبھوشن کی گرفتاری بھی اس کا ثبوت ہے' گزشتہ ماہ 10ایرانی سرحدی محافظوں کی ہلاکت ایک افسوسناک اور قابل مذمت واقعہ ہے' اگر اس میں کوئی دہشت گرد گروہ ملوث ہے تو اس کی نشاندہی ہونی چاہیے تاکہ اس کے خلاف موثر کارروائی کی جاسکے ۔

ایرانی حکام کو اگر معلوم ہے کہ بلوچستان میں کہیں دہشت گردوں کی کوئی پناہ گاہ موجود ہے تو انھیں پاکستان کو اس کے بارے میں مطلع کرنا چاہیے تاکہ پاکستانی فورسز ان کے خلاف کارروائی کر سکیں' پاکستان تو بلوچستان میں پہلے یہ شرپسندوں کے خلاف کارروائی کر رہا ہے' اس تناظر میں ایرانی حکومت کو پاکستان کے ساتھ تعاون کرنا چاہیے۔ تلخ بیان بازی سوائے حالات کو بگاڑنے کے کچھ نہیں کر سکتی۔ سعودی عرب یا مشرق وسطیٰ میں ایران کے جو بھی معاملات ہیں' انھیں اس کے بارے میں ان ممالک کے ساتھ بات کرنی چاہیے۔ پاکستان کا اس سے کوئی لینا دینا نہیں ہے' بہرحال پاکستان کو سرحدوں پر ہونے والی تبدیلیوں کا مشاہدہ کرنا چاہیے' اس وقت پاکستان کی سرحدوں پر حالات ٹھیک نہیں ہیں' پاکستان کو اپنی خارجہ پالیسی پر غور کرنا چاہیے کہ کیا وجہ ہے کہ ہمارے ہمسایہ ممالک ہمارے بارے میں مختلف نوعیت کے تحفظات رکھتے ہیں۔