دنیا کو ایٹمی جنگوں سے بچایا جائے
جنوبی کوریا پر امریکی اجارہ داری کے ساتھ ساتھ سرمایہ دارانہ نظام کی گرفت مضبوط ہے
شمالی اور جنوبی کوریا کے درمیان عشروں سے اختلافات اورکشیدگی کا سلسلہ جاری ہے چونکہ دونوں ہی ملکوں کے پاس ایٹمی ہتھیار موجود ہیں، لہٰذا دنیا کی یہ تشویش فطری ہے کہ اختلافات کی کوئی چنگاری ان دو ملکوں کے درمیان ایٹمی جنگ کا سبب نہ بن جائے۔
جنوبی کوریا پر امریکی اجارہ داری کے ساتھ ساتھ سرمایہ دارانہ نظام کی گرفت مضبوط ہے، سرمایہ دارانہ نظام کی شریانوں میں چونکہ کرپشن خون بن کر دوڑتی رہتی ہے لہٰذا جنوبی کوریا بھی کرپشن کا اڈہ بنا ہوا ہے۔ کرپشن کے پھیلاؤ کا عالم یہ ہے کہ جنوبی کوریا کی منتخب جمہوری صدرکوکرپشن کے الزام میں ان کے صدارتی عہدے سے برطرف کردیا گیا ہے، محترمہ کے خلاف احتسابی کارروائی جاری ہے جنوبی کوریا کے ساتھ امریکا کے سیاسی اور اقتصادی مفادات وابستہ ہیں اور اپنے ان ہی مفادات کے تحفظ کے لیے امریکا نے جنوبی کوریا میں اپنے فوجی اڈے بنا رکھے ہیں جہاں امریکی فوجیں براجمان ہیں۔
شمالی اور جنوبی کوریا میں مسلسل تناؤکی کیفیت موجود ہے، امریکا کے نئے صدر کی آمد کے بعد اس تناؤ میں خطرناک حد تک اضافہ ہوگیا ہے شمالی کوریا کو ایٹمی ہتھیاروں کی تیاری سے روکنے کے لیے عشروں سے کوششیں جاری ہیں لیکن شمالی کوریا اس حوالے سے نرمی دکھانے کے موڈ میں نہیں ہے۔ امریکی صدر ٹرمپ نے 100 امریکی سینیٹرز کے ساتھ ملاقات کے بعد فرمایا ہے کہ امریکا شمالی کوریا کے خلاف سخت اقتصادی پابندیاں لگانے پر غورکررہا ہے۔ امریکا کے بحری جہازوں کو کورین سمندر بھیج دیا گیا ہے ۔ امریکی صدر نے دھمکی دی ہے کہ اگر شمالی کوریا نے میزائل تجربے بند نہ کیے تو امریکا سخت اقدامات کرے گا امریکا اور جنوبی کوریا مشترکہ فوجی مشقیں کر رہے ہیں ۔ صورتحال روز بروز نازک اور خطرناک ہوتی جا رہی ہے روس اور چین تاریخی طور پر شمالی کوریا کے ساتھ ہیں ٹرمپ کے آنے کے بعد ایٹمی جنگوں کے خطرات بڑھتے جا رہے ہیں۔
دنیا کے 7 ارب انسان بھوک بیماری بے روزگاری جیسی لعنتوں میں گرفتار ہیں، ان مسائل کو حل کرنے کی ذمے داری حکمرانوں پر آتی ہے لیکن دنیا کا حکمران طبقہ یا تو لوٹ مار میں مصروف ہے یا جنگوں کی سیاست میں الجھا ہوا ہے دنیا میں ایٹمی ہتھیاروں کے متعارف ہونے سے پہلے اگرچہ جنگیں ہوتی رہیں لیکن ان جنگوں سے دنیا کی بقا اور کرہ ارض پر جانداروں کے وجود کو خطرہ لاحق نہیں ہوا۔ بدقسمتی یا حکمران طبقات کی مجنونہ سیاست کی وجہ سے دنیا میں ایٹمی ہتھیار بھی تیار کر لیے گئے اور امریکا نے دوسری عالمی جنگ کے دوران جاپان کے شہر ہیروشیما اور ناگاساکی پر ایٹم بم گرا کر دنیا کی تاریخ میں پہلی بار ایٹمی ہتھیار استعمال کرنے کا آغازکیا۔ ہیروشیما اور ناگاساکی میں استعمال ہونے والے ایٹم بم آج کے ایٹم بموں سے بہت کم طاقتور تھے لیکن ان کم طاقتور بموں نے آن واحد میں لاکھوں انسانوں اور ہزاروں عمارتوں کو جلاکر خاکستر کردیا۔
آج ایٹم بموں اور ایٹمی جنگوں کا ذکر اس لیے کرنا پڑ رہا ہے کہ دنیا کے کم ازکم تین علاقوں میں ایٹمی جنگوں کے خطرات منڈلا رہے ہیں۔ اہل علم کا خیال ہے کہ ہیروشیما اور ناگاساکی کی تباہی پر نظر رکھنے والے کبھی ایٹمی جنگ کی طرف نہیں جائیں گے، لیکن ماضی کی بڑی جنگیں عموماً وقتی مسائل اور اشتعال کی وجہ ہی سے پیش آئیں۔ جاپان میں ایٹم بم استعمال کرنے والوں کو اس کی تباہ کاریوں کا یقینا اندازہ ہوگا لیکن اس کے باوجود امریکا نے جاپان کے دو شہروں پر ایٹم بم استعمال کیے یہ بلاشبہ کوئی ایڈوانس منصوبہ بندی کا شاخسانہ نہیں ہوگا لیکن جنگوں کے دوران اور ملکوں کے درمیان کشیدگی کے دوران اچانک ایسے حالات پیدا ہوجاتے ہیں کہ حکمران طبقات ایٹمی ہتھیار استعمال کرنے جیسے خطرناک فیصلے کر بیٹھتے ہیں۔ دوسری عالمی جنگ کے دوران بھی یہی ہوا کہ جرمن مخالف بلاک کے سرغنہ امریکا کو ایٹم بم استعمال کرنے کا فیصلہ کرنا پڑا۔
شمالی اور جنوبی کوریا کے درمیان عشروں سے کشیدگی موجود ہے، دونوں کوریاؤں کے باشندے نسل رنگ زبان اورکلچر کے حوالے سے ایک ہیں اور دوسری عالمی جنگ سے پہلے کوریا بھی متحد تھا، لیکن دوسری عالمی جنگ کے بعد مفتوحہ علاقوں کی بندربانٹ کا جو سلسلہ شروع ہوا۔ اس کا شکار جرمنی اور کوریا ہوئے کوریا کو دو حصوں میں تقسیم کرکے ایک کو جنوبی کوریا کا نام دیا گیا، دوسرے کو شمالی کوریا کا، اسی طرح جرمنی کو بھی دو حصوں میں بانٹ کر ایک کو مغربی جرمنی کا نام دیا گیا دوسرے حصے کو مشرقی جرمنی کا نام دیا گیا۔ مغربی جرمنی اور جنوبی کوریا کی سرپرستی امریکا کے حصے میں آئی اور شمالی کوریا اور مشرقی جرمنی کا مائی باپ روس بن گیا۔ جنوبی اور شمالی کوریا کی طرح مشرقی اور مغربی جرمنی کے باشندے بھی نسل رنگ زبان اورکلچر کے حوالے سے ایک تھے ۔ جرمن باشندوں نے اس بندربانٹ کو ختم کرکے دونوں جرمنوں کو ایک کردیا اور اب متحدہ جرمنی یکسوئی کے ساتھ اپنی قومی ترقی میں جتا ہوا ہے۔ دیوار برلن مسمار کی جاچکی ہے۔
بھارت اور پاکستان کے درمیان بھی کشیدگی میں خطرناک حد تک اضافہ ہورہا ہے ، چین اپنے جنوبی کوریا کے ساحلی جزیروں کے حوالے سے براہ راست جاپان اور بالواسطہ امریکا کے سامنے کھڑا ہے۔ شمالی کوریا، ہندوستان پاکستان اور چین جاپان کے درمیان موجود تنازعات ان ملکوں کو ایٹمی جنگوں کی طرف دھکیل سکتے ہیں، چونکہ سیاستدان قومی مفادات کی زنجیروں میں جکڑے ہوئے ہیں اور قومی مفادات کے ٹکراؤ ہی سے جنگیں جنم لیتی ہیں۔ اقوام متحدہ اپنی اصل میں ایک ڈمی تنظیم بن کر رہ گئی ہے لیکن اس کی بہرحال یہ ذمے داری ہے، اس کے ساتھ دنیا کے اہل دانش کی بھی یہ ذمے داری ہے کہ وہ دنیا کو ایٹمی جنگ سے بچانے کے لیے موثر اقدامات کریں تاکہ کرہ ارض ہیروشیما اور ناگاساکی کی طرح جل کر راکھ ہونے سے بچ جائے۔