ریٹائرڈ ملازمین اور سپریم کورٹ کا حکم
ریٹائرڈ سرکاری ملازمین برسوں سے اپنی پنشن اور واجبات کی منظوری سے محروم دھکے کھا رہے ہیں
MADRID:
ریٹائرڈ سرکاری ملازمین برسوں سے اپنی پنشن اور واجبات کی منظوری سے محروم دھکے کھا رہے ہیں، ملک کی اعلیٰ عدالت ریٹائرڈ ملازمین کی پنشن اور واجبات کی ادائیگی کے لیے بار بار ہدایات جاری کر رہی ہے لیکن ہماری انتظامی مشینری اس قدر زنگ آلود ہوگئی ہے کہ سپریم کورٹ کی ہدایات کا اس پر اثر ہوتا دکھائی نہیں دیتا۔ 11مارچ 2017 کو سپریم کورٹ نے ریٹائرڈ ملازمین (سندھ) کی پنشن اور واجبات کے حوالے سے سیکریٹری خزانہ اکاؤنٹ جنرل آف سندھ اور ایڈووکیٹ جنرل سندھ کو حکم دیا کہ ریٹائرڈ ملازمین کے واجبات کی ادائیگی کے سلسلے میں کاغذات تیار کرلیے جائیں۔
عدالت نے حکم دیا کہ ایڈوکیٹ جنرل سندھ، سیکریٹری اسٹیبلشمنٹ ڈویژن سیکریٹری خزانہ اکاؤنٹ جنرل سندھ بیٹھ کر ایسا طریقہ کار طے کریں کہ ملازمین کے ریٹائر ہونے سے پہلے ان کے کاغذات تیار ہوجائیں، سپریم کورٹ نے حکم دیا کہ اکاؤنٹس جنرل سمیت پورا نظام کمپیوٹرائزکیا جائے۔ جسٹس فیصل عرب نے ریمارکس دیے کہ یہاں کوئی نظام ہی نہیں گھوسٹ ملازم پنشن لے رہے ہیں ، اصل ملازمین دھکے کھا رہے ہیں۔ جسٹس امیر ہانی مسلم نے کہا کہ اگر 4بڑے افسران کی نوکریاں جائیں گی تو سارا نظام ٹھیک چلنے لگے گا۔ ہزاروں روپے رشوت لے کر اعتراضات درست کیے جاتے ہیں،اکاؤنٹس جنرل آفس غفلت برت رہا ہے کاغذات ردی کی ٹوکری میں ڈال دیے جاتے ہیں۔ عوام کے وسیع تر مفادات کے لیے پورے نظام کو درست کیا جانا چاہیے۔
اعلیٰ عدالتوں اور حکومتوں کی طرف سے اس حوالے سے وقتاً فوقتاً ہدایات دی جاتی ہیں، لیکن انتظامی مشینری ان ہدایات پر کان دھرتی نظر نہیں آتی جس کا نتیجہ یہ ہے کہ بے چارے ضعیف ریٹائرڈ ملازمین ریٹائرڈ ہونے کے بعد برسوں دھکے کھاتے رہتے ہیں جن کا نہ کوئی پوچھنے والا ہے نہ والی وارث ہے۔
عموماً دیگر ممالک ہی نہیں بلکہ ہمارے ملک کے بعض محکموں میں بھی ملازمین کی ریٹائرمنٹ سے پہلے ان کے تمام کاغذات اور بل تیار کرلیے جاتے ہیں اور ریٹائرمنٹ کے ساتھ ہی ان کی پنشن جاری ہوجاتی ہے اور واجبات ادا کردیے جاتے ہیں۔ اس حقیقت سے کون واقف نہیں کہ سرکاری ملازم جس تاریخ کو ریٹائر ہوتا ہے۔ اس تاریخ سے اس کی تنخواہ بند ہوجاتی ہے۔ ریٹائر سرکاری ملازم جب ریٹائر ہوتا ہے تو اس کے سامنے فاقہ منہ کھولے کھڑا ہوتا ہے جس کا ازالہ پنشن کی فوری ادائیگی اور واجبات کی جلدازجلد ادائیگی ہی سے کیا جاسکتا ہے۔ زندگی کا دو تہائی حصہ ملازمت میں گزارنے کے بعد وہ صرف پنشن پر زندہ رہتا ہے اور پنشن اس قدر کم ہوتی ہے کہ ریٹائرڈ ملازمین کے خاندان کا پنشن پر گزارا ممکن نہیں ہوتا۔ ریٹائر ملازمین کے ساتھ ایک ظلم یہ ہوتا ہے کہ دکاندار سامان ادھار دینا بند کردیتے ہیں اور نوبت فاقہ کشی تک پہنچ جاتی ہے۔
سپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں جسٹس امیر ہانی کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے متعلقہ حکام کو حکم دیا تھا کہ وہ ایک ہفتے کے اندر مل بیٹھ کر ایسا طریقہ وضع کریں کہ ملازم کے ریٹائر ہونے سے پہلے اس کے تمام کاغذات تیار کر لیے جائیں۔ یہ حکم 10 مارچ 2017 کو دیا گیا تھا۔ یہ حکم انتہائی منصفانہ اور ریٹائرڈ ملازمین کے مفادات کے عین مطابق تھا لیکن اس پر عملدرآمد کا اندازہ ان حقائق سے لگایا جاسکتا ہے کہ آج بھی دو دو تین تین سال پہلے ریٹائر ہونے والے ملازمین کو پنشن تک جاری نہیں کی گئی واجبات کی ادائیگی بہت دور کی بات ہے۔ عدالت عالیہ اس حوالے سے جواب دہی کا ایک ایسا نظام قائم کرے جو یہ دیکھے کہ متعلقہ محکمے عدالت کے حکم پر عمل کر رہے ہیں یا نہیں؟
عدالتی احکامات پر عملدرآمد نہ کرنے والے حکام کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔ اس حوالے سے جسٹس امیر ہانی نے فرمایا ہے کہ چار بڑے افسران کی نوکریاں ختم کردی جائیں تو سارا نظام ٹھیک ہوجائے گا، لیکن مسئلہ یہ ہے کہ ہر بڑا کسی نہ کسی حاکم کی پناہ میں رہتا ہے اور اسے یہ یقین ہوتا ہے کہ وہ جس کی پناہ میں ہے وہ اس پر کوئی آنچ آنے نہیں دے گا۔ اس حوالے سے ایک اور بدقسمتی یہ ہے کہ ہمارے یہاں ایک سے ایک ایسے ماہر وکیل موجود ہیں جو اپنے کلائنٹ کو مکھن میں سے بال کی طرح نکال لیتے ہیں اس قسم کی بددیانتانہ مہارت رکھنے والوں کو بڑا وکیل مانا جاتا ہے۔
اس حوالے سے سب سے زیادہ تکلیف دہ انتظامی مشینری کی جادوگری ہے وہ ایسے ایسے نکات تلاش کرکے ریٹائرڈ ملازم کی پنشن اور واجبات کی ادائیگی کی راہ میں روڑے اٹکاتے ہیں کہ بے چارا ریٹائر ملازم ان کے آگے گھٹنے ٹیکنے اور ان کے مطالبات پورے کرنے پر مجبور ہوجاتا ہے۔
اس رویے کے خلاف سخت کارروائی کی ضرورت ہے اور اس کے لیے ایک ایسی ویجیلنس ٹیم بنانے کی ضرورت ہے جو ریٹائرڈ ملازمین کی پنشن اور واجبات کی ادائیگی میں دانستہ روڑے اٹکانے والوں کے خلاف سخت اقدامات کرے۔ اس حوالے سے سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے امیر ہانی مسلم کی سربراہی میں اعلیٰ افسران کو ایک ہفتے کے اندر ایسا نظام وضع کرنے کا جو حکم دیا ہے جس میں ملازم کے ریٹائر ہونے سے پہلے اس کے تمام کاغذات تیار کرلیے جائیں تاکہ ملازم کے ریٹائر ہوتے ہی اس کی پنشن جاری اور واجبات ادا کردیے جائیں بلاشبہ یہ ایک منصفانہ حکم ہے۔ اب ہماری سپریم کورٹ کی بینچ کو یہ دیکھنا چاہیے کہ اس حکم پر عملدرآمد ہو رہا ہے یا نہیں؟