مولانا عبدالغفور حیدری کے قافلے پر خودکش حملہ

چیئرمین سینیٹ رضا ربانی نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مستونگ حملے کو پاکستان کی پارلیمان پر حملہ قرار دیا


Editorial May 13, 2017
چیئرمین سینیٹ رضا ربانی نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مستونگ حملے کو پاکستان کی پارلیمان پر حملہ قرار دیا ۔ فوٹو: آئی این پی

بلوچستان کے شہر مستونگ میں ڈپٹی چیئرمین سینیٹ اور جے یو آئی ف کے رہنما مولانا عبدالغفور حیدری کی گاڑی کے قریب ہونے والے خود کش حملہ میں 25 افراد شہید اور مولانا غفور حیدری سمیت 35افراد زخمی ہو گئے' شہید ہونے والوں میں جے یو آئی کوئٹہ کے نائب امیر قدرت اللہ ' مولانا حیدری کے ڈرائیور اور اسٹاف ممبر افتخار مغل بھی شامل ہیں۔

ڈی پی او مستونگ کے مطابق خود کش حملہ آور موٹر سائیکل پر سوار تھا' دھماکے میں 10سے 12کلو بارود استعمال کیا گیا۔ خبروں کے مطابق خود کش حملہ عین اس وقت ہوا جب مولانا عبدالغفور حیدری اپنے ساتھیوں کے ہمراہ ایک مدرسے میں دستار بندی کی تقریب میں شرکت کے بعد واپس جا رہے تھے۔ وزیراعظم میاں محمد نواز شریف' وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان ، وزیراعلیٰ بلوچستان ثناء اللہ زہری' وزیراعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف، پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری اور چیئرمین سینیٹ رضا ربانی نے دھماکے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اس کے نتیجے میں ہونے والے جانی نقصان پر اظہار افسوس کیا۔

چیئرمین سینیٹ رضا ربانی نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مستونگ حملے کو پاکستان کی پارلیمان پر حملہ قرار دیا' انھوں نے کہا کہ ہم ملک میں قانون کی حکمرانی کے لیے جنگ لڑ رہے ہیں۔ جے یو آئی ف کے رہنما مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ وہ اتوار کو قومی سطح پر سوگ منائیں اور احتجاج کریں گے۔ بلوچستان ایک طویل عرصے سے دہشت گردی کی کارروائیوں کی زد میں آیا ہوا ہے' سیکیورٹی ادارے دہشت گردی کے خلاف بھرپور طور پر کارروائی کر رہے ہیں اور انھوں نے متعدد دہشت گردوں کو گرفتار بھی کیا ہے جس سے دہشت گردی کی کارروائیوں میں کسی حد تک کمی ضرور آئی مگر حالیہ کارروائی سے معلوم ہوتا ہے کہ دہشت گردوں کا نیٹ ورک بہت مضبوط ہے ۔

جس کے خلاف پہلے سے زیادہ منظم اور بھرپور انداز میں کارروائی کرنے کی ضرورت ہے۔ اگست 2016ء میں کوئٹہ کے سرکاری اسپتال میں دہشت گردوں کے حملے میں 70افراد شہید اور 130سے زائد زخمی ہوئے اسی طرح اکتوبر 2016ء میں کوئٹہ میں پولیس ٹریننگ سینٹر پر دہشت گردوں کے حملے میں 61کیڈٹس شہید اور 165 سے زائد زخمی ہو گئے تھے۔ جنوبی اور شمالی وزیرستان میں جب دہشت گردوں نے مضبوط ٹھکانے اور پناہ گاہیں بنا لیں اور وہاں سے نکل کر پورے ملک میں دہشت گردی کی کارروائیاں شروع کر دیں تو بالآخر فوج کو وہاں آپریشن کرنا پڑا۔ شمالی وزیرستان میں آپریشن ضرب عضب کی کامیابی کے بعد اس علاقے میں امن و امان بحال ہونے سے وہاں آبادکاری کا عمل شروع ہو چکا ہے۔

دہشت گردوں نے شمالی وزیرستان سے نکل کر بلوچستان کے دشوار گزار اور پہاڑی علاقوں میں اپنی پناہ گاہیں بنا لیں دوسری جانب انھیں سرحد پار سے بھی امداد مل رہی ہے جس کے شواہد منظرعام پر آ چکے ہیں۔پاکستان سے فرار ہونے والے دہشت گردوں کی بڑی تعداد افغانستان کے اندر پناہ لیے ہوئے ہے' پاکستانی حکومت نے متعدد بار افغان حکومت کو ان دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا لیکن ابھی تک افغانستان میں موجود دہشت گردوں کے خلاف بڑے پیمانے پر کارروائی کی نوبت نہیں آئی' اس سلسلے میں جتنی تاخیر ہوتی چلی جائے گی دہشت گردوں کے حوصلے بلند ہوتے چلے جائیں گے اور افغانستان اور پاکستان کا خطہ دہشت گردوں کے نشانے پر رہیں گے۔ دہشت گردوں کو ختم کرنے کے لیے ناگزیر ہے کہ ان کی بیرونی اور اندرونی سپلائی لائن کاٹ دی جائے جب تک ہر دو سطح پر یہ سپلائی لائن بحال رہے گی دہشت گرد اپنی کارروائیاں کرتے رہیں گے۔

داخلی سطح پر دہشت گردوں کے سہولت کاروں کو بھی قانون کے کٹہرے میں لانا لازم ہو چکا ہے' یہ سہولت کار ہی ہیں جن کے باعث دہشت گرد نہ صرف اپنے مذموم ارادوں میں کامیاب ہو جاتے بلکہ بے شناخت اور بے چہرہ ہونے کے باعث قانون کے شکنجے میں بھی نہیں آتے۔ بلوچستان اور ملک بھر میں دہشت گردی کے خاتمے کے لیے ناگزیر ہے کہ عوامی سطح پر انسداد دہشت گردی کمیٹیاں تشکیل دی جائیں اس کے لیے بلدیاتی اداروں کو بھی متحرک کیا جا سکتا ہے کیونکہ بلدیاتی اداروں کے نمایندوں کا عوام سے براہ راست رابطہ ہوتا اور وہ اپنے علاقے کی جغرافیائی حدود سے بھی بخوبی آگاہ ہوتے ہیں۔ دہشت گردی کے خلاف یہ جنگ ایک طویل اور صبر آزما مرحلہ ہے' وقت آ گیا ہے کہ تمام سول ادارے اور سیاسی جماعتیں نظریاتی اور جنگی محاذ پر اس ناسور کے خاتمے کے لیے متحد ہو جائیں۔