وزیراعلیٰ سندھ کا قابل قدرکارنامہ
اس مافیا میں منتخب نمایندے، سول اور عسکری بیوروکریٹس، اساتذہ، والدین اور طالب علم سب شریک رہے ہیں
امتحانات میں نقل اور امتحانات میں امتیازی پوزیشنوں کی نیلامی کا معاملہ تو سندھ میں ہمیشہ سے تھا مگر سندھ کے وزیر اعلیٰ مراد علی شاہ نے پہلی دفعہ اس سنگین معاملے کا نوٹس لیا۔کراچی کی انتظامیہ اور پولیس فورس متحرک ہوئی، مگر اساتذہ تشدد کا شکار ہوئے ۔ وزیر اعلیٰ نے تین دن تک کراچی کے مختلف کالجوں کے دورے کیے، طلبہ کی امتحانی کاپیاں چیک کیں اورکئی دن بعد الیکٹرونک میڈیا پر یہ بریکنگ نیوز نشر ہوئی کہ آج انٹرمیڈیٹ کا کوئی پرچہ آؤٹ نہیں ہوا۔ مگر کیا امتحانات میں نقل مکمل طور پر ختم ہوگئی یہ سرٹیفکیٹ کس طرح دیا جاسکتا ہے؟ اگلے دنوں کے دوران امتحانی مراکز سے آنے والی خبروں سے یہ سوال حل ہو جائے گا۔ سندھ میں ایجوکیشن مافیا ہمیشہ سے بہت مضبوط رہی ہے۔
اس مافیا میں منتخب نمایندے، سول اور عسکری بیوروکریٹس، اساتذہ، والدین اور طالب علم سب شریک رہے ہیں۔ اساتذہ کہتے ہیں کہ نقل کا مسئلہ میٹرک اورانٹرمیڈیٹ کے سربراہوں اورافسروں کے تقرر سے شروع ہوتا ہے۔کراچی میں گزشتہ 17 برسوں سے یہ بات عام سی ہے کہ مجاز اتھارٹی سندھ بھرکے میٹرک اور انٹرمیڈیٹ بورڈز کے چیئرپرسن، سیکریٹری اورکنٹرولر امتحانات کے عہدے باقاعدہ نیلام ہوتے ہیں۔ان عہدوں پر تعینات افراد پہلے اپنے تقررکے لیے رقم جمع کرتے ہیں اور پھر مجاز اتھارٹیز کو سب سے زیادہ رقم فراہم کرتے ہیں اور پھر اپنی رقم کی وصولی اور فائدہ حاصل کرنے میں لگ جاتے ہیں۔ یہ افسران اپنی مرضی کے افسران کا تقررکرتے ہیں، یوں معاملہ نچلی سطح تک جاتا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ جب بھی امتحانات میں نقل کی خبریں شایع ہوتی تھیں توگورنر، وزیر اعلیٰ اور وزیرتعلیم محض بیانات دیتے تھے اور پھر معاملات جوں کے توں رہ جاتے تھے۔ کراچی اور اندرونِ سندھ لسانی تنظیمیں اور سیاسی جماعتیں اپنی طلبہ تنظیموں کی نقل کے لیے سرپرستی کرتی تھیں۔ یہ طلبہ تنظیمیں امتحانی مراکز کو اس طرح یرغمال بنالیتی تھیں جس طرح دورانِ انتخابات پولنگ اسٹیشنوں کو بنایا جاتا تھا۔ ان تنظیموں کے عہدیدار امتحان کی نگرانی کرنے والے عملے کا تقررکرتے تھے۔
بعض صحافی اپنے مشاہدے کی بنیاد پر بتاتے ہیں کہ طلبہ تنظیموںکی بنیادی دلچسپی امتحانی بورڈ اور یونیورسٹیوں کے امتحانات کے شعبے ہوتے تھے۔ یہ بھی کہا جاتا رہا ہے کہ ایک لسانی تنظیم کا یونیورسٹی کا سیکٹر انچارج تبدیل ہوتے ہی یونیورسٹی کے امتحانات کے شعبے کے افسران بھی تبدیل ہوجاتے تھے۔ ایماندار افسران اور مخلص اساتذہ امتحانی کاموں سے دور رہنے کو ترجیح دیتے تھے۔
ایک استاد کا کہنا ہے اگرچہ کراچی میں ہونے والے آپریشن کے بعد جہاں امن و امان کی صورتحال بہتر ہوئی ہے وہاں یونیورسٹیوں، کالجوں اور اسکولوں کے حالات میں بھی تبدیلی آگئی ہے۔ اب طلبہ تنظیمیں اور ان کی سرپرست سیاسی جماعتیں تعلیمی اداروں کے معاملات میں مداخلت نہیں کررہیں مگر کالجوں کے کلچر میں کوئی بنیادی تبدیلیاں رونما نہیں ہوئیں۔ اب بھی اساتذہ کالجوں میں تدریس کے لیے نہیں آتے۔ طلبہ کوکوچنگ سینٹر جانا پڑتا ہے۔ یہ کوچنگ سینٹر مافیا بھی نقل کرانے میں بنیادی کردار ادا کرتی ہیں۔ ایک سینئر استاد نے انکشاف کیا کہ کراچی کے عسکری علاقے میں قائم سرکاری کالج میں جو استاد نگراں کے فرائض انجام دے رہے ہیں ۔ ان کے کراچی بھر میں 6 کے قریب کوچنگ سینٹر ہیں اور ان کے کئی قریبی عزیزوں کے پرائیوٹ کالج ہیں۔
ان کوچنگ سینٹر اور پرائیوٹ کالج میں تعلیم حاصل کرنے والے طلبہ کا ان کے کالج میں سینٹر ہے۔ یہ صاحب ایک عشرے سے نگراں کے فرائض انجام دے رہے ہیں ، یوں مفادات کے تحفظ کا عنصر بہت زیادہ واضح نظر آتا ہے۔ امتحانی پرچے ترتیب دینے والے اساتذہ بھی مختلف کوچنگ سینٹروں سے منسلک ہیں۔ ان میں سے کئی تو بڑے بڑے کوچنگ سینٹروںکے شراکت دار ہیں۔ ایک اور استاد نے اپنا تجربہ بیان کرتے ہوئے کہا کہ بعض اوقات معروضی سوالات (M.C.Q's) کا پرچہ ابھی طلبہ میں تقسیم ہی نہیں ہوتا کہ طلبہ جوابات لکھنے لگتے ہیں۔
کوچنگ سینٹروں میں مخصوص طور پر ترتیب دیے گئے نوٹس فروخت ہوتے ہیں۔ امتحانی پرچے میں ایسے مخصوص سوالات کیے جاتے ہیں کہ جن کے جوابات ان نوٹس میں ہی ملتے ہیں۔ انفارمیشن ٹیکنالوجی نے نقل کے معاملے کو بہت زیادہ سنگین کردیا ہے۔ عموماً واٹس اپ اور فیس بک پر رات گئے امتحانی پرچہ کے گیس پیپر شایع کیا جاتا ہے جس کو امتحانی پرچہ سمجھ لیا جاتا ہے، یوں صبح ہوتے ہی امتحانی پرچے کی ساکھ ختم ہوجاتی ہے۔
جب انفارمیشن ٹیکنالوجی موجود نہیں تھی تو امتحانی پرچے کی رات یہ گیس پیپر فوٹو اسٹیٹ کے ذریعے فروخت ہوتے تھے مگر یہ مخصوص علاقے سے آگے نہیں بڑھ سکتے تھے۔ بعض اوقات بورڈ آفس سے پرچہ نکلتے ہی امتحانی پرچہ سوشل میڈیا پر وائرل ہوجاتا ہے۔ بعض اوقات ایسا ممکن نہیں ہوپاتا تو جب بورڈ کا عملہ پرچہ لے کر امتحانی مرکز تک پہنچتا ہے تو نگراں کے دفتر میں پرچے کے بنڈل کھل جاتے ہیں اور مختلف کلاسوں میں تقسیم کیے جاتے ہیں۔ انھیں لفافوں میں رکھا جاتا ہے۔ اس وقت کوئی بھی فرد پرچے کی کیمرے سے تصور بنا کر واٹس اپ پر پوسٹ کردیتا ہے۔
بورڈ کے امتحانی مرکزکی نگرانی کا نظام بھی فرسودہ ہے۔ اس وقت سندھ پروفیسر لیکچرار ایسوسی ایشن دو گروپوں میں تقسیم ہے۔ ایم کیو ایم کی حامی تنظیم سندھ ٹیچرز الائنس بھی موجود ہے۔ نگرانی کی ٹیموں کے ارکان کو بھاری معاوضہ ملتا ہے۔ یہ تنظیمیں بورڈ کے حکام پر دباؤ ڈال کر اپنے حامیوں کو ان ٹیموں میں شامل کراتی ہیں۔ یہ اساتذہ عمومی طور پر درگزر کی پالیسی پر عمل کرتے ہیں۔ بعض دفعہ امتحانی مرکز کے نگراں انھیں دوستانہ مشورہ دیتے ہیں کہ بہت زیادہ سختی سے امن و امان کی صورتحال بگڑ جانے کا خدشہ ہے۔
ایماندار اساتذہ کو اس بات پر بھی فرسٹریشن ہوتی تھی کہ بااثر افراد اپنے بچوں کو بچائیں گے۔ یہی وجہ ہے کہ جب نگراں ٹیمیں امتحانی مرکز میں داخل ہوتی تھیں تو سب کچھ ٹھیک ہوجاتا تھا۔ ان ٹیموں کے ارکان خانہ پوری کرکے چلے جاتے تھے یا چند کیس درج کرلیے جاتے تھے۔ گزشتہ 10 برسوں کے دوران ان ٹیموں نے کئی ایسے مراکز کا پتہ چلایا جہاں طلبہ غیر قانونی طور پر امتحان دے رہے تھے۔ شاہ فیصل کالونی کے ایک امتحانی مرکز میں تو اسی اسکول کے طالب علم ہی کو امتحان دینے کا موقع فراہم کیا جارہا تھا مگر میڈیا پر شور شرابے کے باوجود بااثر افراد کے دباؤ کی بناء پر کسی فرد کے خلاف کارروائی نہ ہوسکی تھی۔
وزیراعلیٰ سندھ نے اس وقت سب سے اہم کام یہ کیا کہ کمشنر، ڈپٹی کمشنروں اور سب ڈویژن مجسٹریٹوں کو امتحانی مراکز پر تعینات کردیا، یوں سینٹروں میں اساتذہ، غیر تدریسی عملے اور طلبہ پر موبائل فون لانے پر پابندی لگ گئی۔ اسی طرح پرچے کے آؤٹ ہونے اور سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے امکانات معدوم ہوگئے مگر پاکستان کی بیوروکریسی کے کلچر سے سب واقف ہیں۔ یہ افسرمستقل امتحانی مراکز کی نگرانی کا فریضہ انجام نہیں دے سکتے۔ نقل کے خاتمے کے لیے امتحانی نظام میں انقلابی تبدیلیوں کی ضرورت ہے۔
سب سے بنیادی بات یہ ہے کہ بورڈ کے افسروں کی تقرری میرٹ پرکی جائے اور احتساب کا جامع نظام بنایا جائے۔ کالجوں میں اساتذہ اور طلبہ کی حاضری کے نظام کو لازمی کیا جائے۔ اس مقصد کے لیے انفارمیشن ٹیکنالوجی کا استعمال کیا جائے۔ جو اساتذہ کوچنگ سینٹر چلاتے ہیں یا وہاں تدریس کے فرائض انجام دیتے ہیں انھیں امتحانی کاپیوں سے دور رکھا جائے۔ امتحانی پرچہ تیارکرنے کا موجودہ طریقہ کار فرسودہ اور ناقص ہے۔ ہر پرچے کے 10 ہزار سوال کمپیوٹر میں فیڈ کیے جائیں اور امتحان کی صبح بورڈ کے اعلیٰ افسران کمپیوٹر کی بٹن دبائیں اورکمپیوٹر خود 5 سوالات کا پرچہ تیارکرے۔ پھر ہر امتحانی مرکز میں طاقت ور پرنٹر لگائے جائیں۔ا ن پرنٹرز کو بورڈ کے نظام سے منسلک کیا جائے اور صبح 9:00 بجے ہر مرکز میں پرچہ پرنٹ ہوکر تقسیم ہوجائے۔ امتحانی مراکز میں موبائل فون لے جانے پر پابندی عائد ہونی چاہیے اور کوشش کی جانی چاہیے کہ ہر مرکز میں کمپیوٹر یا لیپ ٹاپ موجود ہو۔ طلبہ کو لیپ ٹاپ پر پرچہ وصول کرنے اور لیپ ٹاپ پر جواب دینے کی حوصلہ افزائی کی جائے۔
وزیراعلیٰ شہباز شریف نے 2008ء میں پنجاب میں بوٹی مافیا کے خلاف تحریک شروع کی تھی۔ وہاں کا تعلیمی نظام بہتر ہوگیا۔ یہی وجہ ہے کہ سی ایس ایس کے امتحانات میں پنجاب کے کامیاب طلبہ کی تعداد 100 سے تجاوز کرگئی اور سندھ کے صرف 12 امیدوار ہی کامیاب ہوسکے۔ سندھ کے وزیر اعلیٰ مراد علی شاہ نے اب تحریک کا آغازکیا ہے۔ اس تحریک کا دائرہ صوبے بھر تک پھیلایا جائے اور ہرباشعور شخص وزیراعلیٰ سندھ کی حمایت کرے۔