کراچی حصص مارکیٹ میں اتار چڑھاؤ کے بعد تیزی برقرار

انڈیکس 14 پوائنٹس بڑھ کر 16908 ہوگیا،51 فیصد حصص کی قیمتوں میں اضافہ۔


Business Reporter January 24, 2013
مارکیٹ سرمایہ مزید 14 ارب 39 کروڑ روپے بلند، 21 کروڑ 77 لاکھ حصص کا لین دین۔ فوٹو : آن لائن

KARACHI: کراچی اسٹاک ایکس چینج میں بدھ کوابتدائی اوقات کے ایک گھنٹے کے دورانیے میں اتار چڑھائو کے بعد قدرے تیزی کا تسلسل قائم رہا جس سے انڈیکس کی 16900 کی نفسیاتی حد بھی بحال ہوگئی۔

تیزی کے باعث 51.15 فیصد حصص کی قیمتیں بڑھ گئیں جبکہ حصص کی مالیت میں مزید14 ارب39 کروڑ60 لاکھ 99 ہزار 816 روپے کا اضافہ ہوگیا، عمومی طور پر سرمایہ کاروں کو نمایاں تیزی رونما ہونے کی توقع تھی لیکن کاروبار کے آغاز پر عدالت عالیہ میں رینٹل پاور کیس کی سماعت کے دوران کسی بھی سخت فیصلہ آنے کے خدشات کے باعث دوراندیش سرمایہ کاروں نے نئی سرمایہ کاری کے بجائے حصص کی آف لوڈنگ کو ترجیح دی جس کے سبب مارکیٹ اتار چڑھائو کی زد میں رہی اور ایک موقع پر 24.66 پوائنٹس کی مندی بھی رونما ہوئی۔

ماہرین اسٹاک کا کہنا تھا کہ سیاسی افق پر اگرچہ فضا بہتر ہوگئی ہے لیکن عید میلادالنبیﷺ کے سلسلے میں تعطیلات اور ان تعطیلات میں کسی بھی ناخوشگوار واقعے کے خدشات کے پیش نظر متعدد شعبوں نے حصص کی فروخت کو ترجیح دی جس کی وجہ سے مارکیٹ میں نمایاں تیزی رونما نہ ہو سکی تاہم درمیانے درجے کے اسٹاکس میں سرمایہ کاری نے مارکیٹ کے گراف کو بلند کیا، ٹریڈنگ کے دوران بینکوں ومالیاتی اداروں، این بی ایف سیز اور انفرادی سرمایہ کاروں کی جانب سے مجموعی طور پر 62 لاکھ70 ہزار157 ڈالر مالیت کے سرمائے کا انخلا کیا گیا۔



جبکہ اسکے برعکس غیرملکیوں کی جانب سے4 لاکھ58 ہزار550 ڈالر، مقامی کمپنیوں کی جانب سے17 لاکھ14 ہزار80 ڈالر، میوچل فنڈز کی جانب سے7 لاکھ33 ہزار897 ڈالر اور دیگر آرگنائزیشنز کی جانب سے33 لاکھ63 ہزار629 ڈالر مالیت کی تازہ سرمایہ کاری کی گئی جو تیزی کا تسلسل قائم رکھنے میں معاون ثابت ہوئی نتیجتاً کاروبار کے اختتام پر کے ایس ای100 انڈیکس14.58 پوائنٹس کے اضافے سے 16908.67 اور کے ایس ای30 انڈیکس17.77 پوائنٹس کے اضافے سے 13806.38 ہوگیا۔

جبکہ اسکے برعکس کے ایم آئی30 انڈیکس54.17 پوائنٹس کی کمی سے29174.64 ہوگیا، کاروباری حجم میں بدھ کو 18.22 فیصد اضافہ ہوا، مجموعی طور پر 21 کروڑ 76 لاکھ90ہزار930حصص کا لین دین ہوا، تجارتی سرگرمیوں کا دائرہ346 کمپنیوں تک محیط رہا جن میں سے 177کمپنیوں کی قیمتوں میں اضافہ، 148 کمپنیوں کے بھائو میں کمی اور 21 کمپنیوں کے نرخ میں استحکام رہا۔