عراق نماز جنازہ کے دوران خودکش دھماکا 42 افراد جاں بحق 75زخمی

دھماکے کے بعد لاشیں اور مرنے والوں کے اعضا دور دور تک بکھر گئے، کسی گروپ نے حملے کی ذمے داری قبول نہیں کی۔


AFP January 24, 2013
کردستان کے سربراہ اور ترک وزیر خارجہ اختلافات کو ہوا دے رہے ہیں، عراق کو شام بنانے کی سازش ہو رہی ہے، وزیراعظم المالکی. فوٹو: ایکسپریس نیوز

عراق میں خودکش حملے میں 42 افراد جاں بحق اور 75 زخمی ہوگئے۔

ذرائع ابلاغ کے مطابق دارالحکومت بغداد کے شمالی شہر تزخرماتو کی ایک شیعہ مسجد میں ایک شہری کی نماز جنازہ ادا کی جارہی تھی کہ خودکش حملہ آور نے درمیان میں جاکر دھماکا کردیا جس میں 42 افراد ہلاک اور 75 زخمی ہوگئے ہلاک اور زخمی ہونے والوںمیں حکام اور قبائلی عمائدین بھی شامل ہیں، دھماکے کے بعد لاشیں اور مرنے والوں کے اعضا دور دور تک بکھر گئے، کسی گروپ نے حملے کی ذمے داری قبول نہیں کی ہے۔



دوسری طرف عراقی وزیراعظم نوری المالکی نے ترک حکام اور بارزانی کے موقف پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ بعض افراد عراق کو بھی شام بنانے کا منصوبہ بنا رہے ہیں۔ عراقی وزیراعظم نے صوبہ کردستان کے سربراہ مسعود بارزانی اور ترک وزیر خارجہ دائود اوغلو کے بیانات پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ یہ افراد عراق میں امن و استحکام قائم کرنے کے بجائے اختلافات کو ہوا دینے کی کوشش کر رہے ہیں۔ نوری المالکی نے کہا ہے کہ عراق کے تمام قبائل حکومت کے ساتھ ہیں۔