کلبھوشن یادیو… عالمی عدالت میں بھارت کا کمزور مؤقف

کلبھوشن کے کیس میں پاکستان کا مؤقف بالکل واضح ہے


Editorial May 17, 2017
کلبھوشن کے کیس میں پاکستان کا مؤقف بالکل واضح ہے

بھارت نے اپنے جاسوس کلبھوشن یادیو کی سزائے موت رکوانے کے لیے عالمی عدالت انصاف میں دو درخواست دائر کی ہے اس پر گزشتہ روز سماعت ہوئی۔ پاکستان نے عالمی عدالت انصاف سے بھارتی درخواست مسترد کرنیکی استدعا کرتے ہوئے کہا ہے کہ کلبھوشن یادیو کا معاملہ عالمی عدالت کے دائرہ اختیار میں نہیں آتا۔ پاکستان نے مؤقف اختیار کیا کہ ویانا کنونشن کے تحت عالمی عدالت انصاف کا دائرہ کار محدود ہے، اس لیے کلبھوشن یادیو کا معاملہ عالمی عدالت میں نہیں چلایا جا سکتا لہٰذا وہ بھارتی درخواست مسترد کرے۔

بھارت کی طرف سے 11 رکنی قانونی ٹیم نے دلائل دیے، بھارتی وکلاء نے مؤقف اختیارکیا کہ کلبھوشن یادیو بے گناہ ہے، پاکستان نے اسے پھانسی کی سزا سنا کر ویانا کنونشن کی خلاف ورزی کی، نئی دہلی نے کلبھوشن یادیو تک قونصلر رسائی کی درخواست دی جسے پاکستان نے مسترد کر دیا حالانکہ پورا مقدمہ غلط ہے لہٰذا پاکستان کو کلبھوشن کو سزائے موت دینے سے روکا جائے۔ فریقین کے دلائل سننے کے بعد عالمی عدالت انصاف نے فیصلہ محفوظ کرلیا، جج کاکہنا تھا کہ بھارتی درخواست کی سماعت مکمل کر لی گئی ہے، فریقین کوفیصلے کی تاریخ سے متعلق جلد بتا دیا جائے گا۔ بھارت نے کلبھوشن کے معاملے پر حقائق کو تسلیم کرنے کے بجائے پاکستان پر دباؤ بڑھانے کی پالیسی اختیار کر لی ہے۔

کلبھوشن کے کیس میں پاکستان کا مؤقف بالکل واضح ہے۔ کلبھوشن یادیو جعلی پاسپورٹ پر ایران سے پاکستان آیا، اس کے پاس دو سے تین پاسپورٹ تھے اور اس کے ایک پاسپورٹ پر مسلم نام لکھا ہوا تھا۔ پاکستان نے جب اسے گرفتار کیا تو دوران تفتیش اس نے اعتراف کیا کہ وہ انڈین فوج کا حاضرسروس افسر ہے اور اس کو بلوچستان میں انارکی پھیلانے کا ٹارگٹ دیا گیا تھا۔

بھارت نے عالمی عدالت کے سامنے پورے حقائق بیان نہیں کیے، بھارت یہ سب کچھ پاکستان کو دباؤ میں لانے کے لیے کر رہا ہے۔ پاکستان کئی بار عالمی سطح پر بلوچستان میں بھارت کی مداخلت کے ثبوت پیش کر چکا ہے۔ یوں دیکھا جائے تو بلوچستان میں کلبھوشن یادیو جیسے بھارتی جاسوسوں کی موجودگی اچنبھے کی بات نہیں ہے۔ اصولی طور پر تو بھارت کو پاکستان میں افراتفری پھیلانے اور دہشت گرد گروہوں کو مدد دینے سے ہاتھ کھینچ لینا چاہیے، اس طریقے سے ہی دونوں ملکوں کے درمیان بہتر تعلقات قائم کرنے کی کوئی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔