گڈز ٹرانسپورٹرز کی ہڑتال اجناس کی ترسیل معطل

ہول سیل مارکیٹ سے ملک کے دیگر شہروں کو اجناس کی ترسیل معطل ہونے سے ...


May 17, 2017
ہول سیل مارکیٹ سے ملک کے دیگر شہروں کو اجناس کی ترسیل معطل ہونے سے

کراچی میں گڈز ٹرانسپورٹرز کی ہڑتال کے باعث ملکی تجارت کو شدید نقصان پہنچا ہے ۔ کراچی پورٹس کے ٹرمینلز پر جہازوں کی آمد بند ہونے اور مال اتارنے کی گنجائش ختم ہونے سے ایک سنگین صورتحال پیدا ہوگئی ہے۔ اشیائے خورونوش کے پچیس سو کنیٹنرز رکنے سے قیمتوں میں اضافے اور اجناس کا بحران پیدا ہوجائے گا۔ سرکاری محکموں اور صوبائی حکومت کی فرائض سے غفلت کی علت اس نے پورے نظام کی جڑیں تک ہلا کر رکھ دی ہیں ۔ نہ تو گڈز ٹرانسپورٹرز کی ہڑتال ختم کروانے کے لیے متعلقہ محکموں نے کوشش کی اور نہ ہی سرکار نے ۔ اندازہ کیجیے کہ کے آئی سی ٹی شپنگ لائنزکو خط لکھا کہ شپنگ لائنز ٹرمینل پر نہ آئیں ۔ شپنگ ماہرین کا کہنا ہے کہ تاریخ میں جنگ کے علاوہ بندرگاہوں پر جہازوں کی آمد کبھی نہیں روکی گئی۔

جہازوں کی لمبی قطاریں اورطویل انتظارکے سبب جہازان دوٹرمینلز پرآنے سے معذرت بھی کرسکتے ہیں۔ دوسری طرف بندرگاہوں پر پھنسے ہزاروں کنٹینرز پر جرمانہ بھی عائد ہونا بھی شروع ہوگیا ہے ۔ جس پر تاجر برادری میں شدید غم وغصہ پایا جاتا ہے ۔ کراچی کی بندرگاہ پر مختلف اقسام کی دالوں ، مصالحوں ، خشک دودھ،چائے کی پتی سمیت دیگر ضروری خوردنی اشیاء کے پچیس سو زائد کنٹینرز پھنس کر رہ گئے ہیں ۔

ہول سیل مارکیٹ سے ملک کے دیگر شہروں کو اجناس کی ترسیل معطل ہونے سے رمضان المبارک میں ایک شدید بحران کا سامنے کرنا پڑے گا،گورنرسندھ نے گڈز ٹرانسپورٹرز کے وفد کو مذاکرات کے لیے بلایا ،اگر مطالبات تسلیم کر کے ہڑتال ختم بھی ہوجاتی ہے تو بھی اس کے منفی اثرات دیر تک قائم رہیں گے اور اشیا کی سپلائی کم اور طلب زیادہ ہونے سے قیمتوں پر بھی اثر پڑے گا ، چائے کی پتی ، خشک دودھ ، مصالحوں کے کنیٹنرز ملا کر پچیس سو سے زائد کینیٹنرز میں ضروری خوردنی اشیاء ہیں جو پورٹ پر ہیں۔

اس ضمن میں ڈی آئی جی ٹریفک کا موقف ہے کہ ٹرانسپورٹرز کے مطالبات غیرضروری ہیں کیونکہ اب بھی شہرکے صنعتی علاقوں کا راستہ کھلا ہے ۔ تساہل برتنے کے عمل نے عوام کی زندگیوں کو اجیرن بنادیا ہے ،جمہوریت میں جمہور کے ساتھ ایسا رویہ نامناسب ہے ۔ حکومت کو چاہیے کہ بندرگاہ کی صورتحال کی بہتری کے لیے اقدامات اٹھائے۔