گورنرسندھ سے مذاکرات ناکام گڈز ٹرانسپورٹرز کی ہڑتال جاری

مطالبات کی منظوری تک ہڑتال جاری رہے گی، گڈز ٹرانسپورٹرز


90 صنعتکاروں نے بطور احتجاج فیکٹریوں کی چابیاں ایسوسی ایشنز کے حوالے کر دیں، شپنگ لائنز نے پورٹ چارجز عائد کرنے کا فیصلہ فوٹو : فائل

HANGU: گڈز ٹرانسپورٹ کی ہڑتال کو 9روز ہوگئے ہیں، گورنر سندھ محمد زبیر سے ٹرانسپورٹرز کے مذاکرات ناکام ہوگئے،۔

ٹرانسپورٹرز نے کہا ہے کہ مطالبات کی منظوری تک ہڑتال جاری رہے گی، ٹرانسپورٹرز کے وفد سے ملاقات میں صوبائی وزیر ٹرانسپورٹ ناصر شاہ نے کہا ہے پیپلزپارٹی کے شریک چیئرمین آصف زرداری نے ٹرانسپورٹرز کے مسائل جلد حل کرنے کی ہدایت کردی ہے، معاملہ عدالت میں ہے جس کی جلد سماعت کے لیے درخواست دائرکردی ہے۔

کراچی بندگاہ سے کنٹینرز کی ترسیل کا کام رکا ہوا ہے جس کے باعث امپورٹ ایکسپورٹ بھی بند ہوگئی،جس کے نتیجے میں اربوں روپے کا نقصان ہو چکا ہے۔ دوسری جانب کنٹینرٹرانسپورٹرزکی طویل دورانیے کی ہڑتال سے متاثر ہونے والے کراچی کے90 صنعتکاروں نے بطوراحتجاج فیکٹریوں کی چابیاں اپنی متعلقہ ایسوسی ایشنزکے حوالے کردی ہیں، کراچی چیمبرآف کامرس، پاکستان ہوزری مینوفیکچررزایسوسی ایشن سمیت کراچی بھرکی برآمدی صنعتی انجمنوں نے 9یوم سے جاری ٹرانسپورٹرزکی ہڑتال پر حکومت کی خاموشی پرحیرت کااظہارکرتے ہوئے سپریم کورٹ سے ازخودکاروائی کامطالبہ کردیاہے جبکہ تاجربرادری کی جانب سے بدھ کوعدالت عالیہ میں پٹیشن بھی دائرکرنے اور ٹرانسپورٹرزکی ہڑتال ختم نہ ہونے کی صورت میں فیکٹریوں کی چابیاں حکومت کے پاس جمع کروانے کا اعلان کردیاگیاہے۔

دریں اثنا کنٹینرٹرانسپورٹرز کی طویل دورانیے کی ہڑتال سے متاثر ہونے والی شپنگ لائنز نے پورٹ کنجیشن چارجز عائد کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے، یہ فیصلہ بدھ کوآل پاکستان شپنگ ایسوسی ایشن کے ہنگامی اجلاس میں کیا گیا جس کی صدارت ایسوسی ایشن کے چیئرمین عاصم اے صدیقی نے کی۔ منگل کوگورنر سندھ محمد زبیر نے ٹرانسپورٹرز کے وفد سے مذاکرات کے موقع پر کہا کہ ٹرانسپورٹرز اپنے مسائل ہڑتال کے بجائے مذاکرات کے ذریعے حل کرائیں، ان کے جائز مسائل ضرور حل کیے جائیں گے، اس موقع پر ٹرانسپورٹرز کے وفد نے گورنر سندھ کا مسائل سننے پر شکریہ ادا کیا اور کہا کہ شہر میں طے شدہ روٹس پر ان کی گاڑیوں کو چلنے کی اجازت دی جائے بصورت دیگر ہڑتال جاری رہے گی۔

بعدازاں وفد نے صوبائی وزیرٹرانسپورٹ ناصر شاہ سے ملاقات کی، علاوہ ازیں منگل کو کراچی پریس کلب میں کراچی چیمبرکے صدر شمیم فرپو،سابق صدر کراچی چیمبر زبیر موتی والا ،چیئرمین پاکستان اپیرل فورم جاوید بلوانی ،لسبیلہ چیمبرکے صدراسماعیل ستار،پی ایچ ایم اے کے سابق چیئرمین عرفان موٹن اورٹاول مینوفیکرز ایسوسی ایشن ،رائس ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن ،لانڈھی ایسوسی ایشن آف ٹریڈ انڈسٹریز ،نارتھ کراچی ایسوسی ایشن آف ٹریڈ اینڈ انڈسٹریز ،فیڈرل بی ایریا ایسوسی ایشن آف ٹریڈ اینڈ انڈسٹریز کے عہدیداران نے ہنگامی پریس کانفرنس سے خطاب کیا، شمیم فرپونے کہاکہ 9 یوم سے جاری ٹرانسپورٹرز کی ہڑتال کے نتیجے میں درآمدی وبرآمدی سرگرمیاں مکمل طور پر معطل ہوگئی ہیں۔

بندرگاہ پر کنٹینرز رکھنے کی گنجائش ختم ہو گئی ہے ۔ آپریٹرز نے آنے والے جہازوں کو لنگرانداز ہونے سے روکناشروع کردیا ہے،فیکٹریوں میں خام مال کی آمد بند ہونے سے پیداواری سرگرمیاں رک گئی ہیں،بندرگاہوں پر درآمدی وبرآمدی کنٹینرز پر ڈیمرج چارجز ،اور برآمد کنندگان کے لیٹر آف کریڈٹ ( ایل سیز) زائد المیعاد ہوتے جارہے ہیں جس کے نتیجے میں انھیں بھاری نقصان کا سامنا ہے ،برآمدی آرڈرز کینسل ہونا شروع ہوگئے ہیں انھوں نے کہا کہ فیصل آباد ،لاہور اور گوجرانوالہ سمیت دیگر شہروں کے تاجر بھی اظہار یکجہتی کررہے ہیں ،جاوید بلوانی نے کہاکہ کنٹریکٹ لیبر کو فارغ کرنے پر مجبور ہوگئے ہیں جبکہ مزدروں کی تنخواہوں کی ادائیگی بھی مشکل ہورہی ہے، اگر شہر کی سڑکوں اور شاہراہوں پر بھاری گاڑیوں کی آمد ورفت کا بوجھ کم کرنا ہے تو حکومت کو بائی پاسز اور اور پورا انفرااسٹرکچر بنانا چاہیے ۔

زین بشیر ،اسماعیل ستار اور دیگر صنعتکاروں کا کہنا تھا کہ ٹرانسپورٹرز کی ہڑتال کے نتیجے میں صنعتکاروں کوپہنچنے والے نقصانات کاذمے دارکون ہے ؟فیکٹریاں بند ہونے کے نتیجے میں بے روزگاری بڑھے گی،دریں اثنا بدھ کوآل پاکستان شپنگ ایسوسی ایشن کے ہنگامی اجلاس میں بتایا گیاکہ کراچی اور بن قاسم کی بندرگاہوں پر تمام ٹرمینلز کی سرگرمیاں کم وبیش رک چکی ہیں،بحری جہازوں کے آپریشنزاورشیڈول بری طرح متاثرہے ، بحری جہازوں کا ٹرن ٹائم بڑھنے ے پورٹ چارجز اور جہازوں کی چارٹرلاگت بری طرح متاثر ہے، برآمدی کنسائمنٹس جہازوں پر لوڈ کرنے کے لیے بندرگاہوں پر نہیں پہنچ پارہے ہیں اس لیے فریٹ اور متعلقہ چارجز کی مد میں ریونیو کا بھی نقصان ہورہا ہے، گہرے سمندر میں برتھوں کے لیے بحری جہازوں کے انتظارکی وجہ سے لاگت بڑھ رہی ہے ان نقصانات کی ریکوری کے لیے پورٹ کنجیشن چارجز عائد کرنے کا فیصلہ کیا ہے ۔

مقبول خبریں