بن غازی قونصلیٹ حملہ کیس ہلیری آپے سے باہر ہوگئیں

کسی بھی بد انتظامی کی ذمے داری لیتی ہوں،مگر رپورٹس کو نظر انداز نہیں کیا


AFP January 24, 2013
اضافی سیکیورٹی کی درخواست پڑھی ہی نہیں ،برطرف کردینا چاہیے،رینڈ پال۔ فوٹو: اے ایف پی

امریکی وزیر خارجہ ہلیرکلنٹن بن غازی میں امریکی قونصلیٹ پر حملے کے حوالے سے سینیٹ کی کمیٹی برائے خارجہ تعلقات کی سماعت کے دو ران آپے سے باہر ہوگئیں۔

انھوں نے ری پبلکن سینیٹر کی جانب سے اس الزام کی سختی سے تردید کی کہ لیبیا میں انتہاپسندی کے حوالے سے رپورٹس کو نظر انداز کیا گیا اور قونصل خانے کو معقول سیکیورٹی فراہم نہیں کی گئی۔واضح رہے کہ اسلام مخالف امریکی فلم کے خلاف احتجاج کے دوران مشتعل مظاہرین نے امریکی سفارتخانے پر چڑھائی کردی تھی اس واقعے میں امریکی سفیر سمیت 4افراد ہلاک ہوئے تھے۔

سینیٹر رون جانسن نے ایک سے زائد بار کہا کہ حکام اس واقعے کو اسلام مخالف فلم کے خلاف احتجاج سے غلط طور پر منسوب کررہے ہیں حملے میں جدید ہتھیاروں سے مسلح القاعدہ کے شدت پسندوں سے 8گھنٹے فائرنگ کا تبادلہ ہوا تھا۔سینیٹر رینڈ پال نے کہا کہ قونصل خانے کی جانب سے اضافی سیکیورٹی کی درخواست پڑھی ہی نہیں گئی اس غلطی پر تو ہلیری کلنٹن کو برطرف کردینا چاہیے۔

16

سینیٹر جان مکین نے کہا کہ اس سانحے میںہمارے 4بہادر امریکی اہلکار مارے گئے، کئی سوالوں کے جواب نہیں دیے گئے انھوں نے ہلیری کلنٹن پر عدم اعتماد کا اظہار کیا۔ بطور وزیر خارجہ کمیٹی کے روبرو اپنی آخری پیشی کے موقع پر ہلیری کلنٹن نے قونصل خانے میں کسی بھی بد انتظامی کی پوری ذمے داری قبو ل کی اور کہا کہ انھوں نے قونصل خانے کی سیکیورٹی بڑھانے کے حوالے سے ہرممکن اقدامات کیے تھے تاہم انھوں نے کہا کہ دنیا بھر میں عسکریت پسندی بڑھ رہی ہے۔