گوادر میں مزدوروں کا قتل عام
وہ بے چارے محنت کش تھے جو اپنا گھر بار چھوڑ کر پیٹ کی خاطر سیکڑوں میل دور روزی کمانے آئے تھے
گوادر میں سڑکوں پر کام کرنے والے بے گناہ مزدوروں پر وحشیانہ اور اندھا دھند فائرنگ کی گئی جس کے نتیجے میں 10 مزدور شہید ہو گئے۔پشکان اور گنز میں پہلے مزدوروں کو ایک جگہ جمع کیا گیا اور انھیں گولیوں سے بھون دیا گیا۔ بہیمانہ قتل کی یہ واردات دو جگہوں پیشگان اور گنز میں کی گئی۔ یہ غریب مزدور سڑک کی تعمیر میں مصروف تھے ان کی کھودی ہوئی مٹی کو ان ہی کے لہو سے سرخ کر دیا گیا۔ قاتلوں کا تعلق خواہ مذہبی انتہا پسند دہشت گردوں سے ہو یا ''جنگ آزادی'' لڑنے والے سورماؤں سے ہو، ان بے چارے محنت سے روٹی کمانے والوں کو گولیوں سے بھون دینا نہ دین کی سربلندی کہا جا سکتا ہے نہ جنگ آزادی کی ضرورت میں اس کا شمار ہو سکتا ہے۔
یہ تو وہ بے چارے محنت کش تھے جو اپنا گھر بار چھوڑ کر پیٹ کی خاطر سیکڑوں میل دور روزی کمانے آئے تھے، عرض ہے کہ پیغمبر اسلام نے مزدوروں کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے کہا ہے کہ مزدور کی اجرت اس کا پسینہ خشک ہونے سے پہلے ادا کر دی جانی چاہیے۔ اس کے بجائے مجاہدین نے پسینہ خشک ہونے سے پہلے محنت کشوں کے جسموں کو خون سے تر کر دیا اگر یہ شرمناک جرم جنگ آزادی لڑنے والوں نے کیا ہے تو انھیں معلوم ہونا چاہیے کہ یہ شہید ہونے والے دس محنت کش غربت کے خلاف اپنے بچوں کا پیٹ بھرنے کی جنگ لڑ رہے تھے اور ان کی یہ جنگ نام نہاد جنگ آزادی سے ہزار گنا زیادہ مقدس تھی۔
محنت کش خواہ اس کا تعلق کسی ملک کسی شہر سے ہو اس لیے قابل احترام ہوتا ہے کہ وہ اپنی روزی اپنا خون اور پسینہ ایک کر کے کماتا ہے نہ کہ بے گناہوں کو مارنے کے معاوضے کے طور پر مزدوری حاصل کرتا ہے۔پاکستان اور چین کے درمیان جو سی پیک معاہدہ ہوا ہے اس معاہدے کا اس طرح پروپیگنڈا کیا جا رہا ہے کہ یہ معاہدہ پاکستان کے 20 کروڑ عوام کی قسمت بدل دے گا لیکن حقیقت یہ ہے کہ اس معاہدے سے غریب عوام کو جو فائدہ پہنچے گا وہ صرف روزگار کے تھوڑے سے مواقعے ہیں۔ ان مواقعوں کو بھی انسانیت کے دشمن اس قدر خطرناک بنا رہے ہیں کہ بے چارے محنت کش مارے خوف کے اب مزدوری پر جانے سے بھی گریزاں رہیں گے۔
اس حوالے سے سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ دہشت گرد خواہ ان کا تعلق کسی بھی تنظیم سے ہو بنیادی طور پر غریب طبقات ہی سے تعلق رکھتے ہیں۔ کہیں انھیں دین کی سربلندی کے نام پر استعمال کیا جا رہا ہے تو کہیں انھیں جنگ آزادی کے نام پر استعمال کیا جا رہا ہے۔ اس پر ستم یہ کہ انھیں روزی کمانے کے دوران اس وحشیانہ انداز میں شہید کیا جا رہا ہے کہ شہادت بھی ان شہیدوں پر فخر کرے گی۔کہا جاتا ہے کہ دہشت گرد عموماً دہشت گردی کے لیے آسان اہداف تلاش کرتے ہیں اور سڑکوں پر کام کرنے والے غریب محنت کشوں سے آسان ہدف دہشت گردوں کو اور کیا مل سکتا ہے۔
ڈائریکٹر امریکی نیشنل انٹیلی جنس، ڈینیل کوسٹ نے امریکی سینیٹ کی کمیٹی برائے انٹیلی جنس کو پیش کی جانے والی مشترکہ رپورٹ میں کہا ہے کہ ابھرتا ہوا چائنا پاکستان اقتصادی راہداری منصوبہ ممکنہ طور پر دہشت گردوں اور شدت پسندوں کو آسان اضافی اہداف فراہم کر سکتا ہے۔ اتفاق کی بات یہ ہے کہ گوادر میں دہشت گردوں نے مزدوروں کے آسان ہدف کو اسی دن استعمال کیا جس دن ڈائریکٹر امریکی نیشنل انٹیلی جنس ڈینیل کوسٹ نے اپنی یہ رپورٹ امریکی سینیٹ کی انٹیلی جنس کمیٹی کو پیش کی۔ جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ امریکی انٹیلی جنس کس قدر فعال اور دور اندیش ہے کہ اس نے سی پیک کے حوالے سے سینیٹ کمیٹی کو رپورٹ پیش کی اور گوادر کا سانحہ رونما ہو گیا۔
بلا شبہ مغربی ملکوں کی انٹیلی جنس ایجنسیاں بڑی فعال ہیں لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ امریکا کا حکمران طبقہ حقائق سے اس قدر نابلد کیوں ہے۔ اب یہ بات کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہے کہ دہشت گردی اب قومی مسئلہ نہیں رہی بلکہ یہ اب ایک انتہائی خطرناک بین الاقوامی مسئلہ بن گئی ہے۔ اس حقیقت کی روشنی میں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا ترقی یافتہ ملک دہشت گردی کی بین الاقوامیت کے پس منظر میں ایسی منصوبہ بندیاں کر رہے ہیں کہ اس عفریت کا خاتمہ ممکن ہو سکے؟ اس کا جواب نفی میں آتا ہے، کیونکہ سوائے زبانی جمع خرچ کے ترقی یافتہ ملکوں نے ابھی تک ایسی کوئی عالمی منصوبہ بندی نہیں کی جو اس بین الاقوامی دہشت گردی کو ختم کرنے میں معاون ثابت ہو سکے۔
اس کے برخلاف گندی سرمایہ دارانہ سیاست کا عالم یہ ہے کہ امریکی انٹیلی جنس کے ڈائریکٹر صاحب اپنی رپورٹ میں یہ فرما رہے ہیں کہ ''امریکا کا بھارت کی جانب جھکاؤ پاک امریکا تعلقات میں مزید خرابی پیدا کر دے گا۔'' یعنی امریکی حکومت اس حقیقت سے نابلد ہے کہ امریکا کا بھارت کی جانب مزید جھکاؤ پہلے سے خراب پاک امریکا تعلقات میں مزید خرابی پیدا کر دے گا۔ اگر ڈائریکٹر انٹیلی جنس کا یہ اندازہ درست ہے تو پھر ڈونلڈ ٹرمپ کی جگہ ڈینیل کوسٹ کو امریکا کا صدر ہونا چاہیے۔ ویسے تو امریکی صدور کا وژن بڑا محدود رہا ہے لیکن موجودہ صدر ٹرمپ اس حوالے سے اس قدر نکمے ثابت ہو رہے ہیں کہ وہ دنیا کے سب سے زیادہ خطرناک مسئلے دہشت گردی کے خلاف کوئی ایسی جامع پالیسی نہ بنا سکے ہیں جو اس عفریت کو آگے بڑھنے اور پھلنے پھولنے سے روک سکے۔ امریکی ڈائریکٹر انٹیلی جنس جب سی پیک کو دہشت گردوں کا اضافی ہدف کہہ رہا ہے تو ٹرمپ کی بھی یہ ذمے داری ہے کہ وہ دہشت گردی کی روک تھام کے لیے بغیر تحفظات کے پاکستان کی مدد کریں۔