کراچی اسٹاک مارکیٹ انڈیکس پہلی بار 17056 پوائنٹس پر پہنچ گیا

شرح سود میں کمی و ریزلٹ سیزن سے بہتر توقعات کے باعث تمام شعبوں میں خریداری سے انڈیکس147پوائنٹس اور مارکیٹ سرمائے میں۔۔


Business Reporter January 25, 2013
تیزی کے باعث 58.07 فیصد حصص کی قیمتیں بڑھ گئیں جبکہ حصص کی مالیت میں مزید39 ارب98 کروڑ 7 لاکھ 26 ہزار 581 روپے کا اضافہ ہوگیا۔ فوٹو : اے ایف پی

کراچی اسٹاک ایکس چینج میں جمعرات کو بھی نمایاں تیزی کا تسلسل قائم رہا جس سے ملکی تاریخ میں پہلی بارانڈیکس کی17000 کی نفسیاتی حد بھی عبور ہوگئی۔

تیزی کے باعث 58.07 فیصد حصص کی قیمتیں بڑھ گئیں جبکہ حصص کی مالیت میں مزید39 ارب98 کروڑ 7 لاکھ 26 ہزار 581 روپے کا اضافہ ہوگیا، اینگروفوڈز کے پرکشش مالیاتی نتائج اور رواں ریزلٹ سیزن کے دوران دیگر لسٹڈ کمپنیوں کی جانب سے بھی بہترین مالیاتی نتائج کی توقعات کے باعث ہرشعبے میں تازہ سرمایہ کاری کی گئی۔ ماہرین اسٹاک وتاجران کا کہنا تھا کہ نئی مانیٹری پالیسی میں ڈسکائونٹ ریٹ مزید کمی کی افواہیں بھی زیرگردش ہیں جو سرمایہ کاروں کے حوصلے بلند کرنے کا باعث بن رہی ہیں۔

اسی طرح ملک کے سیاسی افق پر صورتحال قدرے بہتر ہونے سے شعبہ جاتی بنیادوں پرسرمایہ کاروں کا اعتماد بحال ہو رہا ہے اور اسی اعتماد کی بدولت حصص کی تجارتی سرگرمیاں بڑھ گئی ہیں جو مارکیٹ میں تیزی کا سبب بھی بن رہی ہیں، جمعہ سے تعطیلات کے پیش نظر غیرملکیوں، مقامی کمپنیوں، بینکوں ومالیاتی اداروں، انفرادی سرمایہ کاروں اور دیگر آرگنائزیشنز کی جانب سے مجموعی طور پر68 لاکھ2 ہزار 162 ڈالر مالیت کے سرمائے کا انخلا کیا گیا لیکن اس انخلا کے باوجود کاروبار کے تمام دورانیے میں تیزی کے اثرات غالب رہے۔



کیونکہ ٹریڈنگ کے دوران میوچل فنڈز کی جانب سے60 لاکھ 26 ہزار483 ڈالر اور این بی ایف سیز کی جانب سے7 لاکھ75 ہزار679 ڈالر مالیت کی تازہ سرمایہ کاری کی گئی جو مارکیٹ میں تیزی کیلیے مددگار ثابت ہوئی، کاروباری کے اختتام پر کے ایس ای 100 انڈیکس 147.69 پوائنٹس کے اضافے سے17056.36 ہوگیا جبکہ کے ایس ای 30 انڈیکس125.28 پوائنٹس کے اضافے سے 13931.66 اور کے ایم آئی 30 انڈیکس298.64 پوائنٹس کے اضافے سے29473.28 ہوگیا۔

کاروباری حجم بدھ کی نسبت24.38 فیصد زائد رہا اور مجموعی طور پر27 کروڑ7 لاکھ 77 ہزار310 حصص کے سودے ہوئے جبکہ کاروباری سرگرمیوں کا دائرہ کار353 کمپنیوں کے حصص تک محدود رہا جن میں205 کے بھائو میں اضافہ، 123 کے داموں میں کمی اور25 کی قیمتوں میں استحکام رہا۔