ملک بھرمیں مالی خدمات تک رسائی بڑھانا چاہتے ہیں یاسین انور

اسٹیک ہولڈرز مالی سیکٹر کو زیادہ شمولیتی بنانے کیلیے دور رس وژن دیں، گورنر اسٹیٹ بینک


Business Reporter January 25, 2013
کراچی: تعمیر مائیکرو فنانس بینک لمیٹڈ کے ٹی ایف سیز اجرا پر منعقدہ تقریب میں گورنر اسٹیٹ بینک یاسین انور، سی ای او تعمیر مائیکرو فنانس بینک ندیم حسین کے ساتھ میڈیا سے گفتگو کر رہے ہیں۔ فوٹو : ایکسپریس

گورنراسٹیٹ بینک یاسین انور نے کہا ہے کہ اسٹیٹ بینک ملک میں مالی عدم شمولیت کے چیلنج سے نمٹنے کیلیے کثیرجہتی طریقہ کار پر عمل پیرا ہے تاکہ مارکیٹ پر مبنی ایک مؤثروپائیدارمالی ڈھانچہ مرتب ہوسکے جو خواتین اورنوجوانوں سمیت ملک کی محروم آبادی کی مالی ضروریات کو پورا کرنے کی صلاحیت رکھے۔

یہ بات انہوں نے جمعرات کی شام تعمیر مائیکروفنانس بینک کے ٹرم فنانس سرٹیفکیٹ کے کلوژر کی تقریب سے خطاب کے دوران کہی۔ انہوں نے کہا کہ مذکورہ ٹی ایف سی کے اجرا سے مائیکرو فنانس سیکٹر کی فنڈنگ کو متنوع بنانے میں مدد ملے گی۔ انہوں نے مالیاتی مارکیٹ کے تمام شرکا کو دعوت دی کہ وہ پاکستان کے مالی سیکٹر کو زیادہ شمولیتی بنانے کیلیے دور رس وژن تشکیل دیں۔ انہوں نے کہا کہ مالی صنعت ڈپازٹ، کریڈٹ، انشورنس اور ترسیلات زر سمیت تمام موزوں مالی خدمات فراہم کرے، اسٹیٹ بینک اس حقیقت سے آگاہ ہے کہ مالی صنعت کو اس بلند مقصد کے حصول کی راہ میں متعدد چیلنجز درپیش ہیں۔

اسٹیٹ بینک پائیدار انداز میں اس سیکٹر کے چیلنجوں سے نمٹنے کیلیے تمام اسٹیک ہولڈرز سے رابطے میں ہے۔ انہوں نے کہا کہ گہرائی اور وسعت کے اعتبارسے پاکستان کے مالی شعبے کی رسائی محدود ہے۔ سال 2008 کی سرمائے تک رسائی کی اسٹڈی کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بمشکل 12 فیصد آبادی کو باضابطہ بینکاری خدمات تک رسائی حاصل ہے اور32 فیصد غیر رسمی مالی سہولتوں سے استفادہ کرتے ہیں جبکہ بالغ آبادی کا 56 فیصد حصہ بینکاری خدمات سے مکمل طور پر محروم ہے۔



ایک تخمینے کے مطابق پاکستان میں مائیکرو فنانس مارکیٹ کا حجم 25 سے 30 ملین کلائنٹس ہے جس سے نشاندہی ہوتی ہے کہ مائیکرو فنانس تک رسائی کی موجودہ سطح 2.4 ملین کلائنٹس ہے جو ممکنہ مارکیٹ کا صرف 10 فیصد ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسٹیٹ بینک نے برطانیہ کے ڈی ایف آئی ڈی کے تعاون 2008میں مائکروفنانس کریڈٹ گارنٹی فیسلٹی شروع کی تھی تاکہ مائیکروفنانس مارکیٹ کی اکثریت کو درپیش فنڈنگ کی شدید قلت سے نمٹا جاسکے، ، اس فیسلٹی کا دائرہ حال ہی میں بڑھایا گیا ہے اور مائیکروفنانس فراہم کرنے والوں کو کیپٹل مارکیٹ سے نان بینک فنانس وصول کرنے کی اجازت دی گئی ہے جس سے چھوٹے قرض لینے والوں کیلیے فنانسنگ کے ذرائع بڑھ گئے ہیں۔

یہ خوش آئند ہے کہ تعمیر مائیکرو فنانس بینک سمیت کئی مائیکروفنانس ادارے ایم سی جی ایف سے فائدہ اٹھا رہے ہیں۔ تقریب سے تعمیر مائیکرو فنانس بینک کے سی ای او ندیم حسین نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ان کے ادارے نے ایک ارب روپے کے تعمیرسرمایہ سرٹیفکیٹ کا اجرا کامیابی کے ساتھ مکمل کرلیا ہے، تعمیرسرمایہ سرٹیفکیٹ پاکستانی مارکیٹ میں کم از کم 5 ہزار روپے کے سرمایہ کاری ٹکٹ کے ساتھ شروع کیا جانے والا اپنے طرز کا پہلا ریٹیل مائیکروفنانس ٹی ایف سی ہے جس کا باقاعدہ اندراج کراچی اسٹاک ایکس چینج میں بھی کردیا گیا ہے۔