مقدمات نمٹانے کے لیے مصالحتی سینٹرزکا قیام…اچھی کاوش
پنجاب میں یہ نظام کامیاب ہوتا ہے تو دیگر صوبوں کو بھی اس پر عمل کرنا چاہیے
پاکستان میں عدالتوں میں زیرسماعت مقدمات کی بڑھتی ہوئی تعداد جہاں ججز حضرات پر بوجھ ہے' وہاں نظام انصاف کی پیچیدگیوں کو بھی ظاہر کررہی ہے' اگلے روز لاہور ہائیکورٹ کے چیف جسٹس سید منصور علی شاہ نے جوڈیشل اکیڈمی میں تربیتی کورس مکمل کرنے والے ججز میں تقسیم اسناد کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے بتایا کہ پنجاب میں700 ججز کے پاس 13لاکھ مقدمات زیرالتوا ہیں' انھوں نے کہا کہ میں ایسا کون سا کمپیوٹر لے آؤں کہ یہ مقدمات ختم ہو جائیں۔
اس گمبھیر مسئلے کے حل کے لیے لاہور میں مصالحتی سینٹرز کا آغاز کیا گیا تھا' اس سینٹر میں فریقین کے درمیان مصالحت کرانے کی کوشش کی جاتی ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ 2 ماہ میں 178مقدمات لاہور کے مصالحتی مرکز کو بھیجے گئے' ان میں82 فیصد مقدمات میں کامیابی سے مصالحت کرا دی گئی۔
اس کامیابی کو دیکھتے ہوئے یکم جون سے پورے پنجاب کے تمام اضلاع میں مصالحتی سینٹرز اپنے کام کا آغاز کر دیں گے اور سیشن ججز کو مصالحتی سینٹر کے آغاز کے لیے ضروری انتظامات کی ہدایت کر دی گئی ہے' ماضی میں گاؤں کی سطح پر مختلف نوعیت کے تنازعات کو نمٹانے کے لیے پنچایت کا نظام رائج تھا اور اس پنچایتی نظام کو قانون کی چھتری حاصل تھی' اس نظام کی وجہ سے عائلی' دیوانی اور فوجداری مقدمات ابتدائی مرحلے میں ہی پنچایت کے ذریعے نمٹ جاتے تھے' جو مقدمات عدالت تک جاتے' ان کے فیصلے کرنے بھی آسان ہو جاتے تھے کیونکہ پنچایت کی رائے بھی موجود ہوتی تھی۔
پنچایت کا نظام خیبرپختونخوا میں جرگہ کے نام سے ہے جب کہ بلوچستان اور سندھ میں بھی یہ نظام موجود تھا لیکن پھر آہستہ آہستہ یہ نظام دم توڑنے لگا' یوں چھوٹے چھوٹے مقدمات بھی عدالتوں اور کچہریوں کا رخ کرنے لگے' اب صورتحال اتنی گمبھیر ہو چکی ہے کہ صرف پنجاب میں13 لاکھ مقدمات زیرالتوا ہیں' سندھ' خیبرپختونخوا اور بلوچستان کو شامل کر لیا جائے تو عدالتوں میں زیرالتوا مقدمات کی تعداد کا اندازہ کیا جا سکتا ہے۔
لاکھوں مقدمات اگر زیر التوا ہیں تو اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ کتنے خاندان اذیت میں ہوں گے۔اگر کوئی شخص مقدمہ دائر کرتا ہے تو ظاہر سی بات ہے کہ دوسرا شخص بھی اس کے ساتھ نتھی ہوتا ہے، پھر گواہان کو شامل کر لیا جائے تو ایک مقدمے سے کئی افراد منسلک ہوجائیں گے ، یوں ایک مقدمے میں کئی خاندان پریشانی سے دوچار ہوجاتے ہیں،لاکھوں مقدمات میں کتنے خاندان پریشان ہوتے ہیں، ان کا تخمینہ لگانا خاصا مشکل کام ہے۔ لاکھوں مقدمات نمٹانے کے لیے ججز کی تعداد میں اضافہ بھی کر دیا جائے تو بھی معاملہ حل نہیں ہو سکے گا۔
یہی وجہ ہے کہ مصالحتی سینٹرز کا قیام عمل میں لایا گیا ہے' پنجاب میں یہ نظام کامیاب ہوتا ہے تو دیگر صوبوں کو بھی اس پر عمل کرنا چاہیے' تنازعات اگر اپنی ابتدائی اسٹیج پر ہی حل ہو جائیں تو عدالتوں پر بوجھ کم ہو جائے گا' اس مقصد کے لیے پنچایتی نظام کو آئینی و قانونی حیثیت دی جانی چاہیے۔ اگر ایسا ہو جائے تو نظام انصاف زیادہ اثر پذیر ہو جائے گا اور مقدمات کے فیصلے بھی جلد ہو جائیں گے۔