وکلا برادری کا انتباہ

خود اس برادری کا کوئی اہل شخص ملک کا وزیراعظم بن سکتا ہے۔


Zaheer Akhter Bedari May 22, 2017
[email protected]

لاہور: پاکستان میں وکلا کی طاقت کا اندازہ 2007ء کی جنرل پرویز مشرف کے خلاف تحریک سے ہو سکتا ہے۔ مشرف کے اقتدار کے خلاف اگر وکلا برادری سڑکوں پر نہ آتی تو مشرف کے لیے اپنے اقتدار کو طول دینا کوئی مشکل بات نہ تھی۔ کسی بھی جمہوری معاشرے میں وکلا کا شمار ایسے تعلیم یافتہ طبقے میں ہوتا ہے جو ملک کے مسائل، انسانی حقوق اور جمہوریت کے اسرار و رموز سے واقف ہوتا ہے۔ یہ وہ طبقہ ہے جس کا ہر فرد اعلیٰ تعلیم یافتہ اور اپنے دور کے مسائل سے آگہی رکھتا ہے۔

سابق صدر نے جب اس وقت کے چیف جسٹس پر دباؤ ڈالنے کی کوشش کی تو وکلا برادری اس کے خلاف سراپا احتجاج بن گئی، وکلا کے اسی اتحاد کی وجہ سے مشرف جیسے طاقتور آمر کو اقتدار چھوڑنا پڑا، وکلا برادری کا یہ ایک ایسا اعزاز ہے جس پر وکلا برادری فخر کر سکتی ہے۔

وکلا برادری ایک ایسا باشعور طبقہ ہے جو ملک اور قوم کے مفادات کو سمجھتا ہے اور بلاتخصیص ہر اس حکمران کے خلاف علم بغاوت بلند کرتا ہے جو عوام اور قومی مفادات کے لیے خطرہ بن رہا ہو۔ ہمارے ملک کی یہ اجتماعی بدقسمتی ہے کہ یہاں 70 سال سے جو طبقات حکومت کر رہے ہیں، انھیں عوامی مفادات سے زیادہ اپنے ذاتی اور جماعتی مفادات عزیز ہوتے ہیں، اسی کلچر کی وجہ سے ملک اعلیٰ سطح کی کرپشن کا شدید شکار ہو کر رہ گیا ہے۔

پاناما لیکس ایک عالمی سطح کے ایسے کرپشن کا اسکینڈل ہے جس میں بدقسمتی سے پاکستان بھی شامل ہے اور اس سے زیادہ بدقسمتی کی بات یہ ہے کہ اس اسکینڈل میں ہمارے وزیراعظم کے خاندان کے افراد کا نام بھی ہے۔ اس حوالے سے میڈیا میں جو خبریں آتی رہی ہیں ان سے رائے عامہ ایک مخصوص انداز میں تشکیل پاتی رہی، لیکن ہمارے سیاسی اور سماجی نظام میں رائے عامہ قومی اداروں سے متصادم رہتی ہے۔

میڈیا نے رائے عامہ کو جس ڈگر پر ڈال دیا ہے وہ قومی اداروں کی رائے سے متصادم ہو کر رہ گئی ہے۔ غالباً اسی تناظر میں 22 اپریل 2017ء کو لاہور ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن نے وزیراعظم سے استعفیٰ کا مطالبہ کر دیا اور اعلان کیا کہ اگر وزیراعظم 7 روز میں اپنے عہدے سے مستعفی نہ ہوئے تو وکلا برادری 2007ء کی عدلیہ بحالی کی تحریک سے بڑی تحریک چلائے گی۔

لاہور ہائی کورٹ بار کے صدر چوہدری ذوالفقار علی نے اپنے ساتھیوں کے ساتھ کی جانے والی پریس کانفرنس میں اعلان کیا کہ وزیراعظم ایک ہفتے کے اندر اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیں ورنہ عدلیہ بحالی سے بڑی تحریک چلائی جائے گی۔ چوہدری صاحب نے کہا کہ پاناما لیکس پر دنیا کے کئی ملکوں کے سربراہوں نے استعفے دے دیے لیکن پاکستان میں ایسا نہیں ہوا۔

لاہور ہائی کورٹ بار کے صدر نے کہا کہ وزیراعظم کے ماتحت افسران ان کے خلاف تحقیقات نہیں کر سکتے۔ اس قسم کے اعتراضات اپوزیشن رہنماؤں کی طرف سے بھی اٹھائے گئے لیکن سپریم کورٹ کے حکم پر بنائی جانے والی جے آئی ٹی بھی تشکیل دے دی گئی اور اس جے آئی ٹی نے اپنا کام بھی شروع کر دیا۔ اس تناظر میں اگر وکلا برادری جے آئی ٹی کی رپورٹ تک انتظار کرنے کا ارادہ ظاہر کر رہی ہے تو یہ فیصلہ ہمارے حالات کے تناظر میں درست ہی معلوم ہوتا ہے۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ پاناما جیسے بڑے اسکینڈل میں سربراہ مملکت کی فیملی کا نام آتا ایک بہت بڑا سوالیہ نشان بن گیا ہے اور بادی النظر میں اگر وکلا برادری تحریک چلانے کا الٹی میٹم بھی دیتی ہے تو اس پر تعجب کی کوئی بات نہیں، لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا یہ واحد کرپشن کیس ہے یا اور بھی اعلیٰ سطح کرپشن کیسز ہیں جو اربوں روپوں کی کرپشن کے الزامات سے جڑے ہوئے ہیں۔ پھر ایک اور سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا اس کرپشن کا فیصلہ عوام کی خواہشات کے مطابق ہو جاتا ہے تو کیا ملک سے کرپشن ختم ہو جائے گی؟ یہ ایسے سوال ہیں جو وکلا جیسی باشعور برادری کے غور کے متقاضی ہیں۔

اس حوالے سے سب سے پہلے یہ سوال ذہن میں آتا ہے کہ کیا پاناما لیکس جیسی کرپشن پہلی کرپشن ہے یا 70 سال میں ملک ان جیسی بے شمار کرپشن کی آماجگاہ بنا ہوا ہے؟ بلاشبہ اس سوال کا جواب یہی آتا ہے کہ ملک اور کرپشن 70 سال سے ساتھ ساتھ چل رہے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ قیام پاکستان کے بعد سے جو طبقات پاکستان کی سیاست اور اقتدار پر قابض ہیں وہ ایسی مچھلیاں ہیں جو پانی (کرپشن) کے بغیر زندہ ہی نہیں رہ سکتیں۔ اس تناظر میں اگر کسی فرد واحد یا ایک فیملی کو سزا دے بھی دی جائے تو کیا خاندانی اور طبقاتی کرپشن کا یہ سلسلہ ختم ہو جائے گا؟

اس سوال کا سیدھا جواب یہ ہے کہ ایسا ممکن نہیں۔ ہماری معزز وکلا برادری اچھی طرح جانتی ہے کہ لوٹ مار کا یہ شرمناک کھیل اشرافیائی جمہوریت کے سائے تلے کھیلا جا رہا ہے اور جب تک ملک میں اشرافیائی جمہوریت رائج ہے اس ننگ انسانیت عوام دشمن کھیل کو روکا نہیں جا سکتا۔

اس میں ذرہ برابر شک نہیں کہ وکلا برادری اگر متحد ہو اور کالی بھیڑوں سے پاک ہو تو وہ ایک ایسی طاقت بن سکتی ہے جو پاناما ہی کو نہیں پاناما جیسے تمام اسکینڈلز کا خاتمہ کر سکتی ہے۔ اور خود اس برادری کا کوئی اہل شخص ملک کا وزیراعظم بن سکتا ہے۔ لہٰذا اس تناظر میں ضروری ہے کہ پاناما اسکینڈلز کے ساتھ ساتھ اس غلیظ نظام، اس اشرافیائی جمہوریت کے خلاف وکلا برادری متحرک ہو۔ اگر ایسا ہوا تو عوام وکلا برادری کے شانہ بشانہ کھڑے نظر آئیں گے اور ایسی تحریک چلائی جا سکے گی جس کی پاکستان کی تاریخ میں مثال نہ مل سکتی ہو۔

مقبول خبریں