دہشتگردی ٹرمپ کی اسلامی ممالک سے متحد ہونے کی اپیل
سعودی عرب میں داعش نے علی الاعلان دہشت گردی کی کارروائیاں کیں جس کے باعث اس کی سلامتی کے لیے خطرات بڑھ گئے
امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اتوار کو سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض میں عرب اسلامک امریکن سربراہ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اسلام دنیا کا بہترین مذہب ہے' دہشت گرد خدا کو نہیںدہشت گردی کو مانتے ہیں' دہشتگردی سے نجات کے لیے پوری دنیا کو متحد ہونا ہوگا، اسلامی ممالک کو انتہا پسندی کے خلاف اٹھ کھڑا ہونا چاہیے، دہشتگردی کے خاتمے کے لیے امریکا پر انحصار ختم کریں، انتہا پسندی اور دہشتگردی کا خاتمہ اولین ترجیح ہے، امریکی عوام کی جانب سے مسلمانوں کے لیے امید، محبت اور دوستی کا پیغام لایا ہوں، ایسا اتحاد تشکیل دینا چاہیے جس سے ہماری آنے والی نسلوں کا مستقبل محفوظ ہوسکے، دہشت گردی کا خاتمہ نہ کیا گیا تو ہماری آنے والی نسلیں بھگتیں گی، عرب ممالک کو مل جل کر مسلم شدت پسندی کے خلاف جدوجہد کرنی چاہیے، اسلامی ممالک کو دہشت گردی کے خلاف اٹھ کھڑا ہونا چاہیے، دہشتگردی سے 95 فیصد مسلمان متاثر ہوئے ہیں، دہشتگردی کے خلاف جنگ مختلف مذاہب کے مابین نہیں بلکہ یہ نیکی اور بدی کی جنگ ہے، یہ ان مجرموں کے خلاف ہے جو اسلام کا نام استعمال کرتے ہیں۔
انھوں نے کہا کہ بہتر مستقبل صرف اسی صورت میں ممکن ہے جب ممالک دہشتگردوں اور انتہا پسندوں کو نکال باہر کریں گے، وہ دہشتگردوں کو اپنے اپنے ملکوں سے چن چن کر ختم کر دیں، ذمے دار ریاستوں کو اپنی اپنی ذمے داریوں کو ادا کرنا بھی ضروری ہے، اتحادواتفاق کے ساتھ مشرق وسطیٰ میں دہشتگردی سے متاثر ملکوں میں معصوم لوگوں کے قتل کے ساتھ ساتھ عورتوں پر جبر کا خاتمہ اور مسیحیوں اور یہودیوں کے قتل و استحصال کا روکنا ضروری ہے۔ قبل ازیں سعودی فرمانروا شاہ سلما ن نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ دہشتگردی کے خلاف جنگ میں ہم سب ایک پیج پر ہیں،دہشتگردی پوری دنیا کے لیے خطرہ بن چکی ہے، ڈیڑھ ارب مسلمان دہشت گردی کے خلاف امریکا کے اتحادی ہیں اور ہمیں دنیا میں امن و استحکام کے لیے مشترکہ کوششیں کرنی چاہیے، اسلامی عسکری اتحاد دہشتگردی کو شکست دینے کے لیے بنایا گیا ہے، امید کرتے ہیں دیگرممالک بھی اس اتحاد میں شامل ہونگے، شاہ سلمان نے مسئلہ فلسطین کے پرامن حل پر بھی زور دیتے ہوئے کہا کہ دنیا میں قیام امن کے لیے اس مسئلے کو حل کرنا سب سے بنیادی چیز ہے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور شاہ سلمان دونوں نے ایران کے حوالے سے خاصے سخت الفاظ استعمال کیے۔
سعودی عرب کی سربراہی میں مختلف اسلامی ممالک کا جو عسکری اتحاد تشکیل پایا ہے اس کا مقصد خطے میں بڑھتی ہوئی دہشت گردی کے خطرات سے نمٹنا ہے۔ سعودی عرب میں داعش نے علی الاعلان دہشت گردی کی کارروائیاں کیں جس کے باعث اس کی سلامتی کے لیے خطرات بڑھ گئے' دوسری جانب سعودی عرب اور یمن کے درمیان جنم لینے والی محاذ آرائی نے بھی بہت سے مسائل کو جنم دیا۔ سعودی عرب کی پالیسی ہمیشہ پرامن رہی ہے لیکن بدلتے ہوئے حالات نے اسے ایک بڑی اسلامی فوج تشکیل دینے پر مجبور کر دیا جسے سعودی حکام عرب نیٹو فورس کا نام بھی دے رہے ہیں۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور سعودی فرمانروا شاہ سلمان نے بھی اپنے خطاب میں واضح کیا ہے کہ اسلامی عسکری اتحاد دہشت گردی کو شکست دینے کے لیے بنایا گیا ہے لیکن انھوں نے دہشت گردی کا مرکز ایران کو قرار دیا ہے۔ اس سے یہ خدشات جنم لیتے ہیں کہ یہ اسلامی عسکری اتحاد امریکا کی سربراہی میں ایران کے خلاف نیا محاذ کھول سکتا ہے' خدانخواستہ اگر ایسا ہوتا ہے تو صرف مشرق وسطیٰ ہی نہیں ارد گرد کے تمام اسلامی ممالک بھی اس محاذ آرائی سے متاثر ہو سکتے ہیں۔ کچھ نہیں کہا جا سکتا کہ دہشت گردی پر قابو پانے کے لیے تشکیل دیے گئے اس اتحاد سے آنے والی نسلیں محفوظ ہوتی ہیں یا یہ عفریت کئی نسلیں بھگتنے پر مجبور ہو جائیں گی۔
جس طرح ڈونلڈ ٹرمپ نے ذکر کیا کہ ایران کے لبنان سے لے کر عراق'یمن اور شام تک گہرے اثرات ہیں لہٰذا اس صورت حال کے تناظر میں انھوں نے اسلامی دنیا سے ایران کو تنہا کرنے کی اپیل بھی کی۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ اس بدلتے ہوئے مشکل اور پیچیدہ حالات میں ایران اپنے بچاؤ اور تحفظ کے لیے کیا حکمت عملی اختیار کرتا ہے۔ اس امر میں کوئی شبہ نہیں کہ دہشت گردی سے اسلامی ممالک شدید متاثر ہو رہے ہیں لیکن اگر دہشت گردی کے خاتمے کے نام پر مشرق وسطیٰ اور خلیج فارس میں جنگ کے شعلے بھڑکتے ہیں تو اس سے دہشت گردی ختم نہیں مزید پھیلنے کے امکان کو رد نہیں کیا جا سکتا۔ بہتر ہے اسلامی دنیا اس المناک پہلو کو سامنے رکھتے ہوئے محاذ آرائی سے گریز کرے۔