اقوام متحدہ کے فوجی مبصرین پر بھارتی فائرنگ

پاک فضائیہ کے سربراہ ائرچیف مارشل سہیل امان نے خود طیارہ اڑا کر جنگی مشقوں میں حصہ لیا


Editorial May 26, 2017
- فوٹو؛ فائل

بھارتی فوج کی طرف سے لائن آف کنٹرول پر خنجر سیکٹر میں سیز فائر کی خلاف ورزی کرتے ہوئے اقوام متحدہ کے فوجی مبصرین کی گاڑی کو فائرنگ کا نشانہ بنایا گیا تاہم فوجی مبصر محفوظ رہے۔ پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر)کے مطابق بدھ کو اقوام متحدہ کے فوجی مبصر فلپائن کے میجر عمانویل اور کروشیا کے میجر میرکو قواعد کے مطابق گاڑی پر نیلا جھنڈا لہرا کر لائن آف کنٹرول کے قریب دورہ کر رہے تھے کہ بھارتی فوج نے ان پر فائرنگ کر دی۔ ادھر بھارتی ایئر چیف مارشل بی ایس دھانوا کی دھمکیوں کے بعد پاک فضائیہ کی تمام فارورڈ آپریٹنگ بیسز کو مکمل آپریشنل کر دیا گیا،پاک فضائیہ کی اہم جنگی مشقیں شروع کردی گئیں۔

پاک فضائیہ کے سربراہ ائرچیف مارشل سہیل امان نے خود طیارہ اڑا کر جنگی مشقوں میں حصہ لیا۔ ائر چیف مارشل سہیل امان نے کہا کہ اگر دشمن نے جارحیت کی تو جواب ان کی نسلیں یاد رکھیں گی اگر کسی کی جانب سے مہم جوئی کا سوچا گیا تو اس کی غلط فہمی ہو گی' ملکی دفاعی پالیسی کے تحت پوری قوت سے جواب ملے گا، پاک فضائیہ سرحدوں کی حفاظت کے لیے ہر دم تیار ہے۔ پاک بحریہ کے سربراہ ایڈمرل ذکاء اللہ نے لاہور میں پاکستان نیوی وار کالج کے 46ویں اسٹاف کورس کانووکیشن سے خطاب کرتے ہوئے دشمن پر واضح کیا کہ ہر لحظہ، ہر آن، ہر گھڑی، سطح آب اور زیر آب دشمن پر کاری ضرب لگانے کے لیے تیار ہیں اور سمندری سرحدوں کی حفاظت کے لیے تمام صلاحیتیں بروئے کار لائیں گے۔

لائن آف کنٹرول اور ورکنگ بائونڈری پر فائرنگ کوئی نئی بات نہیں' بھارت کی جانب سے اکثر و بیشتر بلاجواز گولہ باری اور فائرنگ کا سلسلہ شروع کر دیا جاتا ہے،جس سے دونوں ممالک کے درمیان سرحدی کشیدگی میں اضافہ ہونے سے پورے خطے میں جنگی ماحول کی فضا پیدا ہو جاتی ہے۔ اس جارحانہ عمل کو روکنے کے لیے پاکستان اور انڈیا کے ڈائریکٹر جنرل ملٹری آپریشنز کے درمیان کئی بار ہاٹ لائن پر رابطہ ہوا جس میں بھارت کی جانب سے بارہا یہ یقین دہانی کرائی گئی کہ سرحدوں کو پرسکون رکھنے کے لیے فائرنگ کا سلسلہ بند کر دیا جائے گا اور آیندہ اس کا اعادہ نہیں ہو گا۔

لیکن بھارتی فوج امن قائم رکھنے کی تمام تر یقین دہانیوں کے باوجود جب چاہتی ہے سرحدوں پر بلاجواز گولہ باری اور فائرنگ کا سلسلہ شروع کر کے امن معاہدوں کی دھجیاں اڑا دیتی ہے۔ ایسی خبریں بھی منظرعام پر آ چکی ہیں کہ بھارتی حکومت نے فوج کو پاکستان کے خلاف فائرنگ کی کھلی اجازت دے رکھی ہے اور اس سلسلے میں اس سے کوئی پوچھ گچھ نہیں کی جاتی'اس صورت حال کا ناجائز فائدہ اٹھاتے ہوئے بھارتی فوج سرحدی کشیدگی کو مسلسل ہوا دے رہی ہے۔ چند روز قبل بھی بھارتی فوج نے نوشیرا سیکٹر پر پاکستانی فوج کی چوکی تباہ کرنے کا دعویٰ کیا تھا لیکن پاکستان نے اسے مسترد کر دیا۔ گزشتہ برس ستمبر میں بھارتی فوج نے آزاد کشمیر میں سرجیکل اسٹرائیکس کا دعویٰ کر ڈالا اور اس کے بارے میں خوب واویلا مچایا۔ لیکن پاکستان نے اس دعویٰ کو بھی جھوٹ قرار دیتے ہوئے بھارتی فوج سے ثبوت مانگ لیے لیکن بھارت کی جانب سے کوئی ثبوت فراہم نہ کیا جا سکا۔

گزشتہ دنوں بھارتی ایئرچیف مارشل بی ایس دھانوا نے ذاتی حیثیت میں 12ہزار افسروں کو مختصر نوٹس پر پاکستان کے خلاف آپریشنز کے لیے تیار رہنے کا خط لکھا تھا۔ جس پر پاک فضائیہ اور پاک بحریہ کے سربراہوں نے دشمن پر یہ واضح کر دیا ہے کہ اگر اس نے جارحیت کی کوئی کوشش کی تو ہم اسے ایسا بھرپور جواب دیں گے کہ اس کی نسلیں بھی یاد رکھیں گی۔ پاکستان نے اقوام متحدہ کے فوجی مبصرین کو کئی بار سرحدی علاقوں کا دورہ کرایا اور بھارت کی جانب سے وہاں ہونے والی گولہ باری اور فائرنگ کے ثبوت دکھائے۔

عالمی سطح پر بھارتی فوج کی کسی بھی سرحدی جارحانہ کارروائی کی مذمت نہ ہونے کے باعث اس کے حوصلے اتنے بلند ہو گئے ہیں کہ اب اس نے لائن آف کنٹرول پر اقوام متحدہ کے فوجی مبصرین کی گاڑی کو بھی نہیں بخشا۔ اس واقعے کے بعد پوری دنیا کے سامنے بھارتی جارحیت کے ثبوت سامنے آ گئے ہیں۔ بھارت میں دہشت گردی کا کوئی معمولی سا واقعہ بھی رونما ہو جائے تو بھارتی حکومت اور میڈیا بلا ثبوت اس کا الزام پاکستان پر دھر کر آسمان سر پر اٹھا لیتے اور پاکستان کے خلاف منفی پروپیگنڈا شروع کر دیتے ہیں۔ یہی بہترین موقع ہے کہ پاکستان اقوام متحدہ کے فوجی مبصرین پر فائرنگ کے واقعے کو روایتی انداز میں نظر انداز کرنے کے بجائے اقوام متحدہ میں اس کے خلاف بھرپور آواز اٹھائے اور پوری دنیا کو بھارتی جارحیت سے آگاہ کرے۔