مقبوضہ کشمیرمیں مجاہدین کی شہادت کے خلاف مکمل ہڑتال
مسئلہ کشمیر کا حل طاقت نہیں امن مذاکرات میں مضمر ہے
KARACHI:
مقبوضہ کشمیر میں دو تین روز پیشتر حزب المجاہدین کے کمانڈر سبزار احمد بھٹ اور ان کے ساتھی فیضان احمد کی بھارتی فوج کی حراست میں شہادت کے خلاف اتوار کو مقبوضہ وادی میں مکمل ہڑتال کی گئی۔ ہزاروں لوگوں نے کرفیو اور پابندیوں کی پروا کیے بغیر شہید ہونے والے مجاہدین کی نماز جنازہ میں شرکت کی' کمانڈر سبزار کے جسد خاکی کو پاکستانی پرچم میں لپیٹا گیا تھا' کشمیریوں نے اس موقع پر آزادی کے حق میں اور بھارت کے خلاف نعرے لگائے۔ مقبوضہ کشمیر کی کٹھ پتلی انتظامیہ نے میرواعظ عمر فاروق' شبیر احمد شاہ اور دیگر حریت رہنماؤں کو احتجاجی مظاہروں کی قیادت سے روکنے کے لیے گھروں میں نظر بند کر دیا۔
ادھر بھارتی وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ نے ہرزہ سرائی کرتے ہوئے ایک بار پھر پاکستان پر دہشت گردی کی حوصلہ افزائی کا الزام لگایا' انھوں نے کہا کہ پاکستان کشمیر میں بدامنی کو ہوا دے کر بھارت میں عدم استحکام پیدا کرنا چاہتا ہے' کشمیر کے حل کا کوئی ٹائم فریم نہیں دے سکتے تاہم جلد اس کا مستقل حل نکال لیں گے' جس میں کشمیر' کشمیری اور کشمیریت کا خیال رکھا جائے گا' تمام سٹیک ہولڈرز سے بات کرنا چاہتے ہیں لیکن وہ بلاشرائط ہونگی۔ بھارتی آرمی چیف بپن راوت نے کشمیریوں کو انسانی ڈھال بنانے کے اقدام کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے ساتھ محدود جنگ کی توقع نہیں' مسئلہ کشمیر کے جامع حل کے لیے تمام فریقین کو اس میں شامل کرنا ہو گا۔
بھارتی وزیراعظم نریندر مودی' وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ اور ان کے حمایتی ٹولے کا خیال تھا کہ وہ بے پناہ ظلم و ستم اور قتل عام کے ذریعے کشمیریوں کے جذبہ حریت کو دبانے میں کامیاب ہو جائیں گے' جب کشمیریوں کی لاشیں گریں گی تو ان کی آزادی کی تحریک خود بخود دم توڑ جائے گی مگر ان کا یہ حربہ کامیاب نہیں ہوا' بھارتی فوج نے پیلٹ گن کا بے دریغ استعمال کرکے اپنے تئیں سیکڑوں کشمیریوں کو نشان عبرت بنانے کی چال چلی۔ لیکن ان تمام ظلم و ستم کے باوجود کشمیریوں کا جذبہ حریت تیز سے تیز تر ہوتا چلا گیا اور انھوں نے موت کے خوف سے بھارتی غلامی کو قبول کرنے سے انکار کر دیا۔ اب کشمیری نوجوانوں کے ساتھ ساتھ نوجوان خواتین بھی میدان عمل میں اتر آئی ہیں جو مسلح بھارتی فوج کے سامنے آزادی کے نعرے بلند اور پتھراؤ کرتی ہیں۔
متعصبانہ سوچ کے حامل راج ناتھ سنگھ کے بیان سے یہ اشارہ ملتا ہے کہ بھارتی حکومت تمام تر ظلم و ستم کے حربے آزمانے کے بعد کشمیریوں کے جذبہ آزادی کے سامنے جھکنے پر مجبور ہو جائے گی اور بالآخر اسے کشمیر کے مسئلے کے حل کے لیے مذاکرات کی میز پر آنا پڑے گا۔ پاکستان بھی ایک عرصے سے بھارتی حکومت کو یہ احساس دلانے کی کوشش کر رہا ہے کہ مسئلہ کشمیر کا حل طاقت نہیں امن مذاکرات میں مضمر ہے لہٰذا بھارتی حکومت کو ہٹ دھرمی کا رویہ ترک کرکے جلد از جلد مذاکرات کا عمل شروع کر دینا چاہیے تاکہ دونوں ممالک کے درمیان سلگتے ہوئے اس مسئلے کا کوئی پرامن حل تلاش کیا جا سکے۔