افغانستان میں قیام امن اور امریکا کی غلطی

پاکستان افغانستان میں قیام امن کا خواہاں ہے اور اس مقصد کے لیے پاکستان نے ہرممکن کوشش کی ہے


Editorial May 30, 2017
پاکستان افغانستان میں قیام امن کا خواہاں ہے اور اس مقصد کے لیے پاکستان نے ہرممکن کوشش کی ہے . فوٹو : فائل

PESHAWAR: 6 جون کو افغانستان امن کانفرنس منعقد ہو رہی ہے، اس کانفرنس کا ایجنڈا افغانستان میں قیام امن ہے۔ اس کانفرنس میں دنیا کے 25 ممالک شریک ہوں گے۔ ان میں امریکا، روس، چین، بھارت اور ایران بھی شامل ہیں۔ اس کانفرنس میں شرکت کرنے والے ممالک افغانستان میں مصالحتی عمل اور امن کے قیام کے مختلف طریقوں پر غور کریں گے۔ اطلاعات کے مطابق پاکستان کو بھی مدعو کیا گیا ہے تاہم اس میں شریک ہونے یا نہ ہونے کے بارے میں سرکاری سطح پرا بھی فیصلہ سامنے نہیں آیا البتہ میڈیا میں ایسی ا طلاعات موجود ہیں کہ پاکستان اس سمٹ میں شریک ہو گا۔ یقینا کابل میں ہونے والی یہ کانفرنس انتہائی اہمیت کی حامل ہے اور پاکستان کا اس کانفرنس سے باہر رہنا مناسب نہیں ہو گا البتہ اس کانفرنس میں بھارت کی شرکت پاکستان کے راہ کی ایک رکاوٹ بن سکتی ہے۔

پاکستان افغانستان میں قیام امن کا خواہاں ہے اور اس مقصد کے لیے پاکستان نے ہرممکن کوشش کی ہے۔ افغانستان میں پاکستان ایک اسٹیک ہولڈر ہے اور اس نے سوویت یونین کی فوجوں کو اس ملک سے نکالنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بھی پاکستان نے کلیدی کردار ادا کیا لیکن بھارت نے اس معاملے میں کچھ نہیں۔ اب افغانستان کی حکومت امریکا افغان امور میں بھارت کو بھی شامل کر رہے ہیں بہرحال تمام تر مشکلات اور رکاوٹوں کے باوجود پاکستان کا افغانستان میں ایک موثر کردار ہے۔ امریکا کے بااثر حلقے اس حقیقت کو تسلیم کرتے ہیں کہ پاکستان اب بھی طالبان کو مذاکرات کی میز پر لانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ افغانستان کے امور پر گہری نظر ڈالی جائے تو یہ حقیقت عیاں ہوتی ہے، افغانستان کے معاملات کو خراب کرنے میں امریکی پالیسیوں کا بھی حصہ ہے۔

امریکا کی مضبوط لابی بھارت کو افغان امور میں زبردستی لائی ہے حالانکہ افغانستان میں لڑنے والے طالبان اور افغان عوام میں بھارت کو مقبولیت حاصل نہیں ہے۔ افغانستان پر برسراقتدار لابی بھی بھارت کا سہارا لیتی ہے جس کی وجہ سے صورت حال مزید خراب ہوتی ہے۔ طالبان اب بھی افغانستان کی موثر قوت ہے اور وہ سرکاری اہداف کو نشانہ بنا رہے ہیں۔ یوں دیکھا جائے تو افغانستان کی صورت حال کو پیچیدہ بنانے میں امریکی پالیسیوں کا ہاتھ زیادہ ہے۔ بہرحال 6 جون کو افغانستان میں امن کے لیے جو کانفرنس ہو رہی ہے، دیکھنا یہ ہے کہ وہ اس حوالے سے کیا حکمت عملی اختیار کرتی ہے۔ پاکستان کو اس صورت حال پر گہری نظر رکھنی چاہیے۔