کابل میں دہشت گردی 80 افراد ہلاک

دہشت گرد افغانستان میں کس حد تک فعال ہوگئے ہیں کہ اب وہ صدارتی محل کے قریب تر بآسانی پہنچ سکتے ہیں


Editorial May 31, 2017
۔ فوٹو: اے ایف پی

KARACHI: دہشت گردی کا بے لگام عفریت دنیا بھر میں معصوم لوگوں کو اپنا نشانہ بنانے میں مصروف ہے۔ بدھ کو افغانستان کے دارالحکومت کابل میں دہشت گردوں نے اپنے ''خودکش حربے'' کا سہارا لے کر کئی بے گناہوں کو موت کے گھاٹ اتار دیا۔ قابل غور امر یہ ہے کہ دھماکا جس مقام پر کیا گیا وہ کابل کا انتہائی اہم علاقہ ہے اور یہاں غیر ملکی سفارت خانوں کے علاوہ صدارتی محل بھی واقع ہے، شہر کے وسطی علاقے میں شمار ہونے والے اس حساس ترین مقام پر دہشت گردوں کی پہنچ اور اپنے مذموم مقصد میں کامیابی تشویش ناک ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ دہشت گرد افغانستان میں کس حد تک فعال ہوگئے ہیں کہ اب وہ صدارتی محل کے قریب تر بآسانی پہنچ سکتے ہیں۔

بدھ کو جرمن سفارت خانے کے قریب خودکش کار بم دھماکے میں 80 افراد جاں بحق اور 300 سے زائد زخمی ہوگئے، دھماکے میں 50 سے زائد گاڑیوں کو بھی نقصان پہنچا ہے۔ پاکستانی دفتر خارجہ کے مطابق دھماکے سے پاکستانی سفارت خانے کے کچھ اہلکار بھی زخمی ہوئے ہیں اور ان کے گھروں کو بھی نقصان پہنچا ہے۔ افغان وزارت صحت کے مطابق بم دھماکے میں ہلاکتوں کی تعداد میں اضافے کا خدشہ ہے۔ اب تک کسی تنظیم نے دھماکے کی ذمے داری قبول نہیں کی ہے۔ بلاشبہ ابھی یہ واضح نہیں ہوا ہے کہ دہشت گردوں کا اصل ٹارگٹ کیا تھا لیکن ایسے حساس مقام پر جہاں اور بھی کئی غیر ملکی سفارتخانے، دفاتر اور اہم مقامات واقع ہیں، دہشت گردوں کا باآسانی خودکش وار کرجانا افغان حکومت کی آنکھیں کھول دینے کے لیے کافی ہے، جسے ان شرپسندوں کی بیخ کنی کے لیے فعال ہونا ہوگا۔

خطے میں دہشت گردوں کے خلاف جنگ میں پاکستان نے ایک فعال اور موثر کردار ادا کیا ہے اور بارہا پاکستان میں ہونے والی دہشت گردانہ کارروائیوں کے پیچھے افغان سرحد سے آنے والے گماشتوں کی نشاندہی پاکستان کی جانب سے افغان حکومت کو کرائی گئی لیکن افغانستان نہ صرف پاکستان کو مطلوب افراد فراہم کرنے سے گریزاں رہا بلکہ دہشت گردی کے خلاف جنگ اور افغان حکومت و طالبان کے درمیان ثالثی میں پاکستان کے کردار پر بھی شکوک کا اظہار کرتا رہا۔ افغان حکومت کو اپنے ملک میں لگی آگ بجھانے کے لیے اپنے طرز عمل پر نظر ثانی اور دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کا ساتھ دینا ہوگا۔ دہشت گردی دنیا کا وہ مشترکہ مسئلہ بن چکا ہے کہ اقوام عالم کو متحد ہوکر اس کا سامنا کرنا ہوگا۔