سینیٹر نہال ہاشمی کی غیر ذمے دارانہ تقریر

سینیٹر نہال ہاشمی سپریم کورٹ میں پیش بھی ہوئے اور عدالت عظمیٰ نے انھیں شوکاز نوٹس جاری کیا ہے۔


Editorial June 02, 2017
سینیٹر نہال ہاشمی سپریم کورٹ میں پیش بھی ہوئے اور عدالت عظمیٰ نے انھیں شوکاز نوٹس جاری کیا ہے۔ فوٹو: فائل

مسلم لیگ ن کے رہنما اور سینیٹر نہال ہاشمی کی غیرذمے دارانہ تقریر نے ملکی سیاست میں ہلچل پیدا کر دی ہے' انھوں نے اپنی تقریر میں جو لب و لہجہ اختیار کیا' اسے فہمیدہ حلقوں نے یقیناً پسند نہیں کیا' انھوں نے پاناما کیس کی تحقیقات کرنے والوں کو مخاطب کر کے جو کچھ کہا' وہ اشتعال انگیزی اور دھمکی کے زمرے میں آئے گا' ایسے موقع پر جب جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم پاناما کیس کے حوالے سے وزیراعظم کے صاحبزادوں سے تفتیش کر رہی ہے' اس قسم کی بیان بازی سے یہی تاثر لیا جائے گا کہ اس کیس کی تفتیش کرنے والوں کو پیغام دیا گیا ہے اسی لیے عدالت عظمیٰ نے سینیٹر نہال ہاشمی کی تقریر کا از خود نوٹس لیا ہے۔

گزشتہ روز سینیٹر نہال ہاشمی سپریم کورٹ میں پیش بھی ہوئے اور عدالت عظمیٰ نے انھیں شوکاز نوٹس جاری کیا ہے' ادھر سینیٹر نہال ہاشمی سینیٹ سے مستعفی ہو گئے ہیں جب کہ وزیراعظم میاں محمد نواز شریف نے ان کی پارٹی رکنیت بھی معطل کردی ہے' اخباری اطلاعات کے مطابق گزشتہ روز سینیٹر نہال ہاشمی پارٹی ڈسپلن اور غیرذمے دارانہ بیان پر تحریر وضاحت پیش کرنے کے لیے وزیراعظم ہاؤس گئے مگر وزیراعظم نے ان سے ملاقات نہیں کی' اس صورت حال سے یقینی طور پر حکومت اور مسلم لیگ ن نئی مشکل سے دوچار ہوئی ہے اور وہ سینیٹر نہال ہاشمی کی تقریر سے لاتعلقی کا اظہار کر رہے ہیں۔

بہرحال سیاسی رہنماؤں کو کسی ادارے' شخصیت یا ایشو پر بات کرتے ہوئے مسلمہ جمہوری اصولوں اور قانونی پہلوؤں کو مدنظر رکھنا چاہیے۔ کسی ایسے ایشو پر جو کسی عدالت میںزیرسماعت ہو یا کسی تحقیقاتی ٹیم کے زیر تفتیش ہو' اس کے حوالے سے غیر ذمے دارانہ گفتگو مختلف تنازعات کا باعث بنتی ہے۔

اپوزیشن جماعتیں سینیٹر نہال ہاشمی کی تقریر کو ان کے ذاتی خیالات یا جذبات میں آ کر کی گئی تقریر ماننے کے لیے تیار نہیں ہیں' وہ اس تقریر کو ایک سوچے سمجھے منصوبے کا حصہ قرار دے رہی ہیں اور انگلیاں وزیراعظم پر اٹھا رہی ہیں' بہرحال اب یہ معاملہ عدالت کے روبرو ہے' لہٰذا اس پر بیان بازی مزید کنفیوژن پیدا کرے گی' جہاں تک پاناما کیس کی تحقیق و تفتیش کا تعلق ہے تو اس پر مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کام کر رہی ہے۔

ایسے موقع پر تحقیقاتی ٹیم کے سامنے پیش ہونے والوں یا ان کے ہمدردوں کو چاہیے کہ وہ قانون کو اپنا راستہ بنانے دیں اور اپنی توجہ قانونی معاملات پر مرکوز رکھیں' ظاہر ہے کہ کسی بھی تحقیقاتی ٹیم یا عدالت نے فیصلہ ثبوتوں کی بنیاد پر کرنا ہے نہ کہ بیان بازی کی بنیاد پر۔