پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی

حکومت نے پٹرول کی قیمت میں کمی کر کے بظاہر عوام کو ریلیف دینے کی کوشش کی ہے


Editorial June 02, 2017
حکومت نے پٹرول کی قیمت میں کمی کر کے بظاہر عوام کو ریلیف دینے کی کوشش کی ہے۔ فوٹو: فائل

وفاقی حکومت نے جون کے لیے پٹرولیم مصنوعات کی نئی قیمتوں کا اعلان کر دیا ہے جس کے مطابق پٹرول کی قیمت میں1روپے20پیسے اور ڈیزل کی قیمت میں 1روپے60پیسے فی لیٹر کمی کر دی گئی'جس کے بعد پٹرول کی نئی قیمت 72روپے 80پیسے فی لیٹر ہوگی جو کہ اس سے پیشتر 74روپے تھی' مٹی کے تیل اور لائٹ ڈیزل آئل کی قیمت میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی جس سے دونوں کی فی لیٹر قیمت 44روپے برقرار رہے گی۔

وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ حکومت نے اپریل2016 سے اب تک تیل کی قیمتوں میں کوئی خاص اضافہ نہیں کیا اور ریونیو کا خاصا نقصان برداشت کیا' حالیہ مہینوں میں معمولی اضافہ کیا گیا' اوگرا نے ہائی اسپیڈ ڈیزل اور پٹرول کی قیمت میں جو کمی تجویز کی تھی اس میں سے جزوی کمی عوام کو منتقل کی گئی ہے تاکہ ریونیو کے نقصان پر کسی حد تک قابو پایا جا سکے۔

حکومت نے پٹرول کی قیمت میں کمی کر کے بظاہر عوام کو ریلیف دینے کی کوشش کی ہے لیکن سیاسی تجزیہ نگاروں کے مطابق عالمی مارکیٹ میں پٹرول کی قیمت اب بھی بہت کم ہے اور اس حساب سے پٹرول کی قیمت میں مزید کمی کی جانی چاہیے تھی مگر حکومت نے صرف 1روپے 20پیسے فی لٹر کمی کرکے کوئی معرکہ نہیں مارا۔ دوسری جانب پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کا ہر مہینے تعین معیشت پر منفی اثرات مرتب کر رہا ہے۔ جب پٹرول کی قیمت میں اضافہ ہوتا ہے تو عموماً پٹرول پمپوں پر عوام کو پٹرول کی سپلائی فوری طور پر روک دی جاتی ہے جس سے ملک بھر میں ایک بحرانی کیفیت پیدا ہو جاتی ہے۔

جس کا سیاسی طور پر نقصان حکومت کو پہنچتا ہے اور اپوزیشن بھی اس موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے حکومت کے خلاف محاذ گرم کر دیتی ہے۔ ہونا تو یہ چاہیے کہ ماضی کی طرح پٹرول کی قیمت کا تعین سالانہ بنیادوں پر کیا جائے اس سے معیشت میں روانی پیدا ہونے سے مارکیٹ میں مثبت اثرات جنم لیتے ہیں' تاجروں اور صنعتکاروں میں بے یقینی کی کیفیت پیدا نہیں ہوتی اور اشیاء کی قیمتیں بھی قابو میں رہتی ہیں۔ ہر مہینے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے تعین سے مہنگائی میں اضافہ ہو جاتا ہے' پٹرول کی قیمتوں میں کمی کے باوجود روز مرہ کی اشیاء کی قیمتوں میں کوئی کمی واقعہ نہیں ہوتی۔