شمالی علاقوں میں گلیشیئرز کا پگھلاؤ

ایک مسئلہ شمشال وادی میں گلیشیئر کے پگھلنے سے پیدا ہوا جس نے دریائے شمشال کا راستہ روک دیا


Editorial June 03, 2017
ایک مسئلہ شمشال وادی میں گلیشیئر کے پگھلنے سے پیدا ہوا جس نے دریائے شمشال کا راستہ روک دیا . فوٹو: فائل

وطن عزیزکے زیادہ لوگوں کے لیے اس بات میں کوئی تشویش کا پہلو نہیں ہو گا کہ بہت دور دراز کے شمالی پہاڑی علاقے قرا قرم کی چوٹیوں پر بنے ہوئے برف کے گلیشیئر پگھل رہے ہیں جو درحقیقت وطن عزیز کی فصلوں کے لیے آب پاشی 'انسانی اور حیوانی حیات کے لیے پینے کے پانی کا سب سے بنیادی وسیلہ ہیں لیکن گلوبل وارمنگ اور موسمیاتی تبدیلیوں کے منفی اثرات کے نتیجے میں گلیشیئرز کے پگھلاؤ میں غیرمعمولی تیزی آگئی ہے۔

جس کے نتیجے میں ایک تو سیلابوں کا خطرہ بڑھ گیا ہے اور دوسرے ان کا اضافی پانی بلااستعمال بہہ کر سمندر برد ہو جائے گا جو دونوں باتیں نقصان دہ ہیں۔ پاکستان کے شمالی پہاڑی علاقوں میں سیکڑوں کی تعداد میں گلیشیئر موجود ہیں جو کہ درحقیقت میٹھے پانی کے محفوظ ذخیروں کا کام انجام دیتے ہیں۔ موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے گلیشیئروں کے بے وقت پگھلنے سے میدانی علاقوں کے لیے پینے کے پانی کی قلت پیدا ہونے کا خطرہ ہے۔

ایک مسئلہ شمشال وادی میں گلیشیئر کے پگھلنے سے پیدا ہوا جس نے دریائے شمشال کا راستہ روک دیا اور وہاں پر ایک جھیل بن گئی اسی طرح وادی ہنزہ میں بھی درجن بھر جگہوں پر گلیشیئر پگھل رہے ہیں جن کی وجہ سے یہ علاقے شدید خطرات میں گھر جائیں گے۔ گلیشیئر کے تیزی کے ساتھ پگھلنے سے بڑے بڑے پہاڑی تودے بھی گرنا شروع ہو جاتے ہیں جس سے آبادیوں کو شدید نقصان پہنچتا ہے۔ واضح رہے گلیشیئر پگھلنے کا عمل کافی عرصہ سے شروع ہو چکا ہے جس میں بتدریج تیزی آتی جارہی ہے اس لیے حکومت کا فرض ہے کہ وہ فوری طور پر ان علاقوں میں حفاظتی اقدامات شروع کرے اور انسانی اور حیوانی آبادی کو جس قدر محفوظ کر سکتی ہے، کرے۔