کیا بائیکاٹ ہی گرانفروشی کا علاج ہے

اگر یہی عوامی طرز عمل راست ہے تو پھر ریاست اور حکومت کی حیثیت کا کیا جواز ہے


Editorial June 04, 2017
اگر یہی عوامی طرز عمل راست ہے تو پھر ریاست اور حکومت کی حیثیت کا کیا جواز ہے فوٹو: ایکسپریس/فائل

سماجی رابطے کی ویب سائٹ کے ذریعے مہنگے پھلوں کے بائیکاٹ کی 3 روزہ مہم کے پہلے روز ہی پھلوں کی فروخت میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی جس کے باعث گراں فروشوں کی عقل ٹھکانے پر آ گئی ہے اور وہ پھل فروش جو قیمت میں ایک روپیہ کمی پر تیار نہ تھے اب 20 فیصد تک کم قیمت پر پھل فروخت کرنے کے لیے تیار ہیں۔

لاہور وکراچی سے شروع ہونے والی مہم کا دائرہ کار ملک کے دیگر شہروں میں پھیل چکا ہے، سوشل میڈیا، واٹس ایپ اور ایس ایم ایس کے ذریعے یہ مہم چلائی گئی تھی کہ شہری جمعہ، ہفتہ اور اتوار پھلوں کی خریداری کا بائیکاٹ کریں تا کہ مہنگے پھل فروخت کرنیوالے اپنا مال خراب ہونے سے بچانے کے لیے قیمتیں کم کرنے پر مجبور ہوں۔

صارفین کی جانب سے خریداری سے اجتناب پر یہ مثبت نتائج یقینا قابل ستائش ہیں لیکن یہ امر لائق تعزیر ہے کہ عوام اپنی مدد آپ کے تحت تو پھلوں کا بائیکاٹ کر رہے ہیں لیکن شہری و حکومتی ادارے اور پرائس کنٹرول کمیٹیاں اپنا کردار نبھانے میں مکمل طور پر ناکام رہی ہیں۔

عوام کے درد سے ناآشنا قدیم فرانسیسی ملکہ کا مشہور زمانہ جملہ ''روٹی میسر نہیں تو کیک کھائیں'' اشرافیہ اور ایوان بالا کی سوچ کا حقیقی عکاس ہے، بادشاہت سے ہٹ کر فی زمانہ جمہوری نظام میں بھی پاکستان میں اسی سوچ کے پروردہ سینیٹرز عوام کو مشورہ دیتے نظر آتے ہیں کہ ''ٹماٹر مہنگے ہیں تو کھانا چھوڑ دیں'' لیکن سوچنے کی بات ہے کہ کیا کھانے سے گریز اور خریداری سے بائیکاٹ ہی گرانفروشی کا صائب علاج ہے؟

اگر یہی عوامی طرز عمل راست ہے تو پھر ریاست اور حکومت کی حیثیت کا کیا جواز ہے؟ قابل افسوس امر یہ ہے کہ پھلوں کی خریداری کے بائیکاٹ کا خیرمقدم حکومتی ایوانوں میں موجود عوامی نمائندگان نے بھی زبانی کلامی بیانات سے تو خوب کیا لیکن عملی طور پر کہیں بھی ہلچل دکھائی نہیں دی، کسی بھی شہر میں حکومت کی جانب سے قیمتوں کے کنٹرول کی مہم نہ چلائی گئی۔

پھلوں کی خریداری کے بائیکاٹ کا عوامی فیصلہ قابل مستحسن ہے کیونکہ گرانفروشوں کی بے لگام مافیا کو نکیل ڈالنا لازم ہو گیا ہے لیکن پھلوں کے بائیکاٹ کی مہم مسئلے کا دیرپا حل نہیں، قیمتوں پر کنٹرول اور سرکاری نرخ پر عمل درآمد کی ذمے داری شہری انتظامیہ اور حکومتی اداروں پر عائد ہوتی ہے جو اپنی ذمے داریاں پوری کرنے میں تاحال ناکام ہیں۔ مذکورہ عوامی فیصلے کے بعد حکومت کو خواب غفلت سے جاگنا ہو گا اور عوامی دادرسی کی خاطر مہنگائی میں کمی کے لیے اپنا کردار نبھانا ہوگا۔