پاکستانی ’بی جے پی‘

اگر ایک صوبہ بن گیا تو پھر ملک کو چلیے انتظامی لحاظ سے ہی سہی تقسیم ہونے سے کون روکے گا


Abdul Qadir Hassan January 28, 2013
[email protected]

اب تو لگتا ہے آل انڈیا مسلم لیگ نے پاکستان اس کی بعد میں آنے والی ایک سیاسی جماعت پیپلز پارٹی کے لیے پیشگی بنایا تھا کیونکہ جب سے یہ پارٹی وجود میں آئی ہے اس نے پاکستان کے ساتھ کھیل کود میں اس کی ایسی تیسی کر دی ہے۔ پاکستان میں پارٹی کو بار بار اقتدار دیا گیا اور ہر بار اس نے اس ملک سے نہ جانے کب کا کوئی بدلہ ہی چکایا۔ پارٹی کو جزوی اقتدار تو حکومت بنانے سے بہت پہلے ہی مل گیا تھا جب اس کے بانی ذوالفقار علی بھٹو کو ایوب خان نے وزیر اور بیٹا بنا لیا اور بھٹو صاحب اسے ڈیڈی کہنے لگے۔

اس کے بعد دوسرے فوجی حکمران کے دور میں پارٹی کے بانی کو موقع ملا تو اس نے پاکستان کے دو ٹکڑے کرنے میں بنیادی کردار ادا کیا۔ بعدازاں پارٹی کو پاکستان میں بار بار اقتدار ملا۔ پہلے اقتدار کے آغاز میں ہی پارٹی حکومت نے ایوب خان کی دس سالہ صنعتی ترقی کو ختم کر دیا۔ صنعتوں کو قومیانے کے سلسلے میں بڑی صنعتوں کے علاوہ بالکل چھوٹی موٹی صنعتوں کو بھی قومیانے کے نام پر ختم کر دیا گیا۔ اس کے بعد کی حکومتوں میں بھی پارٹی کی پاکستانی خدمات کی فہرست بہت لمبی چوڑی ہے۔ تازہ اور رواں حکومت میں پارٹی نے عوام کا جو حال کر دیا، بدامنی، مہنگائی ضروریات زندگی کی نایابی اور بے روز گاری وغیرہ کو جس عروج پر پہنچا دیا ہے، اس ہنر میں کمال کرنے پر پارٹی کے حکمرانوں کو داد دینی چاہیے۔ ایک ٹیلی فونی پیغام موصول ہوا ہے کہ ایک نوجوان ایم بی اے میں داخلے کے لیے ایک مشہور تعلیمی ادارے میں پہنچا۔داخلے کا فارم لے کر پر کرنے لگا تو اس نے قریب کھڑے ادارے کے چوکیدار سے پوچھا لیا کہ آپ کو اس ادارے کے بارے میں بہت معلومات ہوں گی، آپ کی کیا رائے ہے۔

چوکیدار نے جواب دیا کہ جناب یہ بہت اچھا اور کامیاب ادارہ ہے، خود میں نے ایم بی اے اسی ادارے سے کیا ہے۔ پیپلز پارٹی کی کامیابیوں اور پاکستان پر اس کی مہربانیوں کا ذکر ہو رہا تھا، اب تازہ مہربانی پنجاب میں ایک اور صوبے کا قیام ہے۔ آپ کو معلوم ہو گا کہ بھارت میں ایک مشہور مسلمان دشمن جماعت کا نام بی جے پی (بھارتیا جنتا پارٹی) ہے۔ اب اس نئے صوبے کا نام 'بہاول پور جنوبی پنجاب' ہو گا جو انگریزی کے مخفف نام میں 'بی جے پی' بنے گا۔ چلیے یہ تو محض ایک اتفاق سمجھئے لیکن پنجاب کے جنوبی حصے سے سرائیکی صوبے کی آواز اٹھی جو ایک پرانی آواز ہے اور اٹھتی رہتی ہے لیکن پارٹی کی حکومت نے اس میں اضافہ کر کے بہاول پور اور میانوالی بھکر بھی شامل کر دیا ہے یعنی میانوالی کے عمران خان اب بی جے پی کے شہری ہوں گے۔

دیکھا گیا ہے کہ جب کوئی اس نوعیت کا علاقائی مسئلہ اٹھتا ہے تو اس علاقے کے عوام سوچے سمجھے بغیر اس کی تائید کرتے ہیں جیسے ان کا کوئی نیا انتظامی نام انھیں مالا مال کر دے گا۔ ہمارے مرحوم دوست اے ایم کے مزاری اسی علاقے کے ایم این اے تھے۔ میں ملتان جاتا تو ان سے ملاقات ہو جاتی جو بعد میں دوستی میں بدل گئی۔ میں امروز کا چیف ایڈیٹر تھا جس کا ملتان سے بھی ایڈیشن نکلتا تھا اور وہ یہاں کے سیاستدان تھے، ایک بار ملاقات کے وقت میں وہ تاخیر سے پہنچے تو میں نے پوچھا، سردار صاحب خیریت تو تھی۔ انھوں نے بتایا کہ وہ سرائیکی صوبے کی تحریک کے ایک جلسے میں تھے، تقریر تو انھوں نے صوبے کے حق میں کی کہ ان کی یہ سیاسی مجبوری تھی لیکن وہ سرائیکیوں سے اصل بات یعنی یہ نہ کہہ سکے کہ جب ہم اس علاقے کے بڑے لوگ خود مختار حکمران بن گئے تو ان کا جو حال کریں گے آج وہ اس کا سوچ بھی نہیں سکتے۔ اب تو ہم پر لاہور کی نگرانی اور مجبوری ہے، جب لاہور کی حکومت سے ہم لوگ آزاد ہوں گے تو ان سرائیکیوں کو نانی یاد آ جائے گی۔

اس طرح کی انتظامی اور کسی حد تک جغرافیائی تبدیلی بظاہر عام سی بات لگتی ہے لیکن بی جے پی کے قیام سے پورے ملک میں بدنظمی، بے چینی اور انتشار کی ایک ایسی رو چلے گی جس سے صرف پیپلز پارٹی ہی خوش ہو گی۔ ملک کی جغرافیائی سلامتی پہلے ہی قربان ہو چکی ہے۔ سقوط ڈھاکہ کا زخم کبھی مندمل نہ ہو گا۔ پاکستان کے موجودہ سیاسی انتشار میں اس پارٹی کا ہاتھ کون روکے گا اور ''بی جے پی'' کو نا منظور کون کہے گا۔ جو سیاسی پارٹیاں بی جے پی کی تائید کر رہی ہیں، ان پر خود کسی نئے صوبے کا الزام لگتا رہتا ہے۔

اگر ایک صوبہ بن گیا تو پھر ملک کو چلیے انتظامی لحاظ سے ہی سہی تقسیم ہونے سے کون روکے گا، پھر بلوچستان میں صوبے کیوں نہیں بنیں گے، کراچی کا صوبہ کون روکے گا، ہزارہ صوبے کا مطالبہ تو شروع ہے۔ اسی طرح کئی دوسرے مطالبے سامنے آ سکتے ہیں اور آ رہے ہیں، بدی تیزی سے پھیلتی ہے اور اس بدی کے پیچھے تو بھارت ہے اور امریکا ہے اور بچائو کے لیے وہ سیاسی پارٹیاں ہیں جو شعبدہ بازوں کی مدد سے ووٹ کی امید کر رہی ہیں۔ میں سوچ رہا ہوں کہ ایسے صوبے کا مطالبہ داغ دوں جو میرے لیے موزوں ہو لیکن افسوس کہ کوئی بھی علاقہ معاشی اعتبار سے اس لائق نہیں ہے فی الحال بھارت اور امریکا کو مبارک ہو۔ پاکستان ان کی مرضی کے مطابق چل رہا ہے۔

مقبول خبریں