کنٹرول لائن پر بھارت کی اشتعال انگیزیاں

حالات کا تقاضا یہ ہے کہ پاکستان دنیا میں اپنی پوزیشن کو بہتر بنانے کے لیے خارجہ سطح پر کام کرے


Editorial June 05, 2017
حالات کا تقاضا یہ ہے کہ پاکستان دنیا میں اپنی پوزیشن کو بہتر بنانے کے لیے خارجہ سطح پر کام کرے ۔ فوٹو؛ فائل

بھارتی فورسز نے کنٹرول لائن پر ایک بار پھر اشتعال انگیزی شروع کر دی ہے 'گزشتہ روز بھارتی فوج نے کنٹرول لائن پر تتہ پانی کے علاقے میں بلااشتعال فائرنگ کی۔ بھارتی فورسز نے کنٹرول لائن پر نیزہ پیر سیکٹر میں بھی فائرنگ کی تھی'بھارت کی اس فائرنگ کا پاکستانی فورسز نے سخت جواب دیا۔

ترجمان پاک فوج کے مطابق بھارتی فوج نے ایل اوسی کی خلاف ورزی کرتے ہوئے تتہ پانی کے علاقے میں اشتعال انگیزی کی تو پاکستانی فوج کی جانب سے جوابی کارروائی میں 5 بھارتی فوج ہلاک اورمتعددزخمی ہوگئے۔ بھارتی سیکیورٹی کے بنکرز تباہ کردیے ہیں،پاک فوج نے بھارت کے خلاف کارروائی کے ویڈیو کلپ بھی جاری کر دیے ہیں۔بھارت اس حوالے سے اپنی روایتی پالیسی پر گامزن ہے اور الٹا پاکستان پر الزامات عائد کر رہا ہے۔

ادھر یہ اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں کہ اقوم متحدہ نے کشمیر کی صورتحال کو تشویشناک قرار دیتے ہوئے کہاہے کہ پاکستان اور بھارت کو باہمی مسائل کا حال پرامن مذاکرات کے ذریعے تلاش کرنا چاہیے، بھارتی میڈیا کے مطابق اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انٹونیو گیوٹیریس کے ترجمان اسٹینفے دوچارک نے کہاکہ سیکریٹری جنرل کو ایل او سی پر فائرنگ کے تبادلے پر گہری تشویش ہے اور وہ اس معاملے کو بغور دیکھ رہے ہیں، انھوں نے کہا کہ جنوبی ایشیا کی دوبڑی جوہری طاقتوں کے درمیان کشیدگی خطے کے امن کے لیے انتہائی خطرناک ہے ، سیکریٹری جنرل انٹو نیو دونوں ممالک کے درمیاں کشمیر سمیت تمام حل طلب امور پر بات چیت کے خواہاں ہیں۔ انھوں نے کہا کہ عالمی ادارہ دونوں ممالک کے درمیاں بات چیت کے لیے ہر قسم کی معاونت کے لیے تیار ہے۔

اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کے حوالے سے جو کچھ میڈیا میں شایع ہوا ہے 'یہ روایتی نوعیت کا ہے' اقوام متحدہ کا ہر سیکریٹری اس قسم کے بیانات جاری کرتا رہا ہے لیکن اس کا بھارت پر کوئی اثر نہیں ہوا۔ مقبوضہ کشمیر میں کنٹرول لائن پر بھارت کی یہ پہلی اشتعال انگیزی نہیں ہے' ایسا وہ مسلسل کرتا چلا آ رہا ہے۔ بھارتی فوج کا اصل مقصد اس خطے میں جنگ کا ماحول پیدا کرنا ہے۔ ماضی میں بھارتی فوج نے سرجیکل اسٹرائیک کا شوشہ چھوڑا لیکن وہ اس کے اپنے ہی گلے میں پڑ گیا۔

پاکستان کی پالیسی ہمیشہ دفاعی نوعیت کی رہی ہے ' بھارتی اشتعال انگیزیوں کے جواب میں ہی پاکستان نے کارروائی کی ہے۔ بھارت کی ان کارروائیوں نے صورت حال کو تشویشناک بنا رکھا ہے۔ مقبوضہ کشمیر میں کشمیریوں کی جدوجہد آزادی مسلسل جاری ہے 'کشمیریوں کی اس جدوجہد آزادی کی شدت سے گھبرا کر بھارتی فوج کوئی مہم جوئی کر سکتی ہے ' پاکستان کو اس حوالے سے ایک دو ٹوک پالیسی اختیار کرنی چاہیے' فوجی حکمت عملی بھی تیار رہنی چاہیے اور اس کے ساتھ ساتھ خارجہ سطح پر بھی ایک جارحانہ پالیسی اختیار کی جانی چاہیے۔ اس پالیسی کے تحت امریکا 'یورپی حکومتوں 'روس اور چین کی حکومتوں کو صورتحال کی سنگینی سے آگاہ کیا جانا چاہیے۔

پاکستان کو یہ حقیقت ذہن میں رکھنی چاہیے کہ بھارت خارجہ سطح پر پاکستان کے خلاف مسلسل پروپیگنڈا کر رہا ہے 'بھارتی پالیسی ساز مشرق وسطیٰ میں بھی اپنا کام کر رہے ہیں 'یورپی حکومتوں کو اپنا ہمنوا بنانے کی جدوجہد میں مصروف ہیں جب کہ امریکا میں بھی ان کی لابی مسلسل حرکت میں ہے۔ بھارت چاہتا ہے کہ پاکستان کو سفارتی سطح پر تنہا کر دیا جائے لیکن اس کی یہ کوششیں اب تک کامیاب نہیں ہوئیں' ہمارے پالیسی سازوں کو یہ بات ذہن میں رکھنی چاہیے کہ بھارت اپنی ہی کوششوں کو ترک نہیں کرے گا بلکہ ان میں مزید شدت لائے گا۔

حالات کا تقاضا یہ ہے کہ پاکستان دنیا میں اپنی پوزیشن کو بہتر بنانے کے لیے خارجہ سطح پر کام کرے۔ اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل اور دیگر عالمی فورمز کو بھارتی عزائم سے بھی آگاہ کیا جائے اور کنٹرول لائن کی حالیہ صورت حال پر بھی بھرپور بریفنگ دی جائے۔ پاکستان کے ارد گرد حالات میں تیزی سے تبدیلی واقع ہو رہی ہے۔ افغانستان میں ہونے والی دہشت گردی کی حالیہ وارداتوں کے بعد صورت حال خاصی تبدیل ہو گئی ہے۔ بھارت افغانستان کے امور میں بھی داخل ہو رہا ہے اور اس معاملے میں اسے افغانستان کی حکومت اور امریکا کی تائید بھی حاصل ہے۔

بھارت کی یہ کوشش ہے کہ افغانستان میں پاکستان کے مفادات کا خاتمہ کر دیا جائے۔ پاکستان کو اس صورت حال کا گہری نظر سے جائزہ لینا چاہیے۔ پاکستان کے ارد گرد جو صورت حال جنم لے رہی ہے اس سے عہدہ برا ہونے کے لیے پاکستان میں سیاسی استحکام کی اشد ضرورت ہے۔ پاکستان میں سیاسی استحکام اور جمہوریت کا تسلسل ہی عالمی سطح پر بھارت کو دباؤ میں لا سکتا ہے۔