آنے والا نیا شو
ہم بھی نا ایک بات شروع کرتے تو دوسری طرف نکل جاتے ہیں
اس وقت ہم بڑے خوش ہیں کہ اس ملک کی ایک اہم ترین ہستی جناب زرداری نے ہماری ایک بات کی تصدیق کردی ہے آپ کو تو پتہ ہے کہ ہم ایک زمانے سے یہ بات کہہ رہے ہیں کہ پاکستان ایک بڑا اسٹیج یا تھیٹر ہے جس میں ہمیشہ ڈرامے جاری رہتے ہیں بلکہ ہمارا تو یہ بھی خیال ہے کہ پاکستان کی فلم انڈسٹری صرف اس وجہ سے ''مندی''جا رہی ہے کہ کہاں بے جان فلمیں جن کے لیے ٹکٹ بھی لینا پڑتا ہے اور سینما میں جانے کی تکلیف الگ جب کہ پورے ملک میں زندہ یعنی لائیو ڈراموں، فلموں اور تماشوں کی بھر پور سہولت موجود ہے۔
جناب زرداری نے بھی صاف صاف کہا ہے کہ ن لیگ اور پی ٹی آئی کا شو ختم اور اب ہماری پرفارمنس کی باری ہے،انھوں نے اپنے ''شو''کی کچھ جھلکیاں بھی دی ہیں جن سے اندازہ ہوتا ہے کہ شو میں ''ایکشن'' کا بھی بندوبست رکھا گیا ہے، فرماتے ہیں کہ ہم الیکشن مراکز میں بیٹھے رہیں گے اور نتیجہ لے کر اٹھیں گے۔ اس سے ہمیں انڈین فلموں کے کچھ انتخابی مناظر بھی یاد آئے ہیں جس میں کچھ امیدواروں کے نمایندے رزلٹ لے کر اٹھتے ہی نہیں بلکہ خود ہی ٹھپاٹھپ کرکے ''رزلٹ''بناتے بھی ہیں۔
خیر وہ تو شو شروع ہونے پر پتہ چل جائے گا کہ ایکشن ڈائریکٹر نے اس میں کتنا ایکشن اور کیسا ایکشن ڈالا ہوا ہے لیکن جناب زرداری کی یہ بات ہمارے لیے اہم ہے کہ دوسری کمپنیوں کے ڈرامے ختم اور ہمارا شو شروع۔ہم پوری طرح یہ بھی نہیں جانتے کہ اس تھیٹر میں شو دکھانے کا پروسیجر کیا ہے۔ تھیٹر دنوں کے حساب سے کرایہ پر لیا جاتا ہے یا آمدنی کا کوئی حساب کتاب چلتا ہے لیکن یہ تو ثابت ہوگیا ہے کہ یہ تھیٹر کسی ایک کا نہیں ہے بلکہ مختلف کمپنیاں اس میں اپنے شوز یا ڈرامے یا پروگرامز دکھا سکتی ہیں، ٹکٹ کا سلسلہ تو ہمیں معلوم ہے کیونکہ ہم خود بھی تماشائیوں سے ہیں کہ ہر کوئی بلکہ...مفت میں شو دیکھ سکتا ہے یعنی
ہر کہ خواہد گوبیا وہرکہ خواہد گوبگو
کبروناز وصاحب درباں دریں درگاہ سنت
یعنی جب چاہو جیسا کہ چاہو یا کوئی بھی ہو آکر تماشا دیکھ سکتا ہے، یہاں کوئی حاجب و درباں یعنی گیٹ کیپر یا ٹکٹ چیکر مین نہیں ہے، سیٹ وغیرہ کا بھی کوئی مسئلہ نہیں ، کھڑے کھڑے بیٹھے بیٹھے چلتے چلتے بھی اسے دیکھ سکتے ہیں، جلسے اور زمین تو موجود ہی ہے جب کہ تماشائی بھی سارے کے سارے زمین زادے ہی ہوتے ہیں۔ پاکستان کا توپتہ نہیں لیکن پڑوسی ملک میں ایسے بہت سارے چینل ہیں جو کرائے پر لیے اور دیے جاتے ہیں اور جن پر مختلف مذہبی'سماجی'طبی اور صنعتی کمپنیاں اپنا اپنا شو دکھا سکتی ہیں۔
ہم تو تماشائی ہیں وہ بھی خاک نشین یعنی فرشی نشست پر بیٹھ کر، اچک اچک کر دیکھنے اورسوچے سمجھے بغیر سیٹیاں بجانے والے، اس لیے نہیں جانتے کہ تھیٹر کی انتظامیہ کون ہے اور کیسے کیسے کیا کیا کرتی ہے، تھیٹر کا مالک کون ہے اور''باریاں''کون اور کس بھاؤ یا طریقے پر دیتا ہے، نمبر کا معاملہ یا ''بولی سسٹم''ہے لیکن اندازے سے کہہ سکتے ہیں کہ تھیٹر کا مالک بھی یقیناً ہوتا ہوگا، انتظامیہ اور باریاں دینے والا کوئی اسٹاف بھی ہوگا، پچھلے کچھ خاص کمرے بھی ہوں گے میک اپ روم' ڈریسنگ روم وغیرہ اور سب سے ضروری کوئی خزانچی اکاؤنٹنٹ وغیرہ'لیکن ہمیں اس سے کیا'ہمیں تو تماشا دیکھنا ہے سو دیکھ لیتے ہیں''خارش'دل کی مٹالیتے ہیں۔
جناب زرداری نے اتنے یقین سے اپنی باری کا اعلان کیا ہے تو یقیناً تھیٹر مالکان سوری انتظامیہ سے معاملات طے پاگئے ہوں گے، یہ ہم نے ''مالکان'' کے سلسلے میں جو ''سوری''کہا ہے یہ اس لیے کہا ہے کہ ابھی ابھی ہم کو ایک پرانے خاک نشین تماشائی سے پتہ چلا ہے کہ اس تھیٹر کے مالکان کچھ یتیم ویسیر گونگے بہرے بولے لنگڑے عوام ہیں جو کالا انعام کے نک نام سے معروف ہیں لیکن وہ صرف نام کے مالک ہیں ان کو صرف زمین کا بہت تھوڑا سا کرایہ دیا جاتا ہے وہ بھی نقدی بلکہ بھوک مہنگائی بے روزگاری اور کسمپرسی کی صورت میں 'وہ صرف اس میں خوش ہو لیتے ہیں کہ تھیٹر کے مالک ہم ہیں کیونکہ ان کو کچھ زیادہ درکار بھی نہیں ہے۔ ابتداء میں سنا ہے ان میں سے کچھ نے کچھ ملکیت جتانے کی کوشش کی تھی لیکن اتنے ڈنڈے پڑے اتنے ڈنڈے پڑے کہ شیخ چلی کے انڈے ہوگئے اور اب صرف جھنڈوں پر گزارہ کرتے ہی ویسے بھی ڈس ایبل ہیں اور تھیٹر کے گرد بڑا سخت پہرا رہتا ہے۔
ہم بھی نا ایک بات شروع کرتے تو دوسری طرف نکل جاتے ہیں، یہ بھی دراصل اس تھیٹر میں ہونے والے ڈراموں تماشوں اور کھیلوں کا اثر ہے کیونکہ اس میںایسا ہی ہوتا ہے، ڈرامے کا نام کچھ اور ہوتا ہے تھیم کچھ اور ہوتا ہے، پلاٹ کچھ اور ہوتا ہے کہانی کچھ اور ہوتی ہے اور پیش ہونے والا کھیل کچھ اور ہوتا ہے۔ مسئلہ تھیٹر میں زیادہ ڈرامے دکھانے والی کمپنی موسم لیگ ہر بار نئے اداکاروں اور نئی بیلسٹی کے ساتھ نئے ڈرامے کا اعلان کرتی ہے لیکن اداکاروں اور چہروں کے علاوہ سب کچھ وہی ہوتا ہے جو روز اول سے چل رہا ہے، اس کمپنی سے الگ ہوکر تین رنگوں والی کمپنی نے ابتداء میں بڑی دھوم مچائی تھی، ڈرامے کا نام تھا روٹی کپڑا اور مکان'دراصل ان دنوں پڑوس میں اس کے نام کی فلم اور اس کا یہ گانا بہت ہٹ ہوچکا تھا کہ
روٹی کپڑا اور مکان
مانگتا ہے ہر اک انسان
لیکن ڈرامہ چلا تو اس کا نام اسلام ،سوشلزم اور جمہوریت تھا۔
خیر چھوڑئیے لیکن اب ہمیں اندازہ ہے کیونکہ زرداری جو ڈرامہ لانچ کررہے ہیں اس میں اگر سچ سب کچھ نیا نہیں تو ہیرو تو یقیناً نیا ہے۔ کپور گھرانے کا رنبیر کپور سمجھ لیجئیے اور شائد ہیروئن'کامیڈین اور ولن بھی نئے ہوں'پردہ اٹھنے کی منتظر ہے نگاہ۔