برطانوی انتخابات آج ہونگے لیبر اور کنزرویٹو پارٹی میں کانٹے کا مقابلہ

 ایک ہزار خواتین امیدوارمیدان میں، 5 کروڑ ووٹر ووٹ ڈالیں گے۔


News Agencies June 08, 2017
درجن بھر پاکستانی اور مسلم خواتین کے پارلیمان پہنچنے کا امکان۔ فوٹو : فائل

لاہور: برطانیہ میں انتخابی معرکہ آج ہوگا، انتخابات میں کنزرویٹو اور لیبر پارٹی کے درمیان کانٹے کا مقابلہ متوقع ہے۔

حالیہ سروے کے مطابق کنزرویٹو 40، جبکہ لیبر 39 فیصد شہریوں سے ووٹ لینے میں کامیاب ہو سکتی ہے، الیکشن میں 1000 کے قریب خواتین امیدوار بھی حصہ لے رہی ہیں ان میں پاکستانی نژاد خواتین کی نمایاں تعداد شامل، انتخاب جیت کر درجن بھر پاکستانی اور مسلم خواتین کے پارلیمان میں پہنچنے کا امکان ہے۔ غیر ملکی میڈیا کے مطابق برطانیہ میں انتخابی معرکہ آج ہوگا۔ کنزرویٹو اور لیبر پارٹی کے درمیان کانٹے کا مقابلہ متوقع ہے۔

انتخابات میں تقریباً5 کروڑ ووٹرز پارلیمنٹ کے650 حلقوں سے اپنے نمائندوں کا انتخاب کریں گے۔ انتخابات میں وزیراعظم کے عہدے کیلیے کنزرویٹو پارٹی کی تھریسا مے اور لیبر پارٹی کے جیریمی کوربن کے درمیان کانٹے کا مقابلہ ہوگا۔

حالیہ سروے کے مطابق کنزرویٹو اور لیبر پارٹی میں صرف ایک پوائنٹ کا فرق رہ گیا ہے۔ کنزرویٹو 40، جبکہ لیبر39 فیصد شہریوں سے ووٹ لینے میں کامیاب ہوسکتی ہے۔ برطانیہ میں اس بار مخلوط حکومت بننے کا امکان زیادہ ہے۔

دوسری جانب لندن اور مانچسٹر میں حالیہ دہشت گردی کے واقعات کے بعد موجودہ وزیراعظم اور سابق وزیرداخلہ تھریسامے کی مقبولیت کا گراف بہت تیزی سے نیچے آیا ہے۔ انتخابات میں ایک ہزارکے قریب خواتین امیدوار بھی حصہ لے رہی ہیں، ان میں پاکستانی نژاد خواتین کی نمایاں تعداد شامل ہے، خواتین امیدواروں کے اعتبار سے حالیہ الیکشن تاریخی اہمیت کا حامل ہے۔ انتخاب جیت کر درجن بھر پاکستانی اور مسلم خواتین کے پارلیمان میں پہنچنے کا امکان ہے۔

تحقیقاتی ادارے ڈیموکریسی کلب کے اعداد و شمار کے مطابق برطانوی انتخابات میں حصہ لینے والی خواتین کی تعداد میں 1918 سے لے کر اب تک 30فیصد اضافہ ہوا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ لیبر پارٹی نے اپنی41فیصد سیٹوںکیلیے خواتین کو نامزد کیا ہے جبکہ اسکاٹش نیشنل پارٹی نے33فیصد، لبرل ڈیموکریٹس نے 30 فیصداور حکمران جماعت کنزرویٹیو پارٹی نے صرف29فیصد سیٹوں پر خواتین کو ٹکٹ دیے ہیں۔

لیبرپارٹی کی نمائندگی کرنیوالی پاکستانی نژاد خواتین امیدواروں میں برمنگھم سے شبانہ محمود، بولٹن سے یاسمین قریشی اورٹوٹنگ سے روزینہ الین خان شامل ہیں۔ انتخابات میں 650 سیٹوں کیلیے کل 3303 امیدوار حصہ لے رہے ہیں۔ کسی بھی پارٹی کو پارلیمان میں اکثریت حاصل کرنے کے لیے326سیٹوں کی ضرورت ہوتی ہے۔

واضح رہے کہ برطانوی سیاست میں2جماعتوں کو مرکزی حیثیت حاصل ہے، دائیں بازو کی کنزرویٹو پارٹی اور بائیں بازو کی لیبر پارٹی، دیگر پارٹیوں میں اسکاٹش نیشنل پارٹی، لبرل ڈیموکریٹس، ڈیموکریٹک یونیینسٹ، یوکپ، گرین پارٹی، ایس ڈی ایل پی شامل ہیں۔وزیراعظمتھریسامے کی پارٹی کو اس وقت 330اراکین پارلیمنٹ کیساتھ برطانیہ کی سب سے بڑی سیاسی جماعت کی حیثیت حاصل ہے۔

مقبول خبریں