درآمدی کاروں کی عمر میں کمی کا فیصلہ واپس لیا جائے موٹر ڈیلرز

ایج 3 سال کرنے کے باوجود اسمبلرز نرخ بڑھا رہے ہیں، فروخت میں 30 فیصد کمی کادعویٰ غلط ہے۔


Business Reporter January 30, 2013
صارفین کے آپشنز کم ہوگئے،5 سال پرانی گاڑیاں منگوانے دی جائیں، صدر وزیر اعظم سے اپیل۔ فوٹو:فائل

آل پاکستان موٹرڈیلرز ایسوسی ایشن نے صدر اور وزیراعظم کو ارسال کردہ اپیل میں لوکل کار اسمبلرز کی جانب سے کاروں کی قیمت میں اضافے کی جانب توجہ مبذول کراتے ہوئے استعمال شدہ کاروں کی درآمدی عمر 5سال کی حد بحال کرنے کی درخواست کی ہے۔

ایسوسی ایشن کے چیئرمین ایچ ایم شہزاد کے مطابق لوکل کار اسمبلرز نے استعمال شدہ کاروں کی درآمدی عمر کی حد 5 سال سے کم کرکے 3سال کرانے کے لیے اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) کو نئی کاروں کی قیمت میں 50 ہزار سے 1 لاکھ روپے تک کمی کی یقین دہانی کرائی تھی، ای سی سی کی جانب سے لوکل کمپنیوں کو نئی کاروں کی قیمت میں ڈیڑھ لاکھ روپے تک کمی کی ہدایت کی گئی تھی تاہم اس یقین دہانی کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ایک کمپنی نے قیمتوں میں 20ہزار روپے تک کا اضافہ کردیا، دیگر کمپنیاں بھی تقلید کرتے ہوئے قیمتوں میں اضافے کی منصوبہ بندی کرچکی ہیں۔



ایچ ایم شہزاد نے صدر اور وزیر اعظم کے نام اپنی اپیل میں کہاکہ صرف ایک کمپنی کی جانب سے قیمتوں میں 20 ہزار روپے فی یونٹ اضافے سے اس کمپنی کی سالانہ فروخت میں 2 ارب روپے کا اضافہ ہوگا، لوکل کمپنیوں نے گزشتہ سال بھی قیمتوں میں 4 سے 5 مرتبہ اضافہ کیا۔ ایچ ایم شہزاد نے لوکل کمپنیوں کی جانب سے نئی کاروں کی فروخت میں 30فیصد کمی کے اعدادوشمار کو غلط قرر دیتے ہوئے اپنی اپیل میں گزشتہ 3 سال کی مقامی فروخت کے اعدادوشمار بھی فراہم کیے ہیں۔

جن کے مطابق سال 2010 کے دوران مقامی کمپنیوں کی فروخت 1 لاکھ 30 ہزار 625 کاریں، سال 2011 کے دوران 1لاکھ 39 ہزار 700 کاریں اور سال 2012 کے دوران مقامی فروخت1لاکھ 37ہزار 424یونٹس رہی۔ اپیل میں کہا گیا ہے کہ استعمال شدہ کاروں کی درآمدی حد 5 سال سے کم کرکے 3 سال کیے جانے سے صارفین کیلیے کاروں کی خریداری کے آپشنز محدود ہوگئے ہیں۔ ایسوسی ایشن نے حکومت سے فی الفور استعمال شدہ کاروں کی درآمدی عمر کی حد بڑھا کر 5 سال کرنے کی درخواست کی ہے۔