لکھتے رہے جنوں کی حکایات خونچکاں
خوش فہمی کی جنت میں رہنے والے جب عوام کے پاس جائیں گے تو پتہ چلے گا کہ ہم جو ’’کڑوی‘‘ باتیں کرتے تھے وہ کتنی سچی ہیں۔
حالاں کہ طالبان کے ساتھ ہمارا کوئی تعلق تو کیا شناسائی بھی نہیں ہے بلکہ ویسا ہی معاملہ ان کے ساتھ بھی رہا ہے جو ان کے خلیفوں امریکا اور پولیس کے ساتھ رہا ہے اور ان تینوں کے بارے میں بزرگ فرما چکے ہیں کہ
حسینوں سے فقط صاحب سلامت دور کی اچھی
نہ ان کی دوستی اچھی نہ ان کی دشمنی اچھی
بلکہ اس دل جلے دو بیویوں کے شوہر کا معاملہ سمجھئے جس کی ایک بیوی کا نام پلوشہ اور دوسری کا گلہ تھا، دونوں ہر وقت لڑتی رہتی تھیں اور اکثر لڑائیوں میں شوہر عین درمیان میں ہوتا تھا اور دونوں اطراف سے برتنوں پتھروں اور چپلوں کا نشانہ اسی کا سر اقدس ہوتا تھا۔ ایک دن کسی نے پوچھا کہ ان دونوں میں بری کون ہے تو بولا
بیخ دے اوزی یو تربلہ
نہ پلوشہ خہ دہ نہ گلہ
یعنی خدا دونوں کو غارت کرے نہ پلوشہ اچھی ہے نہ گلہ ٹھیک ہے، معاملہ ہمارا بھی امریکا پولیس اور طالبان کے ساتھ بھی ہے لیکن کیا کیجیے کہ ہمارا قصہ بلکہ دکھڑا تقریباً طالبان جیسا ہی ہے، فرق صرف یہ ہے کہ طالبان امریکا کے پروردہ تھے، انھیں پالا پوسا انگلی پکڑ کر سکھایا اور پھر نہ صرف عاق کر دیا بلکہ دشمن نمبر ون بھی قرار دیا لیکن ہمارا امریکا جس نے ہمیں دشمن نمبر ون قرار دیا اس نے ہمیں نہ پالا ہے نہ پوسا بلکہ ہم نے ہی اسے پالا پوسا ہوا سمجھئے کیوں کہ ان کے تقریباً سارے ہی چٹے بٹے جو وزیر کہلاتے ہیں اور آج کل ممتاز قوم پرست رہنماء بنے ہوئے ہیں ان کو گھٹنوں چلنا ہم ہی نے سکھایا لیکن وہی بات ہوئی جو رحمن بابا نے اورنگزیب عالمگیر کے بارے میں کہی ہے کہ
اورنگزیب بھی ایک درویش تھا
جو درویشوں کی ٹوپی پہنے رہتا تھا
لیکن جب وقت بدل گیا
دیکھو اس نے اپنے بھائیوں کے ساتھ کیا کیا
خرم کے پورے گھرانے کو ایک ایک کر کے تہہ تیغ کیا
آپ جان گئے ہوں گے کہ یہ ہمارے صوبے خیبر پختون خوا پر حکمران پارٹی کا قصہ ہے جسے حکومت کیا ملی کہ بلی کے بھاگوں چھنکا ٹوٹا، چمگادڑ کو اچانک چمکتی دھوپ میں لایا گیا اسے اندھا تو ہونا ہی تھا اور پھر اندھے کو جب جھولیاں بھر بھر کر ریوڑیاں بھی مل جائیں تو جو بھی ہو جائے کم ہے۔ ہم تو ٹھہرے سدا کے منہ پھٹ اور زبان دراز ... کچھ سرزنش کی کہ بھائی ریوڑیاں ذرا دھیان سے بانٹو
رکھو کچھ اپنی بھی مژگان خوں فشاں کے لیے
لیکن کون سنتا ہے فغان درویش ... بلکہ درویش کے پیچھے کتے چھوڑے اور لکڑی لاٹھیاں لے کر دوڑے وہ تو خدا اجر خیر دے کہ ہمارے بھی کچھ پناہ دینے والے مہربان تھے اور ہیں ورنہ آج ہماری داستان تک بھی نہ ہوتی داستانوں میں، کچھ عجیب سا معاملہ ہے کہ جن پر بہت تکیہ تھا اور جن کو ہم نے اگایا پالا پوسا تھا اور پڑھایا سکھایا تھا وہی پتے زیادہ ہوا دینے لگے ایسی ہوا کہ طوفان لگے ہم حیران تھے کہ
ہم کہاں کے دانا تھے کس ہنر میں یکتا تھے
بے سبب ہوا غالب دشمن آسمان اپنا
آج وہ آسماں تھے اور ہم زمین ۔۔۔ نوبت یہاں تک پہنچی کہ میرٹ پر جو ہمارا حق بنتا تھا اس سے بھی محروم کر دیے گئے سب سے پہلے میڈیا کالونی میں ہمیں جو پلاٹ ملنا چاہیے تھا اسے کاٹ دیا گیا لیکن اس سے کوئی فرق نہیں پڑا کیوں کہ وہ نہیں جانتے تھے کہ چالیس پچاس شہر سے تعلق کے باوجود ہم آج تک شہر کے رہائشی کیوں نہیں بنے کیوں کہ ہمیں شہری ہونے سے اپنا پینڈو ہونا زیادہ پسند ہے اتنا کہ جب کسی کام کے لیے شہر جاتے ہیں تو اس وقت تک دل تنگ رہتا ہے جب تک گاؤں کے اپنے کچے گھونسلے میں نہ پہنچ جائیں کیوں کہ یہاں کے اپنے قبیلے اور شادی غمی ہمارے لیے ویسے ہیں جیسے مچھلی کے لیے پانی ہوتا ہے، چوں کہ اس سے پہلے ہم نے ضیاء الحق اور جنرل مشرف کے ایوارڈ ٹھکرائے تھے اس لیے کچھ شبھ چنتکوں نے بات چلائی کہ اب ہر لحاظ سے ہم لائف اچیومنٹ ایوارڈ کا حق رکھتے ہیں لیکن خدا کا کرنا دیکھئے اور انسان کی طوطا چشمی کہ ہمارے سب سے قریبی دوستوں بلکہ مریدوں نے ہی اس کی مخالفت کی کیوں کہ اب وہ نہ مرید تھے نہ انسان بلکہ وزیر بن گئے تھے بلکہ چرسی کے کباب بن گئے تھے۔ ایک چرسی بیٹھا کباب کھا رہا تھا کہ بجلی چلی گئی کھاتے کھاتے اس کے ہاتھ سے کباب کا ایک ٹکڑا نیچے گر گیا اس نے اندھیرے میں چارپائی کے نیچے ہاتھ تھپتھپایا تو کباب کی جگہ کوئی گندی چیز کباب سمجھ کر منہ میں ڈال لی لیکن ذائقہ تو مختلف تھا چناں چہ چلا کر بولا ... ارے کم بخت تو نے گرتے ہی اپنا ذائقہ بدل ڈالا
ہر قدم پر نت نئے چہرے چڑھا لیتے ہیں لوگ
دیکھتے ہی دیکھتے بدل جاتے ہیں لوگ
وہ تو اچھا ہے کہ کہیں کوئی نیکی کام آگئی کہ ہم ایکسپریس سے منسلک تھے ورنہ یہاں جو دال روٹی چل رہی ہے اس سے بھی محروم ہو گئے ہوتے، اگر کوئی مقامی چھوٹے موٹے اخبار میں ہوتے تو بیک بینی و دوگوش نکال دیے جاتے کیوں کہ اشتہارات کی ریوڑیاں اپنے سب سے قریبی ''دوست'' کی جھولی میں تھیں لیکن ایسا ہو بھی جاتا تو ہمیں کچھ فرق نہیں پڑنے والا تھا بلکہ ماضی میں ایسا کئی بار ہو بھی چکا ہے لیکن آباء اجداد نے وراثت میں ہمیں ایک ''دولت'' چھوڑ کے دی ہے اور وہ دولت چادر کے مطابق پیر پھیلانے کی عادت ہے۔ ماضی میں ایسا جب بھی ہوا ہے ہم نے جا کر اپنی کاشت کاری شروع کی اور پوری کے بجائے آدھی میں بھی خوش رہے
واعظ شہر چوں مہر ملک و شحنہ گزید
من اگر مہر نگارے بگز نیم چہ شود
شہر کے واعظ نے اگر بادشاہ اور سرکار کا مہر اپنے اوپر لگوا لیا تو کیا ہوا ہم اپنے محبوب کا مہر اپنے اوپر لگوا لیں گے، آخر میں وار جو ہوا وہ یوں تھا کہ ہم تو درویش ہیں اور درویش کے لیے کہا گیا ہے کہ اگر اس پر ایک ''در'' بند ہے تو دوسرا در تو کھلا ہوتا ہے یہ ہمیں معلوم ہی نہیں کہ آج کے لوگ صرف اپنا در ہی بند نہیں کرتے بلکہ پڑوسوں کو آواز دے کر باقی در بھی بند کرواتے ہیں۔ ہوا یوں کہ ہم نے اپنی ایک کتاب کی رونمائی گورنر صاحب سے کروانا چاہی بلکہ گورنر صاحب نے جناب احمد فراز کے چھوٹے بھائی ہونے کے ناطے خود ہی رونمائی کی پیش کش کی ... انتظامات شروع ہوئے شرکاء کی فہرست فائنل ہو گئی لیکن تقریب سے بیس گھنٹے پہلے پتہ چلا کہ تقریب ملتوی ہو چکی ہے۔ سوچا ٹھیک ہے گورنر صاحب مصروف آدمی ہیں لیکن بعد میں حقیقت کھلی کہ یہ تو یاروں کا کام تھا
تم سے بے جا ہے مجھے اپنی تباہی کا گلہ
اس میں کچھ شائبہ ''خوبی وزیر'' بھی تھا
بہرحال اب تو یہ سب کچھ قصہ قارینہ ہو گیا ہے آنے والی بات یہ ہے کہ خوش فہمی کی جنت میں رہنے والے جب اب عوام کے پاس جائیں گے تو پتہ چلے گا کہ ہم جو ''کڑوی'' باتیں کرتے تھے وہ کتنی سچی ہیں کیوں کہ کسی کو بھی اپنا چہرہ دکھائی نہیں دیتا جب تک آئینے کے سامنے نہ آئیں اور آئینہ اب سامنے آیا ہی چاہتا ہے بلکہ لگتا ہے کہ ان کو احساس بھی ہو چلا ہے اس لیے ''انتخابی اتحاد'' کے لیے کسی کو ڈھونڈ رہے ہیں تاکہ اپنی سیاسی ذرا کم ہو جائے
اسی باعث تو قتل عاشقاں سے منع کرتے تھے
اکیلے پھر رہے ہو یوسف بے کارواں ہو کر