المصطفیٰ ٹرسٹ اور چھڑی والا جرنیل
استعفیٰ دینے کے بعد میاں صاحب ان تینوں جرنیلوں سے گلے ملے اور پرتپاک انداز میں یہ نازک مرحلہ طے ہوا۔
ایک لیفٹیننٹ جنرل جو کور کمانڈر بھی رہا اور ایک خاص واقعہ کی وجہ سے بہت ہی مشہور بھی، چند بریگیڈئیر کرنل اور ان کے معاون سویلین، اس فوجی مقام و مرتبے کے چند لوگوں کو آپ ایک ساتھ دیکھیں تو آپ کا خیال کدھر جائے گا۔ ایک پاکستانی بے ساختہ کہہ اٹھے گا 'ایک اور مارشل لاء۔ اور کسی دوسرے پاکستانی کو اس بات پر کوئی تعجب نہیں ہو گا۔ چار طویل اور یاد گار فوجی حکومتیں اور اب بھی جب کوئی قومی الجھن درپیش ہو تو عوام کی طرف سے فوج کو پکارنے کا مطالبہ کیا جاتا ہے اور فوج مداخلت نہ کرے تو بعض لیڈروں کی طرف سے فوج کو ستو پی کر سو جانے کا طعنہ۔ اس قومی ذہنی پس منظر اور ملک کے گزشتہ تاریخی حالات کو ذہن میں رکھیں اور جب کسی کور کمانڈر وہ اب ریٹائر ہی سہی، کی کمان میں درجہ بدرجہ عہدوں کے فوجی افسر آپ کے سامنے ہوں تو آپ پر مارشل لاء طاری نہیں ہو گا تو کیا ہو گا۔
اس کور کمانڈر کی فوجی اور سیاسی چھڑی بہت مشہور ہے جس کا ذکر بعد میں کروں گا فی الحال میرا یہ تعجب کہ جب یہ سب لوگ میرے غریب خانے میں تشریف لائے اور معلوم ہوا کہ یہ سب خدمت گزاری یعنی ویلفیئر کے ایک ادارے کے کرتا دھرتا اور رضا کار ہیں تو میں نے فوراً عرض کیا کہ آپ تو مارشل لاء لگایا کرتے ہیں یہ خدمت خلق یعنی ایک این جی او والا کیا معاملہ ہے جو دیہاتی اور شہری علاقوں کے غریب لوگوں کے علاج کرتی پھرتی ہے اور پنشن کی وصولی کے بعد یہی کام کرتی ہے۔ جنرل غلام محمد ملک نے بڑی شفقت اور شوق کے ساتھ اپنی بہبودی کی تنظیم ''المصطفٰے ٹرسٹ'' کا تعارف کرایا اور ایک فہرست دی جس سے اندازہ ہوا کہ نہ صرف دیہی علاقوں بلکہ لاہور اور راولپنڈی جیسے شہروں میں بھی علاج گاہیں موجود ہیں۔
فوج کے ان اعلیٰ افسروں نے پھوں پھاں بہت دیکھ لی، لاتعداد سلامیاں اور پریڈیں بھی ملاحظہ کر لیں حکمرانی بھی دیکھ لی اب یہ اس سرکاری ڈیوٹی سے فارغ ہو کر پھر سے سویلین بن گئے ہیں۔ جہاں سے فوجی افسری کی زندگی شروع کی تھی وہیں سے اب ان لوگوں کی خدمت شروع کر رہے ہیں جن کو انھوں نے اپنی دیہی زندگی میں خوب دیکھا اور یاد رکھا۔ فوجی افسری کی تام جھام میں اپنے گھر کو نہیں بھولے، گائوں کی زندگی کو یاد رکھا اور ان دکھوں کو جن سے دیہات کے غریب دوچار ہوتے ہیں اور انھیں کوئی پوچھتا نہیں ہے۔ فوج کے ان اونچے ریٹائرڈ افسروں نے اپنی زندگی ملک کی دفاعی خدمت میں گزاری اور اب جو بچ گئی ہے وہ غریبوں کے دفاع میں بسر کرنے کا عزم رکھتے ہیں۔ پاکستان کے بڑے شہروں مثلاً راولپنڈی اسلام آباد کراچی لاہور وغیرہ میں ادارے کے ٹرسٹی موجود ہیں جو وقت بھی دیتے ہیں اور چندے بھی جمع کرتے ہیں۔ ٹرسٹ نے علاج معالجے کا اعلیٰ معیار قائم کیا ہے اور جدید مشینوں کے ذریعے بھی مریض کو طبی مدد دی جاتی ہے۔ ملک سے باہر بھی لندن اور امریکا کے کئی دوسرے شہروں میں بھی لوگ کام کر رہے ہیں۔
ایسے خیراتی مگر مہنگے اداروں کو مدد کی ضرورت بہت پڑتی ہے۔ یہ انسانی علاج معالجے پر سمجھوتہ نہیں کرتے۔ صاف ستھرے صحت کے مرکز، ان کا باقاعدہ تربیت یافتہ عملہ، خالص دوائیں سب مفت، صرف وہ لوگ جو تھوڑی بہت توفیق رکھتے ہیں وہ کچھ دے دیں تو ان کی مہربانی ورنہ کسی سے کوئی چندہ وغیرہ طلب نہیں کیا جا سکتا۔ میں ایسے اداروں کے بارے میں نہیں لکھا کرتا دو چار بار دھوکہ کھا چکا ہوں کہنے کو ہر ادارے کے چلانے والے بہت باتیں کرتے ہیں لیکن اتنی فرصت کہاں کہ کوئی چیک کرے، میں المصطفے ٹرسٹ کے بارے میں آپ کو تسلی دلاتا ہوں کہ صدقہ و خیرات اور کسی قسم کی مالی مدد غریبوں کی خدمت میں ہی جائے گی۔ پاکستان میں البرکہ بینک دی مال راولپنڈی اکائونٹ نمبر36-60-00-00013، میزان بینک چک لالہ 0100-14337 اور عسکری بینک چک لالہ اسکیم راولپنڈی اکائونٹ نمبر0101-00331-1 ہم پاکستانی خیرات کرنے میں فیاضی سے کام لیتے ہیں یہ ادارہ بھی ہماری امداد کے مستحقین میں سے ہے۔
اب تھوڑی سی بات جنرل جی ایم ملک صاحب کے بارے میں اس مشہور زمانہ واقعے کی جو میاں نواز شریف وزیراعظم سے استعفیٰ لینے کے وقت میز پر چھڑی مارنے سے متعلق پیش آیا۔ اس میٹنگ میں صرف جنرل کاکڑ کمانڈر انچیف اس وقت کے کور کمانڈر جنرل جی ایم ملک اور آئی ایس آئی کے چیف جنرل جاوید اشرف یہ تین موجود تھے۔ کسی کو میز پر چھڑی مارنے کی ضرورت ہی نہیں پڑی۔ بلکہ استعفیٰ دینے کے بعد میاں صاحب ان تینوں جرنیلوں سے گلے ملے اور پرتپاک انداز میں یہ نازک مرحلہ طے ہوا۔ جنرل ملک صاحب کہہ رہے تھے کہ ہم لوگ جب کسی میٹنگ میں جاتے ہیں تو ٹوپی اور چھڑی باہر میز پر رکھ دیتے ہیں، اگر مشکل پیش آئی تو میاں صاحب اور صدر غلام اسحق کی ملاقات میں۔
میاں صاحب کا اصرار تھا کہ صدر صاحب اخلاق کے ساتھ پیش آئیں ورنہ وہ نہیں ملیں گے۔ چنانچہ جنرل کاکڑ صدر صاحب سے ملے کچھ علاقائی تعلق تھا اور کچھ دور پار کی رشتہ داری بھی۔ انھوں نے صدر صاحب کو بڑی مشکل سے ملاقات اور نرمی برتنے پر راضی کیا۔ یہ تسلی کر لینے کے بعد میاں صاحب صدر صاحب سے ملے لیکن میز پر دھمکی کے انداز میں چھڑی مارنے کا قصہ پتہ نہیں کیسے مشہور ہو گیا اور بہت ہی زیادہ یہ جنرل جی ایم ملک صاحب کی روایت ہے جو تین میں سے ایک تھے۔ میں نے احتیاطاً اسے رپورٹ کیا ہے۔ باقی کے دونوں شرکاء زندہ ہیں۔ موقع محل نہیں تھا ورنہ میں جنرل صاحب سے باتیں تو بہت کرنا چاہتا تھا بہر کیف زندگی باقی تو جنرل صاحب سے ملاقات ہوتی رہے گی۔ واقعہ کی مشہوری کا یہ حال ہے کہ جنرل صاحب امریکا گئے تو وہاں لوگوں نے پکڑ لیا کہ چھڑی کا واقعہ بتائیں۔