وزیراعظم کی جے آئی ٹی کے روبرو پیشی

نواز شریف کی پیشی پر سیاسی اور جمہوری حلقوں، قانونی ماہرین اور ن لیگ کے وزراء نے ملے جلے تاثرات و خیالات کا اظہار کیا


Editorial June 16, 2017
نواز شریف کی پیشی پر سیاسی اور جمہوری حلقوں، قانونی ماہرین اور ن لیگ کے وزراء نے ملے جلے تاثرات و خیالات کا اظہار کیا۔ فوٹو : اے ایف پی

جمعرات کو وزیراعظم محمد نواز شریف صبح 11بجے پاناما کیس میں جے آئی ٹی کے سامنے پیش ہو گئے، جوڈیشل اکیڈمی سے باہر آ کر انھوں نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ میری حکومت اور سارے خاندان نے خود کو احتساب کے لیے پیش کر دیا، انشااللہ میرا خاندان سرخرو ہو گا، انھوں نے اپوزیشن کو خبردار کیا کہ آیندہ سال اس سے بڑی عوام کی جے آئی ٹی بنے گی۔

ذرایع کے مطابق وزیراعظم سے مختلف معاملات پر پوچھ گچھ کی گئی، وزیر اعظم اپنے ہمراہ جے آئی ٹی کو مطلوب ریکارڈ بھی لے کر گئے،جے آئی ٹی کے فاضل ممبران کے سوالوں کے جواب دیے، وزیراعظم کی پیشی کے موقع پر غیر معمولی انتظامات کیے گئے تھے، 3ہزار سے زائد سیکیورٹی اہلکار تعینات تھے، علاقے میں سرچنگ و کومبنگ کا عمل مسلسل جاری رہا۔

ایک انگریزی معاصر روزنامہ نے اپنے نمایندوں کی رپورٹ میں واضح کیا کہ وزیراعظم کو ملزم کی حیثیت میں نہیں بلکہ بطور گواہ طلب کیا گیا تھا۔یوں بعض لوگوں کو باور آیا کہ یہ سویلین وزیراعظم کی رسوائی کا طے کردہ سفر نہیں بلکہ قانون کی صائب پیش قدمی تھی، تاہم نواز شریف کی پیشی پر سیاسی اور جمہوری حلقوں، قانونی ماہرین اور ن لیگ کے وزراء نے ملے جلے تاثرات و خیالات کا اظہار کیا، بعض نے اسے تاریخ رقم کیے جانے سے تعبیر کیا جب کہ اپوزیشن جماعتوں کی طرف سے قوم کو مبارک باد دی گئی کہ احتساب کے باب میں پاکستان کے لیے آج کا دن تاریخی ہے، کچھ سیاستدانوں نے پیشی کو ملک کے وزیراعظم کے لیے شرمناک قرار دیا۔

قبل ازیں بدھ کو سپریم کورٹ کے خصوصی بنچ نے حسین نواز کی جانب سے فوٹو لیک اور جے آئی ٹی میں وڈیو ریکارڈنگ کے خلاف درخواست پر فیصلہ محفوظ کرتے ہوئے قرار دیا کہ عدلیہ اور جے آئی ٹی کے خلاف جاری مہم سے بخوبی آگاہ ہیں لیکن دھمکیوں سے مرعوب نہیں ہوںگے، معاملہ کو قانون کے مطابق نمٹانے پر یقین رکھتے ہیں، جو جے آئی ٹی کے کام میں رکاوٹیں ڈال رہا ہے وہ سپریم کورٹ کی راہ میں رکاوٹیں ڈال رہا ہے، پاناما لیک کیس کی تحقیقات میں رکاوٹوں کو کسی صورت برداشت نہیں کریں گے۔ یہ آبزرویشن بدھ کو جسٹس اعجاز افضل کی سربراہی میں جسٹس عظمت سعید اور جسٹس اعجازالاحسن پر مشتمل خصوصی بنچ نے سماعت کے دوران دی۔

بلاشبہ ملک کے 70 سالہ تاریخی نشیب و فراز میں عوام نے جمہوریت و آمریت کی درد انگیز آنکھ مچولی دیکھی، اسمبلیاں بنتی ٹوٹتی رہیں، آئین و بنیادی حقوق معطل ہوئے، عدلیہ کو بے توقیر کیا گیا، لیکن آج پاکستان نے حقیقی کروٹ لی ہے جہاں تین بار وزیراعظم منتخب ہونے والے نواز شریف عدلیہ کے حکم کے تحت قائم مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (جے آئی ٹی)کے سامنے پیش ہوئے، مختلف سوالوں کے جواب دیے، قانون نے بالآخر اپنا رستہ بنا لیا اور اس میں سرخروئی قوم کی ہوئی جو سیاست کی تاریک سرنگ سے نکل کر ایک نئے عہد میں قدم رکھنے کی جستجو میں بے صبر ہوئی جا رہی ہے، میڈیا نے اپنا کردار ادا کیا ہے۔

سیاسی بلوغت کی نشانی ہے کہ کسی بحرانی کیفیت کے خدشہ نے سر نہیں اٹھایا، پوری قوم کی نظریں عدلیہ کے شفاف اور قانون و میرٹ پر آنے والے فیصلہ پر مرکوز ہیں، وہ سب ہاتھ اٹھائیں جنہیں رسم دعا یاد نہیں، بس جیت آئین کی ہونی چاہیے، کسی سے ناانصافی نہ ہو، عدلیہ کے فیصلہ سے جمہوریت کی استقامت مزید بڑھے، ملک بے یقینی کی دلدل سے نکلے۔ ابھی عدالتی و تحقیقاتی عمل جاری رہے گا، کئی سربستہ رازوں پر سے پردہ اٹھے گا،جے آئی ٹی نے وزیراعظم کے داماد کیپٹن (ر) صفدر کو بھی طلب کیا ہے، سینیٹر رحمٰن ملک کو بھی23 جون کو طلب کیا گیا ہے، انھیں حدیبیہ پیپر ملز اسکینڈل کی تحقیقاتی دستاویزات ساتھ لانے کی ہدایت کی گئی ہے۔

دریں اثنا الیکشن کمیشن آف پاکستان نے وزیراعظم میاں محمد نواز شریف کے اثاثوں کو درست قرار دیا، ادھر وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ جے آئی ٹی کی کارروائی کے حوالے سے کسی ادارے کوکام کرنے سے نہیں روکا ہے، سپریم کورٹ نے درخواست پرمتعلقہ اداروں سے جواب طلب کیا ہے ادارے اس کا جواب دیں گے، جے آئی ٹی کو جو ریکارڈ چاہیے وہ دینگے ۔

سپریم کورٹ نے تحریک انصاف کے خلاف غیرملکی فنڈنگ کے الزامات کے معاملے کو خود سننے کا فیصلہ کرتے ہوئے پی ٹی آئی اور عمران خان سے تحریری جواب طلب کر لیا ہے، عمران خان اور جہانگیر ترین کی اہلیت کے خلاف دائر درخواستوں کی سماعت کرتے ہوئے عدالت نے عہد ساز سوال اٹھایا کہ1962ء سے آج تک ایک بھی سیاسی جماعت کے ذرایع آمدنی کی چھان بین کیوں نہیں ہوئی؟ جب قانون نے الیکشن کمیشن کو سیاسی جماعتوں کے مالی معاملات کی جانچ پڑتال کا اختیار دیا ہے تو اس پر عمل کیوں نہیں ہوتا؟

بعد ازاں فیڈرل بورڈ آف ریونیو نے بتایا کہ پاناما کیس میں وزیراعظم نواز شریف اور ان کے خاندان کے دیگر لوگوں کے 1985ء سے اب تک کے دستیاب ریکارڈ کی بنیاد پر مبنی رپورٹ تیارکرنا شروع کر دی ہے۔ چنانچہ تاریخی طور پر چرچل کا مقولہ سچ ثابت ہوا جب انھوں نے کہا تھا کہ ''اگر عدالتیں کام کررہی ہیں تو کوئی شے غلط نہیں ہوسکتی۔'' اس مقولے کا اطلاق پاکستان کی صورتحال پر بھی ہونا چاہیے۔