شنگھائی تعاون تنظیم
تنظیم کے رکن ممالک کے درمیان اچھی ہمسائیگی پر بہت زور دیا جاتا رہے گا۔
قازقستان کے دارالحکومت آستانہ میں شنگھائی تعاون تنظیم کا اجلاس منعقد ہوا جس میں بھارت اور پاکستان کو تنظیم کی مکمل رکنیت دی گئی۔ تنظیم کے رکن ممالک کا یہ 17 واں اجلاس ہے، اس تنظیم کی اہمیت کا اندازہ اس حقیقت سے لگایا جا سکتا ہے کہ اس کے موجودہ اجلاس میں قازقستان کے صدر نور سلطان نظر بائیف، چین کے صدر شی چنگ پنگ، روس کے صدر ولادی میر پوتن، کرغستان کے صدر الماز بیک اتم بائیف، تاجکستان کے صدر امام علی رحمانوف، ازبکستان کے صدر شوکت مرزیوف، افغانستان کے صدر اشرف غنی، بیلاروس کے صدر الیگزینڈر لوکاشانکو، منگولیا کے صدر تسخیاجین البگدروج، اور بھارت کے وزیر اعظم نرندر مودی نے شرکت کی۔
پاکستان کے وزیر اعظم نواز شریف نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان تنظیم کے مکمل رکن کی حیثیت سے علاقائی امن و امان اور اقتصادی خوشحالی کے لیے مزید کوششیں کرتا رہے گا۔ انھوں نے کہا کہ ہمیں آیندہ نسلوں کے لیے عداوت نہیں دوستی کا ورثہ چھوڑنا پڑے گا۔
وزیراعظم نے کہا کہ ایس سی او کے ارکان کے درمیان کے مابین 5 سال کے لیے اچھی ہمسائیگی کا معاہدہ ہونا چاہیے یہ تجویز چین کے صدر نے پیش کی تھی جس کی حمایت پاکستان کے وزیر اعظم نے کی۔ نواز شریف نے کہا کہ اپنی توسیع کے ساتھ تنظیم حقیقی طور پر بین البراعظمی تنظیم بن چکی ہے جو آنے والے دنوں میں یہ تنظیم ایشیا بحرالکاہل، مشرقی ایشیا، مغربی ایشیا اور اٹلانٹک ریجن میں مضبوط رابطے کا کام انجام دے گی۔ یہ تنظیم عالمی سیاست اور اقتصادیات کا اہم مرکز بننے جا رہی ہے۔
نواز شریف نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں جو کچھ ہو رہا ہے، اس پر مجھے سخت تشویش ہے عمر عبداللہ اور بھارت کے سابق آرمی چیف کے بیانات بھی مقبوضہ کشمیر کے حالات کے غماز ہیں۔ بھارتی فوج نہتے کشمیریوں کی آواز کو نہیں دبا سکتی۔ چینی صدر نے کہا کہ ایس سی او کے رکن ممالک معلومات کے تبادلے اور دہشتگردی کے خاتمے کے لیے متحد ہو جائیں کیونکہ سلامتی ترقی کی اولین شرط ہے انھوں نے دہشتگردی کے خلاف جنگ کے لیے ایک تین سالہ پروگرام تشکیل دیا۔ دہشتگردی کے خاتمے اور خطے میں امن کی ضرورت پر بھی زور دیا۔
دنیا میں مختلف علاقائی تنظیمیں بھی موجود ہیں جن کا مقصد رکن ممالک کے درمیان بہتر تعلقات کے علاوہ اقتصادی تعاون اور ترقی بھی ہے۔ جنوبی ایشیا میں سارک کے نام سے اس علاقے کے عوام کی ترقی کے لیے جو تنظیم بنائی گئی ہے وہ عملاً غیر فعال اس لیے بن کر رہ گئی ہے کہ اس تنظیم میں شامل دو بڑے ملک بھارت اور پاکستان ایک دوسرے کے رقیب روسیاہ بنے ہوئے ہیں اور اس کی وجہ بھی دونوں ملکوں کے درمیان 70 سال سے موجود مسئلہ کشمیر ہے۔ شنگھائی تنظیم کے موجودہ اجلاس میں بھی دونوں ملکوں کے سربراہ کشمیر کے حوالے سے الزامات اور جوابی الزامات لگاتے رہے۔
شنگھائی تعاون تنظیم کے مقاصد میں بہتر ہمسائیگی کا ذکر بھی موجود ہے لیکن بدقسمتی سے اس تنظیم کے دو بڑے ملکوں ہندوستان اور پاکستان کے درمیان بہتر ہمسائیگی کے بجائے 70 سالوں سے ایسی بدتر ہمسائیگی موجود ہے جس کی وجہ سے دونوں ملک مسلسل کشیدگی، تناؤ اور جنگوں کا شکار رہے ہیں۔ ہمیں نہیں معلوم کہ شنگھائی تعاون تنظیم کے مقاصد میں رکن ممالک کے درمیان اختلافات دور کرانے کی گنجایش ہے یا نہیں، لیکن اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ ان دونوں ملکوں کے درمیان پائے جانے والے شدید اختلافات شنگھائی تعاون تنظیم کی راہ میں مشکلات پیدا کرتے رہیں گے۔
تنظیم کے رکن ممالک کے درمیان اچھی ہمسائیگی پر بہت زور دیا جاتا رہے گا۔ اس حوالے سے چینی وزیر اعظم نے ایک معاہدے کی تجویز بھی دی ہے لیکن کیا یہ ممکن ہے کہ دو ملکوں یعنی ہندوستان اور پاکستان کے درمیان 70 سالہ کشیدگی تین بڑی جنگوں اور آئے دن کی سرحدی جھڑپوں کی موجودگی میں بہتر ہمسائیگی کی بیل منڈھے چڑھ سکے گی؟
شنگھائی تنظیم کے مقاصد کے حصول کے لیے رکن ممالک کے درمیان موجود شدید اختلافات کو ختم کیے بغیر نہ یہ تنظیم یکسوئی سے کام کر سکتی ہے نہ اس کے مقاصد حاصل ہو سکتے ہیں۔ اس تناظر میں شنگھائی تعاون تنظیم میں ایک ایسا میکنزم ضروری ہے جو رکن ممالک کے درمیان تنازعات کا منصفانہ حل تلاش کر سکے۔
تنظیم کے درمیان رکن ممالک کے اختلافات سے یقینی طور پر تنظیم کی کارکردگی متاثر ہوتی ہے اس کی ایک زندہ مثال سارک کی تنظیم ہے جس کے اجلاس تک بھارت اور پاکستان کے درمیان موجود رقابت کی وجہ سے ملتوی ہوتے رہتے ہیں۔ اس کلچر کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ حکمران طبقات کو اپنے علاقے کے عوام کی اجتماعی فلاح و بہبود سے دلچسپی نہیں بلکہ سرمایہ دارانہ نظام کے شاطرانہ فلسفے ''قومی مفادات'' ان کی اولین ترجیح ہوتے ہیں اور سرمایہ دارانہ جمہوریت میں قومی مفادات کا مطلب اپنے اپنے ملکوں کی اشرافیہ کے مفادات ہوتے ہیں۔
سرمایہ دارانہ جمہوریت کے چیمپئن قومی مفادات کا حربہ ہمیشہ طبقاتی مفادات کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ اگر ہندوستان اور پاکستان کے عوام سے دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات کے حوالے سے سوال کیا جائے تو 90 فیصد سے زیادہ عوام یہی جواب دیں گے کہ دونوں ملکوں کے درمیان بہتر ہمسائیگی کے تعلقات ہونے چاہئیں لیکن نیابتی جمہوریت کا طریقہ واردات یہی رہتا ہے کہ وہ ایک بار دھاندلی اور دوسرے حربوں کے ساتھ انتخابات جیت کر جب اقتدار میں آتے ہیں تو عوام کی امنگوں کے برخلاف ایسی پالیسیوں پر عمل پیرا ہو جاتے ہیں جو عوام کے اجتماعی مفادات کے خلاف ہوتی ہیں۔
اس اشرافیائی جمہوریت میں نیشنل سیکیورٹی کے نام پر عوام کو عوام سے ملنے سے روکنے کے لیے طرح طرح کی بندشیں لگائی جاتی ہیں۔ شنگھائی تعاون تنظیم اگر عوام کی اجتماعی بھلائی پر یقین رکھتی ہے تو سب سے پہلے اسے رکن ممالک کے درمیان ویزے کی پابندیوں کو ختم کر کے ایک ملک کے عوام کو دوسرے ملکوں کے عوام سے ملنے کی آزادی مہیا کرنی چاہیے اور رکن ممالک کے درمیان تجارت میں ٹیکسوں کی مکمل چھوٹ کا اعلان کرنا چاہیے تا کہ کسٹم وغیرہ کی بھاری ڈیوٹیوں سے تاجروں کو نجات مل سکے اور عوام کو سستی اشیا کی فراہمی ممکن ہو سکے سرمایہ دارانہ نظام کے عوامی استحصال کو اس حوالے سے کم کیا جا سکتا ہے۔